ہندوتوا کا بھوت
بھارت ہمارا پڑوسی ملک ہے اور بدقسمتی سے دونوں ملکوں کی پوری تاریخ کشیدگی اور جنگوں سے بھری ہوئی ہے
ISLAMABAD:
بھارت ہمارا پڑوسی ملک ہے اور بدقسمتی سے دونوں ملکوں کی پوری تاریخ کشیدگی اور جنگوں سے بھری ہوئی ہے، اس پس منظر میں بھارتی سیاست اور وہاں ہونیوالے پرتشدد واقعات کا پاکستان پر اثر پڑنا ایک فطری اور منطقی بات ہے اس حوالے سے جب ہم بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک مایوس کن صورتحال سامنے آتی ہے۔
بھارت میں پاکستانی فنکاروں کے خلاف مظاہرے تو ایک عرصے سے جاری ہیں لیکن اب خود بھارتی فلم انڈسٹری کے سپر اسٹارز اور دلیپ کمار جیسے لیجنڈ اداکاروں کے خلاف متعصبانہ اور نفرت انگیز مظاہرے کیے جا رہے ہیں اور بھارت کے اہل قلم، اہل دانش ان خطرات کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس مذہبی انتہا پسندی سے نہ صرف بھارت کی نظریاتی اساس سیکولرزم خطرے میں پڑ جائے گا بلکہ بھارت ٹوٹ پھوٹ اور انتشار کی طرف چلا جائے گا۔
اسی دوران نئی دہلی میں پی آئی اے کے دفتر پر حملہ کیا گیا۔ادھر دہشتگردوں نے جن کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے نہ ملک پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر حملہ کر کے بھارت کے انتہا پسندوں کو نئی غذا مہیا کر دی۔ اس حملے کے خلاف پاکستانی حکومت پوری طرح بھارتی حکومت سے تعاون بھی کر رہی ہے ۔ اس کے باوجود بھارتی حکمران اور بھارتی وزیر دفاع غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو کھلی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
بی جے پی کا شمار کٹر مذہبی جماعتوں میں ہوتا ہے بیسویں صدی کی آخری دہائی میں بی جے پی کی قیادت اور سرپرستی میں اجودھیا کی بابری مسجد کوشہید کیا گیا اس احمقانہ اور متعصبانہ اقدام سے بھارت کے انتہا پسند حلقوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ انتہا پسند جماعتیں آزادی سے پر تشدد کارروائیاں کر رہی ہیں اور یہ بی جے پی کی نہ صرف نظریاتی اتحادی ہیں بلکہ حکومت کی بالواسطہ اعانت سے ایسے راستوں پر چل رہی ہیں جو پورے بھارت میں مذہبی فسادات کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ 1947ء میں ان ہی شیطانی طاقتوں کی وجہ سے وہ تاریخی فسادات ہوئے جن میں ایک اندازے کے مطابق 22 لاکھ بیگناہ انسانوں کو انتہائی بیدردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔
ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں کا شمار دنیا کے پسماندہ ترین ملکوں میں ہوتا ہے اس فکری پسماندگی کی وجہ سے دونوں ملکوں میں مذہبی انتہا پسند طاقتوں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ اس حوالے سے پاکستان پر بجا طور پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ روس کو افغانستان سے نکالنے کے لیے امریکا نے جو سازش تیار کی اس پر عملدرآمد کے لیے اس وقت کے پاکستانی ڈکٹیٹر ضیا الحق نے پوری طرح امریکا کا ساتھ دیا اور صرف پاکستان کے مذہبی انتہا پسندوں کو ہی نہیں بلکہ کئی مسلم ملکوں کے مسلم انتہا پسندوں کو اس خطے میں جمع کر کے مذہبی انتہا پسندی کی اس طرح کاشت کی کہ اس کی فصل آج خطے ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں لہرا رہی ہے۔
