ذکر ایک تنظیم کا

بزرگوں نے ایک بڑی اچھی بات کہی ہے کہ جو اچھے ہوتے ہیں وہ اچھے بھی ہوتے ہیں اور اچھا کرتے بھی ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq January 26, 2016
[email protected]

بزرگوں نے ایک بڑی اچھی بات کہی ہے کہ جو اچھے ہوتے ہیں وہ اچھے بھی ہوتے ہیں اور اچھا کرتے بھی ہیں بلکہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو اچھے ہوتے ہیں وہ اچھا سنتے ہیں اچھا دیکھتے ہیں اور اچھا کہتے ہیں۔

چنانچہ محترمہ ریحام خان کے بارے میں خبر آئی ہے کہ انھوں نے ایک سماجی تنظیم ''مور'' کی ساری تیاریاں مکمل کر لی ہیں، ہو سکتا ہے کہ ان سطور کے چھپنے تک وہ تنظیم لانچ بھی کی جا چکی ہو، گویا اچھے لوگ ہر جگہ ہر وقت ہر حال میں ''اچھا'' سوچتے ہیں اور اچھا کرتے ہیں، کیا ہوا اگر اچھے اچھے کاموں کا ایک ''راستہ'' محترمہ کے لیے بند ہو گیا خدا جب ایک در بند کرتا ہے تو دوسرا کھول دیتا ہے۔

جہاں تک تنظیم کے کام کا تعلق ہے تو ظاہر ہے کہ سماجی کاموں کا دائرہ ''ترقیاتی کاموں'' کی طرح بہت وسیع ہے چنانچہ اس کی طرف سے قطعی مطمئن ہو کر ہم پہلے ہی سے اس تنظیم میں شامل ہونے کا اعلان کرتے ہیں، اس اعلان کی ایک وجہ اور بھی ہے اسکول کے زمانے میں ایک مرتبہ استاد نے ایک لڑکے سے اردو کا جملہ بنانے کو کہا تو اس نے فوراً یہ جملہ بنا کر سنایا کہ مجھے ٹیلی فون مارنے کا بڑا بڑا شوق ہے، استاد نے ہم سے پوچھا نہیں تھا لیکن پھر بھی ہم نے ایک عدد جملہ بنایا تھا کہ مجھے ہر تنظیم میں شامل ہونے کا بڑا بڑا شوق ہے یعنی

بھیگ جاتی ہیں اس امید پہ آنکھیں ہر رات
شاید اس رات وہ ''مہتاب'' لب جو آئے

لیکن بدقسمتی سے آج تک کسی بھی تنظیم میں کوئی مہتاب لب جو نہیں آیا ہے جن جن تنظیموں کے ہم بانی ممبر بنتے رہے ہیں ان میں زیادہ تر آج ہمارے سائے کو پتھر مارتے ہیں، ممبر یا بنیادی ممبر تو کیا ان کے دروازے بھی ہم پر بند ہیں کیونکہ ہر ہر مقام پر مافیا اور قبضہ گروپ کا بول بالا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ناامید ہو کر اپنا شوق ترک کر دیں اس لیے محترمہ کی اس تنظیم کے لیے بھی ہماری طرف سے ہاں ہے قبول قبول ہے اور قبول ہے۔

اب یہ تو ہمیں تسلی ہے کہ اچھے لوگ اچھا ہی کام کریں گے لیکن یہ نام ''مور'' کچھ کنفیوژن پیدا کر رہا ہے' ہو سکتا ہے کہ دو چار روز میں پتہ چل جائے کہ یہ کس زبان یا مفہوم کا لفظ ہے لیکن سردست تو ہماری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ یہ ''مور'' کس زبان کا مور ہے کیوں کہ اس قرب و جوار میں جتنی بھی زبانیں بولی جاتی ہیں ان سب میں یہ ''مور'' کا لفظ اپنے الگ الگ مفہوم کے ساتھ موجود ہے، چونکہ اس محیط میں سب سے زیادہ بول اس زبان کا بالا ہے۔

