پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ناجائز منافع خوری

اخباری رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف ہوا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ناجائز منافع خوری کی جا رہی ہے۔


Editorial January 21, 2016
اخباری رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف ہوا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ناجائز منافع خوری کی جا رہی ہے، فوٹو؛ فائل

اخباری رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف ہوا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ناجائز منافع خوری کی جا رہی ہے جس کے مطابق خام تیل کی موجودہ عالمی قیمت کے لحاظ سے ملک میں پٹرول 44 روپے فی لیٹر زائد قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ پٹرول پر حکومتی منافع خوری عوام پر ماہانہ 28 ارب روپے کے بوجھ کا سبب بن رہی ہے جس میں 21 ارب روپے کے محصولات بھی شامل ہیں۔ قابل افسوس امر ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی دعوے دار وفاقی حکومت خود ہی عوام اور ریلیف کے درمیان رکاوٹ بن گئی جس سے ملک بھر میں اشیائے صرف کی قیمتیں بھی ایک ہی جگہ پر برقرار ہیں۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 30 ڈالر فی بیرل کی سطح سے بھی نیچے آ چکی ہے جو گزشتہ 12 سال کے دوران خام تیل کی کم ترین قیمت قرار پائی ہے، خام تیل کی قیمت سال 2003ء کی قیمت کے برابر آنے کے باوجود پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 2003ء کی سطح پر نہیں آ سکیں۔ بلاشبہ سال گزشتہ حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا لیکن یہ کمی بھی برائے نام تھی، عوام کی جانب سے یہ اعتراض بھی اٹھایا جاتا ہے کہ قیمتوں میں بڑھوتری تو کئی روپے جب کہ کمی محض پیسوں کی صورت میں کی جاتی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ عرب لائٹ خام تیل کی عالمی قیمتیں 23.44 ڈالر فی بیرل تک گر جانے سے پاکستان میں آیندہ ماہ پٹرولیم مصنوعات 14 روپے فی لیٹر تک سستی ہونے کا امکان ہے۔ 'کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک'۔ ماضی قریب میں بھی عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ پاکستان کے عوام کو نہ پہنچ سکا جب کہ یہاں مہنگائی کی شرح کو بھی پٹرولیم قیمتوں سے نتھی کر دیا گیا ہے، قیمتیں بڑھنے سے دیگر مصنوعات بھی مہنگی کر دی جاتی ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات پر عائد غیر معمولی ٹیکسوں کی وجہ سے بھی پاکستانی صارفین عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات سے محروم ہیں۔

ماہرین کے مطابق امراء سے ٹیکس وصول کرنے کے بجائے عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے، عوام ماچس کی ڈبیا سے لے کر پٹرول کے ہر قطرے پر ٹیکس دے رہے ہیں، عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم کر رکھا ہے۔ اشیائے صرف تیار اور فروخت کرنے والے تاجر پٹرول کی قیمت کو جواز بنا کر اپنی مصنوعات مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں جس سے عوام کے لیے گزربسر دشوار تر ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت کو نہ صرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ترین سطح پر لانا چاہیے بلکہ پٹرولیم قیمتوں کو جواز بنا کر ناجائز منافع خوری کرنے والے تاجروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا اور مہنگائی کی شرح کو کنٹرول کرنا ازحد ضروری ہے۔