امرتسر یاترا …… کڑواہٹ ہی کڑواہٹ

یعنی میں نے تو صرف ’’دید‘‘ چاہی تھی اور اس نے اوپر سے ’’بوسہ‘‘ بھی دے ڈالا


Saad Ulllah Jaan Baraq November 02, 2012
[email protected]

ہمارا خیال تھا بلکہ خوش فہمی تھی کہ اب کے بھی ہماری بھارت یاترا ویسی ہی ہو گی۔

جیسی پچھلے سال بھوپال کی تھی، ویسی ہی صوفی کانفرنس یہ بھی ہو گی لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ، درمیان میں ایک کانفرنس بمقام لکھنؤ بھی ہوئی تھی جس میں ہم باوجود ویزہ لگنے کے محض اپنی وجہ سے شرکت نہیں کر پائے اور اب جو کانفرنس ہوئی، اس کے لیے اجیت کور نے امرتسر کا شہر چنا تھا، ویسے تو اس نے ہم پر یہ احسان بھی جتایا کہ پچھلی بھوپال کانفرنس میں چونکہ مسلسل ریلوے کے سفر اور پلیٹ فارموں کی سیڑھیوں پر چڑھنے اترنے سے ہمارے ''گھٹنے'' متاثر ہوئے تھے، اس نے ہماری ہی خاطر یہ کانفرنس بارڈر سے صرف تیس کلو میٹر کے فاصلے پر امرتسر میں منعقد کرائی، اگر یہ سچ ہے اور ہماری ''پریمیکا'' اجیت کور نے واقعی امرتسر کو ہماری سہولت کے لیے چنا تھا تو خدا اس کی عمر اور دراز کرے بلکہ پشتو کا ایک ٹپہ اس کی نذر ہے کہ

دیدن مے غوخت او خولہ ئے راکڑہ
خدایہ سخی جینئی لاور کڑے جنتونہ

یعنی میں نے تو صرف ''دید'' چاہی تھی اور اس نے اوپر سے ''بوسہ'' بھی دے ڈالا، لیکن اسے کیا کیجیے کہ امرتسر بھوپال نہیں تھا اور بھوپال امرتسر نہیں ہے، وہاں سیف اور کرینہ کی شادی ہو رہی تھی اور ہم یہاں امرتسر میں ''سرداروں'' کے شہر میں ''سرِ دار'' یعنی دار کے سر چڑھ رہے تھے۔ ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے، بھلے ہی ہم سیف اور کرینہ کی شادی میں مدعو نہیں تھے اور ہم عبداللہ بھی نہیں ہیں کہ پرائی شادی میں دیوانے ہو جاتے بلکہ ایک ہی شہر میں ہوتے ہوئے بھی شاید ہمیں کوئی تقریب کے قریب بھی نہ پھٹکنے دیتا، لیکن جھوٹ کسی کے باپ کا تو نہیں ، ہم بھی دوسرے سفر نامہ نگاروں کی طرح جڑ دیتے اور اپنے بیاں کو رنگین بنا دیتے، لیکن اجیت کور نے سارے نیک و بد ارادوں پر جھاڑو پھیر کر ہمیں امرتسر میں بلا لیا، ویسے بھی شاید ہماری قسمت میں اس مرتبہ ٹھوکریں اور صعوبتیں ہی لکھی تھیں، بھوپال کانفرنس جتنی رنگین تھی امرتسر کانفرنس اتنی ''سنگین'' ثابت ہوئی۔ یوں سمجھیے کہ ہم لاہور سے پچاس اور سرحد سے تیس کلو میٹر کے فاصلے پر پردیس کی سولی چڑھے ہوئے تھے۔ اتنی زیادہ غریب الوطنی کا احساس تو شاید ہمیں افریقہ کے کسی جنگل میں بھی نہ ہوتا کیوں کہ یہاں ایک نہیں بے شمار ''جنگل'' تھے، وہ بھی موبائل یعنی چلتے پھرتے ''سرداروں'' کے روپ میں، ثابت ہوا کہ پردیس کی صعوبتوں اور غریب الوطنی کی کٹھنائیوں کا تعلق فاصلوں سے نہیں احساس سے ہوتا ہے، امرتسر ہی میں وہ لطیفہ بھی ہماری سمجھ میں آ گیا جسے سن سن کر ہم اس شوہر پر ہنستے تھے جس نے بیوی سے لڑنے کے بعد اپنی چارپائی اٹھا کر گھر کے باہر دروازے کے سامنے ڈال دی تھی اور اس پر لیٹ کر گھر کے دروازے کو حسرت بھری پردیسی نگاہوں سے تکنے لگا، شام ہونے لگی تو اندر سے بیوی نے بچے کو بھیجا کہ جا کر اپنے باوا سے کہو کہ گھر آ جائو کیوں یوں کھاٹ ڈالے خود بھی رسوا ہو رہے ہو اور ہمیں بھی رسوا کر رہے ہو، بیٹے نے جب یہ بات اپنے ''پردیسی'' باپ سے کہی تو اس نے دیکھا کہ دروازے کی درزوں میں اس کی بیوی کا رنگین آنچل بھی جھلک رہا ،گویا سن رہی ہے چنانچہ اس نے اپنی آواز میں دنیا جہاں کی مسکینی بھر کر اونچی آواز میں کہا ۔۔۔ نہیں آؤں گا، چھوڑ دو مجھے اس ''پردیس'' میں مرنے کے لیے۔