سیاسی مقاصد کے لیے مذہبی انتہا پسندوں کا استعمال ایک ایسی سنگین غلطی ہے جس کے سنگین نتائج کا ان ملکوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے جو دانستہ یا نادانستہ مذہبی انتہا پسندوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ آج امریکا سمیت جن مغربی ملکوں کو دہشتگردی اور مذہبی انتہا پسندی کا سامنا ہے یہ ان ہی گناہوں کی سزا ہے جن کا ارتکاب ان ملکوں نے روس کو افغانستان سے نکالنے کے لیے کیا تھا۔ پاکستان اس جرم کی سزا 50 ہزار پاکستانیوں کے قتل کی صورت میں بھگت چکا ہے۔
پاکستان اگرچہ دہشتگردی کا ایک مرکز بنا رہا لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کے عوام کی بھاری اکثریت مذہبی انتہا پسندی سے دور اعتدال پسند رہی اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی مذہبی جماعتیں نہ صرف اعتدال پسند رہیں بلکہ اپنی نظریاتی تبدیلی کے لیے انھوں نے جمہوریت کا راستہ اپنایا مذہبی جماعتوں کی اس سیاست کی وجہ سے پاکستان میں بالواسطہ طور پر مذہبی انتہا پسندی کے فروغ کی راہیں مسدود ہوئیں پاکستان کی وہ مذہبی جماعتیں جو جمہوریت پر یقین نہیں رکھتیں وہ البتہ مذہبی انتہا پسندی کے راستے پر چل پڑیں لیکن عوام کی طرف سے پذیرائی نہ ملنے کی وجہ انھیں بھی اعتدال پسندی کی طرف آنا پڑ رہا ہے۔
کشمیر کا مسئلہ البتہ انتہا پسند مذہبی جماعتوں کو کھاد فراہم کر رہا ہے لیکن 1965ء اور 1971ء کے تلخ تجربات نے پاکستان کے حکمرانوں کو کشمیر کے حوالے سے اعتدال پسندی کی طرف مائل کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کے انتہا پسند بھی محتاط ہو گئے تھے لیکن طالبان اور داعش کے نظریاتی پروپیگنڈے کی وجہ ماضی میں زندہ رہنے والے عناصر نے دوبارہ سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔
بھارت کا المیہ یہ ہے کہ بی جے پی نے بھارت کے سیکولرزم کو پھلانگ کر ہندوتوا کی طرف جو چھلانگ لگائی ہے اس چھلانگ نے خود اسے ایسی مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے کہ وہ ہندوتوا کو نہ نگل سکتی ہے نہ اگل سکتی ہے۔ نریندر مودی کا ماضی گجرات کے قتل عام کی وجہ بہت داغدار ہے اور بی جے پی میں موجود سنجیدہ عناصر کی ذمے داری تھی کہ وہ ایسے بدنام زمانہ شخص کو بھارت کا وزیر اعظم بنانے کے مضمرات پر غور کرتے لیکن ہندوتوا کی کشش نے ان سے سوچنے سمجھنے کی شاید صلاحیتیں چھین لی تھیں ۔
جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب اس کے لیے ہندوتوا سے سیکولرزم کی طرف واپس آنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن بھارت کے دانشوروں اہل فکر اہل قلم اور فنکاروں کی طرف سے اسے جس دباؤ کا اور بین الاقوامی سطح پر جس بدنامی کا سامنا ہے اس کے پیش نظر اسے مذہبی انتہا پسندی کا راستہ ترک کر کے اعتدال پسندی کی طرف آنا پڑے گا اگر بھارتی حکومت ایسا نہ کر سکی اور اس نے بجرنگ دل، آر ایس ایس جیسی جماعتوں سے تعلقات نہ توڑے تو بھارت کو نہ صرف سخت ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا بلکہ خدا نہ کرے برصغیر مذہبی فسادات کا اس طرح شکار ہو جائے گا کہ اس کے ٹوٹنے اور بکھرنے کے امکانات پیدا ہو جائینگے۔