اقتصادی راہداری ہرصورت مکمل کریں گے چین

عالمی میڈیا سی پیک کو متنازع بناناچاہتا ہے، بعض ممالک کوبلاوجہ تکلیف ہے،چھوٹانہیں بہت بڑاکوریڈورہے


Business Reporter January 23, 2016
کاروباری ملاقاتوں سے فائدہ ہوا،بات چیت منصوبے پراتفاق رائے کیلیے مفیدہوگی،پی بی سی پروگرام میں خطاب،میڈیاسے گفتگو،مرادعلیشاہ نے سرمایہ کاری کی دعوت دی فوٹو: فائل

چین اور پاکستان کے نجی شعبے نے 20 سے زائد پروجیکٹس میں مشترکہ سرمایہ کاری اور جوائنٹ وینچرز کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

چینی نجی شعبے کے 100 رکنی وفد کا دورہ پاکستان کامیاب رہا۔ واضح رہے کہ چین کا یہ وفد توانائی، انفرااسٹرکچر، ٹیکسٹائل، زراعت، انجینئرنگ، انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کے دورے پر تھا۔ جمعہ کو پاکستان بزنس کونسل کے زیراہتمام منعقدہ پروگرام میں چینی تجارتی وفد کے سربراہ شازوکانگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی میڈیا چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کو متنازع بنانے کی کوشش کررہاہے مگر اس منصوبے کو ہرصورت مکمل کیاجائے گا۔

جس سے پاکستان ایشین ٹائیگر بن جائے گا لیکن یہ پرامن ٹائیگر ہوگا، دنیافکر نہ کرے پاکستان گوشت نہیں سبزیاں کھانے والا پرامن ٹائیگر ہوگا، اقتصادی راہداری اسٹریٹجک پروجیکٹ ہے، یہ کوئی سازشی منصوبہ نہیں ، اس لیے اس سے کسی کو کوئی خطرہ محسوس کرنے کی ضرورت نہیں، عالمی میڈیا خواہ مخواہ اس اہم ترین منصوبے کو متنازع بنانے کے لیے کوشاں ہے تاہم عالمی میڈیا کو سنجیدہ نہیں لیاجا رہا ہے۔ انہوں نے منصوبے کی یقینی تکمیل اور شفافیت کے عزم کااظہار کرتے ہوئے کوئی نام لیے بغیر کہاکہ اس منصوبے سے کچھ ممالک کو خواہ مخواہ تکلیف ہورہی ہے۔

اس جدید دورمیں دنیا کے کسی بھی حصے میں ہونے والی کوئی بھی سرگرمی سیٹلائٹ کے ذریعے مانیٹر کرلی جاتی ہے، جب سیٹلائٹ کے ذریعے شمالی کوریا کے میزائل پروگرام کی مانیٹرنگ ہو سکتی ہے تو چین پاکستان اقتصادی راہداری کو بھی مانیٹر کیا جاسکتا ہے، یہ محض چھوٹا سا کوریڈور نہیں بلکہ بہت بڑا اور وسیع منصوبہ ہے۔

کراچی میں کاروباری ملاقاتوں کے مصروف دن کے اختتام پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چینی وفد کے سربراہ نے دورے کو بے حد کامیاب قرار دیا اور کہا کہ نجی شعبے کے سرمایہ کاروں پر مشتمل وفد اسلام آباد اور لاہور سے ہوتے ہوئے کراچی پہنچا اور کراچی میں کاروباری ملاقاتیں سب سے زیادہ مفید ثابت ہوئیں، اس دورے کے ذریعے دونوں ملکوں کے نجی شعبے کو قریب لانے اور براہ راست رابطہ استوار کرنے میں بے حد مدد ملی۔

اس دورے میں چین کے نجی سرمایہ کاروں کو پاکستان کو قریب سے جاننے، سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لینے اور حقیقی صورتحال کا اندازہ لگانے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفد میں شامل چینی سرمایہ کار غائبانہ طور پر پاکستان سے محبت کرتے تھے لیکن اب اس دورے کے بعد ان کی محبت بڑھ گئی ہے، دورے کے دوران مختلف شعبوں کے 20 سے زائد منصوبوں میں دونوں جانب سے دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے۔ پاکستان میں صوبائی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کے مابین اقتصادی راہداری کے روٹس پر اتفاق رائے نہ ہونے کے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ چینی حکومت یا سرمایہ کار پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دیتے جو پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی اہم وجہ ہے۔

منصوبے پر سیاسی جماعتوں اور صوبوں کے مابین پائیدار بنیادوں پر اتفاق رائے قائم کرنے کے لیے تبادلہ خیال اور منصوبے کے تمام پہلوؤں پر بات چیت مفیدثابت ہوگی، اس سے منصوبے کی تکمیل اور بہترین نتائج حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ پروگرام میں سندھ کے وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے اپنے خطاب میں صوبے میں سرمایہ کاری کے موجود مواقع کا ذکر کرتے ہوئے چینی سرمایہ کاروں کوسرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے بتایا کہ کوئلے کے علاوہ ونڈ پاور جنریشن منصوبے لگائے جا رہے ہیں ۔

جن سے بہت جلد بجلی کی سپلائی شروع ہوجائے گی، کراچی سے لگ بھگ ڈھائی سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کیٹی بندر کے مقام پر بندرگار کی تعمیر کا منصوبہ ہے جہاں سے ابتدائی طورپر ملک کی فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے کوئلہ درآمدکیا جائے گا تاہم تھر کول سے کوئلے کی ترسیل شروع ہوجانے کے بعد اسی بندرگاہ سے کوئلہ برآمد کیا جائے گا۔

ان کا کہناتھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے دور اقتدار میں چین کے 22دورے کیے اور موجودہ حکومت نے بھی رابطوں کے اس تسلسل کو برقرار رکھا ہے۔ ایڈیشنل سیکریٹری پلاننگ اینڈڈیولپمنٹ سندھ اعجاز علی خان نے کہاکہ سندھ میں زراعت اور انرجی سمیت کئی شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے بیرونی سرمایہ کاروں کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