جمرود کے بعد باچا خان یونیورسٹی
پچھلے دو تین ہفتوں کے دوران چار بڑے دہشت گردانہ حملے ہو چکے ہیں،
19 جنوری 2016ء کو جمرود میں کارخانو پھاٹک کے قریب خودکش حملے کے بعد جس میں خاصہ دار فورس کے لائن افسر اور صحافی سمیت 12 افراد جاں بحق اور 25 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے 20 جنوری کو جمرود کے حملے کے صرف ایک دن بعد چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کیا گیا جس میں 17طلبا شہید اور 21 افراد زخمی ہوئے۔ اس حملے میں یونیورسٹی کے ایک نامور پروفیسر حامد حسین کے علاوہ عملے کے 3 افراد بھی جاں بحق ہوگئے۔
پچھلے دو تین ہفتوں کے دوران چار بڑے دہشت گردانہ حملے ہو چکے ہیں، جن میں پچاس سے زیادہ بے گناہ لوگ مارے گئے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ٹی ٹی پی کا ایک رکن افغان فون پر حملہ آوروں کو ہدایت دیتا رہا۔ جنرل راحیل نے افغان حکومت سے افغان ملزمان کو پکڑنے میں تعاون کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو اس وحشیانہ حملے کا ''بے رحم'' جواب دیں گے۔ انھوں نے کہا ہے کہ یہ حملہ چارسدہ یونیورسٹی کے طلبا پر نہیں بلکہ پاکستان پر حملہ ہے۔
امریکی نائب صدر اور افغان صدر اشرف غنی سے ایک ملاقات کے دوران نواز شریف نے باچا خان یونیورسٹی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھاگتے ہوئے دہشت گردوں نے یونیورسٹی کے معصوم طلبا کو نشانہ بنایا۔ نواز شریف نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے۔ اس حملے کے خلاف ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے علاوہ دنیا بھر کے سربراہان مملکت نے بھی شدید مذمت کی ۔ پشاور آرمی اسکول کے بعد طلبا پر یہ دوسرا بڑا حملہ ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ دہشت گرد ملک اور دنیا بھر میں اسلامی نظام نافذ کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں اور پیغمبر اسلام کے فرمودات کے برخلاف عمل کر رہے ہیں۔ پیغمبر اسلام نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایک مسلمان کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے اور علم کے حصول کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے کہا ہے کہ اگر حصول علم کے لیے چین بھی جانا پڑے تو چین کو جائیں۔ یہ کس قدر ستم ظریفی کی بات ہے کہ مسلمانوں کی جان اور علم کی اہمیت کے حوالے سے ان واضح ہدایات کے باوجود مسلمانوں کا بے دردی سے خون بہایا جا رہا ہے اور اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں پر دہشت گردانہ حملے کر کے مسلمانوں ہی کو خون میں نہلایا جا رہا ہے۔
دہشت گردی اور مذہبی انتہاپسندی صرف پاکستان ہی کا مسئلہ نہیں بلکہ تقریباً تمام مسلم ملکوں کا اجتماعی مسئلہ ہے، پاکستان اس حوالے سے اس لیے ترجیحی ملک بنا ہوا ہے کہ مسلم دنیا میں پاکستان فوجی قوت کے حوالے سے سب سے زیادہ طاقتور اور ایٹمی ملک ہے۔ مذہبی انتہاپسندوں کا فلسفہ یہ نظر آتا ہے کہ اگر اس طاقتور ملک پر قبضہ کر لیا جائے تو باقی کم طاقت والے مسلم ملکوں پر قبضہ آسان ہو جائے گا۔
اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے پہلا کام یہ کیا جا رہا ہے کہ عوام میں مایوسی اور خوف پھیلایا جا رہا ہے، تا کہ اگلے اقدامات میں عوام ڈی مورالائز ہو کر ان کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ ہو سکتا ہے اس قسم کی منصوبہ بندی مذہبی انتہاپسندوں کے خیال میں درست ہو لیکن عملاً یہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیاں جس قدر بڑھ رہی ہیں عوام میں اس کے خلاف مزاحمت اور نفرت کا جذبہ بڑھ رہا ہے، جس کا اندازہ پشاور کے آرمی اسکول اور باچاخان یونیورسٹی کے شہدا کے لواحقین کے جذبات سے ہو سکتا ہے، جس میں ان لواحقین نے اپنے پیاروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان سے بڑی قربانیاں دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ضرب عضب کی وجہ سے شمالی وزیرستان اب دہشت گردوں کے لیے ''نوگوایریا'' بن گیا ہے لیکن یہاں سے نکلنے والے دہشت گرد افغانستان کے علاوہ پاکستان کے دوسرے شہروں میں منتقل ہو رہے ہیں اور ان شہروں میں قدم جمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات میں ایک وجہ یہ ہے کہ شمالی وزیرستان کے علاوہ پاکستان کے کسی شہر میں جس میں خیبر پختونخوا خاص طور پر شامل ہے فوج دہشت گردوں سے براہ راست جنگ نہیں کر رہی ہے بلکہ دوسری سیکیورٹی فورسز ان منفی طاقتوں کا مقابلہ کر رہی ہیں۔
خیبرپختونخوا میں تسلسل کے ساتھ حملوں کی ایک وجہ یہ بھی نظر آتی ہے کہ خیبرپختونخوا جس قبائلی نظام سے وابستہ ہے اس میں مذہب کے نام پر سادہ لوح عوام کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں تعلیمی اداروں کو خصوصی طور پر نشانہ بنانے کی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ مذہبی انتہاپسند عوام کو تعلیم سے نابلد رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ علم جہل کا سب سے بڑا دشمن ہوتا ہے۔
ہم نے اس حقیقت کی ابتدا میں نشان دہی کر دی ہے کہ دہشت گردی کا مسئلہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ مسلم ملکوں سمیت ساری دنیا کا مسئلہ ہے۔ حال ہی میں سعودی عرب کے زیر قیادت 34 مسلم ملکوں نے دہشت گردی کے خلاف جو اتحاد تشکیل دیا ہے یہ ابھی تک پوری طرح فعال نہیں ہوا ہے، اس کی ایک وجہ یہ نظر آتی ہے کہ اس اتحاد میں شامل بعض ملک اس حوالے سے شک و شبے میں مبتلا ہیں کہ کیا یہ اتحاد واقعی دہشت گردی کے خلاف ہے؟ یا اس کی پشت پر کچھ سیاسی مقاصد بھی ہیں۔ اس شک کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ اس اتحاد میں شام، عراق اور یمن شامل نہیں ہیں۔
اس تخصیص کی وجہ سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ اس اتحاد کے پیچھے فقہی اختلافات بھی ہیں اور فقہی یا مسلکی اختلافات کے حوالے سے ایران اور سعودی عرب ایک دوسرے کے حریف سمجھے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے دہشت گردی کی وجوہات میں فقہی اختلافات ایک بڑی وجہ ہے۔ یہ بات بڑی خوش آیند اور حوصلہ افزا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ اور پاکستان اس حوالے سے مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ اگر 34 ملکوں کے اس اتحاد میں شام عراق ، یمن سمیت تمام 57 مسلم ملک شامل ہوں تو اس کے نتائج زیادہ حوصلہ افزا ہو سکتے ہیں۔
بھارت کے ایک شہر پٹھان کوٹ کے ہوائی مستقر پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو کشیدہ صورتحال پیدا ہوئی تھی اگرچہ دونوں ملکوں کے حکمرانوں کی دانشمندی سے یہ کشیدگی شدید صورت اختیار تو نہ کر سکی لیکن بھارت کے بعض ذمے دار وزرا کی طرف سے جو غیر عاقلانہ اور جذباتی بیانات دیے گئے اس کا لب لباب یہ تھا کہ ''بھارت اس حملے کا ایسا سخت جواب دے گا کہ دنیا دیکھے گی۔''
پاکستان کے سیاسی حلقوں میں باچا خان یونیورسٹی پر حملے کو بھارتی وزیر کے بیان کے پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ یہ بیان اور اس کا جوابی تاثر دونوں ہی اس خطے کے عوام کے اجتماعی مفادات کے سخت خلاف ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کو موجودہ مذہبی انتہاپسندی کے تناظر میں بڑی احتیاط کے ساتھ زبان کھولنا چاہیے کیونکہ بغیر سوچے سمجھے منفی بیانات سے کشیدگی میں اضافے کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ باچا خان یونیورسٹی کے علاوہ پاکستان کے کئی شہر دہشت گردی کی زد میں ہیں، جس کا احساس حکمرانوں اور سیاست دانوں اور مذہبی رہنماؤں کو ہونا چاہیے۔