بیٹھ جاتے ہیں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

ہم بھی بارڈر سے یوں کہیے کہ اتنے فاصلے پر تھے کہ اگر زور سے پکارتے تو لاہور والے سن لیتے، گویا دروازے کے سامنے پڑے ہوئے تھے لیکن پھر بھی پردیس اور پردیس کی بے بسی کا احساس شدید تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے ہم کالے پانی آ گئے ہوں، کیونکہ یہاں آگے پیچھے اوپر نیچے اور دائیں بائیں صرف سردار ہی سردار تھے جو اپنے چہرے بالوں میں چھپائے ہوئے تھے تو کسی کو کیا ملتے اور کیا گھلتے ملتے، بلکہ ہمیں تو امرتسر شہر کے چپے چپے پر یوں لگا جیسے کسی آفت کے آنے کا بگل بچ چکا ہے اور شہر کا ہر باسی جان بچانے کے لیے بھاگ دوڑ رہا ہو، امریکیوں کے بارے میں سنا ہے کہ وہ اتنے تیز ہوتے ہیں کہ دور ہی سے ہیلو ہائے کر کے چلے جاتے ہیں لیکن یہاں تو قریب سے بھی ''ست سری اکال'' کا کوئی چانس نہیں تھا۔ ہم اسے نفرت تو نہیں کہہ سکتے لیکن محبت کا بھی اس میں دور دور تک کوئی شائبہ نہیں تھا۔

نفرت کا گماں گزرے ہے میں رشک سے گزرا
کیوں کر کہوں لو نام نہ اس کا مرے آگے

ہم تو ''بھوپال'' جیسی حالت کی توقع لے کر آئے تھے لیکن یہاں بھونچال سے واسطہ پڑ گیا، بلکہ بھونچالوں سے کہیے، کیوں کہ سردار لوگوں کے ہاں کسی کو واحد سمجھا نہیں جاتا ہے۔ وہ ایک فرد کو بھی دیکھ کر کہتے ہیں کہ ''فوجاں کتھے جاندیاںنیں'' بشرطیکہ یہ ''فوجاں'' سردار ہو، بھوپال میں تو ہمیں ایسا لگا بلکہ قدم قدم پر لگ رہا تھا جیسے ہم اپنے گھر میں ہوں اور ہر شخص اپنے گلی محلے کا ہو، کیا ہندو کیا مسلمان ۔۔۔۔۔ اجنبیت کا احساس ہی نہیں ہونے دیتے، سب سے زیادہ تو وہاں کے طلباء و طالبات بلکہ طالبات نے ہمیں دھنیہ کر دیا تھا، سب سے نمایاں فرق کانفرنس ہال میں تھا، بھوپال میں بھی ہم نے اپنا مقالہ پڑھا تھا اور یہاں بھی ۔۔۔ لیکن وہاں بھرے پرے ہال میں جو زیادہ تر طلباء و طالبات پر مشتمل تھا پنڈال میں خاموشی تھی اور یہاں حالانکہ تقریب ہی کالج میں تھی لیکن مندوبین کے علاوہ کسی دوسرے چہرے کو ہماری آنکھیں ڈھونڈتی ہی رہ گئیں۔

ایک سردار جی ہمارے پہلو میں ہی پریزیڈم میں بیٹھے تھے، واپس آ کر بیٹھ گئے تو انھوں نے مسکرا کر حوصلہ افزائی کی اور پھر فوراً ہی اپنا تعارف کرایا کہ وہ اسی خالصہ کالج کے پرنسپل ہیں لیکن اس سے پہلے کہ ہم اپنا تعارف کراتے وہ فوراً اٹھ کر ایک اور سردار سے جھپیاں ڈالنے لگے اور پھر واپس ہی نہیں آئے۔ ہم اپنا جوابی تعارف تھوک میں نگل گئے، اس کے علاوہ مجال ہے جو ہم نے کسی مقامی کو کانفرنس میں دیکھا ہو، البتہ رات کو موسیقی کا پروگرام بھرپور تھا کراں تا کراں داڑھیاں ہی داڑھیاں تھیں جو پگڑیوں کے زیر سایہ لہرا رہی تھیں ۔لہرانا تو خیر ہم اسے نہیں کہہ سکتے کیوں کہ سرداروں کی داڑھیاں جدید دور میں لہرانے کے بجائے چہرے سے ''چپکنے'' کا رجحان رکھتی ہیں۔

ابتداء میں ہم نے محسوس کیا کہ صنف لطیف یعنی طالبات تو بھول کر بھی ادھر کا رخ نہیں کر رہی ہیں لیکن بعد میں خدا کا شکر ادا کیا کہ بہت ہی اچھا ہوا جو طالبات نہیں تھیں ورنہ ہمارا ذوق جمال تڑپ تڑپ کر فوت ہو جاتا ، اس لیے کہ بعد میں ہم پورا امرتسر گھومے لیکن ایسا کوئی چہرہ نظر نہیں آیا جسے ایک بار دیکھنے کے بعد دوسری بار دیکھنے کی خواہش پیدا ہو جائے، مجال ہے کہ کہیں کسی بھی چہرے کو دیکھ کر آنکھ میٹھی ہو جائے، حالانکہ ہم نے سنا تھا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ امرتسر پنجابیوں کا شہر ہے اور پنجابی لوگ خوب صورت ہوتے ہیں۔ کم از کم ہمارا پنجاب تو ایسا ہی ہے لیکن بعد میں امرتسر کی اس عظیم الشان بدصورتی کی جو وجہ ہاتھ لگی وہ ذرا تفصیل سے بتانے کی ہے۔

مقبول خبریں