چارسدہ باچاخان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کا حملہ

16 دسمبر کو آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد یہ دہشت گردوں کی جانب سے بڑے تعلیمی ادارے پر دوسرا ہولناک حملہ ہے


Editorial January 21, 2016
دہشت گرد ہمارے تعلیمی اداروں پر حملے کر کے ہماری نوجوان نسل کو ملک کے روشن مستقبل سے مایوس نہیں کرسکتے۔ فوٹو:فائل

وطن و انسانیت دشمن دہشت گردوں نے بدھ کو ملکی امن کی فضا سبوتاژ کرتے ہوئے چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کرکے ایک بار پھر پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں ۔

16 دسمبر کو آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد یہ دہشت گردوں کی جانب سے بڑے تعلیمی ادارے پر دوسرا ہولناک حملہ ہے جس میں اطلاعات کے مطابق 25 افراد شہید اور50 زخمی ہوچکے ہیں۔ حملے کے وقت یونیورسٹی میں 3 ہزار کے قریب طلبا جب کہ مشاعرے میں شرکت کے لیے تقریباً 600 مہمان آئے ہوئے تھے۔

ذرائع کے مطابق 4 حملہ آور گیسٹ ہاؤس میں چھپے ہوئے تھے اور وہیں سے یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔ حملے کے دوران طلبا کلاسوں جب کہ لڑکیاں ہاسٹل میں محصور ہوگئیں۔ حملے کے فوری بعد آئی ایس پی آر کی جانب سے دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے آپریشن شروع کرا دیا گیا، فضائی نگرانی بھی کی گئی اور وطن کے باہمت جوانوں نے بالآخر چاروں دہشت گردوں کو ہلاک کرکے یونیورسٹی کو کلیئر کرا لیا۔

حملے کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ڈی جی آئی ایس پی آر اور کور کمانڈر پشاور کے ہمراہ چارسدہ میں باچاخان یونیورسٹی پہنچ گئے زخمیوں کی عیادت کی اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق 8 سے 10دہشت گرد اندر موجود تھے، ان کی عمریں 18 سے 25 سال کے درمیان تھیں، وہ سویلین لباس میں تھے لیکن چہروں پر نقاب ڈالا ہوا تھا۔

آرمی پبلک ااسکول پر حملے کے ماسٹر مائنڈ عمر منصور نے حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے جب کہ ٹی ٹی پی جی دار گروپ سے اپنی وابستگی کا دعویٰ کیا ہے ادھر تحریک طالبان پاکستان خراسانی گروپ نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے خلاف شریعت قرار دیا اور کہا ہے کہ تحریک طالبان کا نام استعمال کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

دہشت گردوں کی جانب سے یہ حملہ انتہائی سفاکانہ اور وطن کی سالمیت پر حملے کے مترادف ہے۔ بلاشبہ دہشت گردوں کے خلاف ادارے فعال ہیں لیکن اگر اس حملے سے متعلق کوئی پیشگی اطلاعات تھیں تو انٹیلی جنس رپورٹس کیوں شیئر نہیں کی گئیں، اور حملہ آور اپنے ہدف تک کیسے پہنچ گئے۔

اطلاعات ہیں کہ حملہ آوروں نے خودکش جیکٹس پہنی ہوئی تھیں اور وہ دھماکے سے پہلے مارے گئے، اگر وہ دھماکا کرنے میں کامیاب ہوجاتے تو کہیں زیادہ تباہ کن صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا۔سیکیورٹی پر مامور اداروں کو سیکیورٹی کے حوالے سے ان کمزور پہلوؤں کا جائزہ لینا ہوگاکہ دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں کیوں کامیاب ہو جاتے ہیں، ایسے میں سیکیورٹی اقدامات سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ یونیورسٹی کے طلبا کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں واجبی سی سیکیورٹی ہے اور یونیورسٹی کی عقبی دیواریں بھی چھوٹی ہیں۔ ضروری ہوگا کہ تمام تعلیمی اداروں میں سخت سیکیورٹی کا انتظام کیا جائے۔

دہشت گردوں نے جامعات اور اسکولز کو ہدف بنایا ہوا ہے، اس لیے زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔چار سدہ حملے کے بعد عبدالولی خان یونیورسٹی کے تمام کیمپس غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیے گئے، جب کہ پنجاب کے تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی بھی سخت کردی گئی ہے۔ وطن دشمن عناصر اور شرپسند امن کے درپے ہیں، ایسے میں کسی جانب سے کوتاہی برتنا ملک کو سنگین خطرے سے دوچار کرسکتا ہے۔

گزشتہ روز خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں بھی کارخانو پھاٹک کے قریب خودکش دھماکے میں خاصہ دار فورس کے لائن افسر اور صحافی سمیت 12 افراد جاں بحق جب کہ 25 زخمی ہوگئے تھے، 6 گاڑیوں اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ بم ڈسپوزل یونٹ کے مطابق 10 سے 14 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا، جائے وقوع سے خودکش حملہ آور کا سر اور ٹانگیں ملی ہیں جب کہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ صدر مملکت ممنون حسین، وزیراعظم نواز شریف نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسی مذموم کارروائیوں سے عوام، حکومت اور فوج کے عزم کو کمزور نہیں کیا جاسکتا، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔

چارسدہ حملے پر صدر مملکت، وزیراعظم پاکستان، آرمی چیف اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے مذمتی بیان جاری کیے گئے ہیں۔ صدر مملکت کا کہنا ہے کہ دہشت گرد ہمارے تعلیمی اداروں پر حملے کر کے ہماری نوجوان نسل کو ملک کے روشن مستقبل سے مایوس نہیں کرسکتے اور وہ اپنے ناپاک عزائم میں ناکام رہیں گے۔

تاہم دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے،اب کسی انتہا پسند نیٹ ورک کو جارحیت اور خونریزی کا موقع نہیں ملنا چاہیے۔گلوبل ٹیررازم ڈیٹا بیس میری لینڈ یونیورسٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان سمیت دنیا کے مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں پر مزید دہشت گردانہ حملوں کا خطرہ ہے۔

اس سے صدر مملکت کے اس اندیشہ کی تصدیق ہوتی ہے کہ انتہا پسند ہماری نئی نسل کے تعلیمی مستقبل پر مسلسل شب خون مارنے کی سازش کرتے رہیں گے، چنانچہ ان کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے پوری قوم کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر دہشت گردوں سے اعلان جنگ کرنا ہوگا جب کہ سیکیورٹی حکام انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید مربوط اور مضبوط بنا کر دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنا سکتے ہیں۔