جس کے بولنے والوں سے ہم نے آزادی حاصل کی ہے سچ تو یہ ہے کہ بے چاروں کے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی ہے جب لوگوں نے ان کو جانے کے لیے کہا تو وہ بوریا بستر باندھنے لگے لیکن انھیں سختی سے روک لیا گیا کہ صرف تم چلے جاؤ باقی اپنی ساری گٹھڑی اور گٹھڑی میں بندھا ہوا مال و متاع یہیں چھوڑ جاؤ کیا کرتے بے چارے زبردست کا ٹھینگا سر پر، چنانچہ اپنی زبان اپنا کلچر اپنا قانون سب کچھ چھوڑ کر خالی ہاتھ چلے گئے، اس زبان میں ''مور'' کا لفظ وہی معنی دیتا ہے جو پشتو میں ''نور'' اور اردو میں ''اور'' کے اندر پائے جاتے ہیں۔

بلکہ آج کل تو یہ ''دل مانگے مور'' اتنا زیادہ مستعمل نہیں ہے جتنی کہ اس کی ''ترقی دادہ'' شکل ''ڈومور'' استعمال کی جاتی ہے ویسے تو یہ نئی ترقی دادہ قسم امریکا والوں نے برائے پاکستان ایجاد کی تھی کہ اور پاکستانیوں کا خون گرم رکھنے کے لیے ''ڈومور ڈومور'' کا جادو استعمال کرتے تھے لیکن جیسا کہ فیضؔ صاحب نے ایک طرز فغاں قفس میں ایجاد کی تھی اور پھر وہ سارے چمن کی زبان ٹھہری تھی اسی طرح اہل پاکستان نے اس ''ڈومور'' کی اصطلاح کو وسعت دیتے ہوئے سارے ملک پر اپلائی کیا ہوا ہے ہر محکمے اور ادارے میں ''ڈومور ڈومور'' پر عمل ہوتا ہے صرف کام کرنے کے لیے ''ڈومور'' کے بجائے ''نومور'' کی اصطلاح ہی باقی ہے ''سب کچھ'' کرنے کے لیے ڈومور ہی ڈومور ہے خاص طور پر سیکنڈلوں گھپلوں اور خورد برد میں تو تقریباً ہر سرکاری محکمہ ادارہ اور وزارت نمبر ون ہے۔

اب اگر محترمہ ریحام خان کی نومولود تنظیم کا نام انگریزی ''مور'' ہے تو ''ڈومور'' کا لاحقہ خودبخود اس کا حصہ بن جائے گا، پشتو میں ''مور'' کا لفظ ماں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور چونکہ محترمہ ریحام خان کئی لحاظ سے اس زبان سے علاقہ رکھتی ہیں اس لیے یہ بھی عین ممکن ہے کہ یہ پشتو کی مور ہو اور یہ زیادہ موزوں اس لیے بھی ہے کہ تنظیم کی بانی مبانی محترمہ ریحام خان خود بھی ایک ''مور'' ہے اگرچہ پورے ملک کی ''مور'' بننے میں وہ کامیاب نہ ہو سکی لیکن اپنے بچوں کی، اپنی تنظیم کی ''مور'' تو بہرحال ہے اور یہ نام ہر لحاظ سے اسم بامسمیٰ ہے، تیسرے نمبر پر اردو کا ''مور'' آتا ہے۔

جس کی دم خود اس سے بھی زیادہ مشہور ہے اور خاندانی طور پر اسے جنگل کا رقاص کہا جاتا ہے اگرچہ جب یہ جنگل میں ناچتا ہے تو کوئی بھی اسے نہیں دیکھتا اور اس کے فن کی داد نہیں دیتا ... لیکن اس لحاظ سے یہ نام بڑا اچھا ہے کہ سماجی تنظیمیں اکثر یہی ''مور'' ہو جاتی ہیں اور صرف جنگل میں ناچتی رہتی ہیں وہ بھی کاغذات اور بیانات کے جنگل میں، ویسے تو ایک مور وہ بھی ہوتے ہیں جو چوروں پر پڑتے ہیں لیکن ان کے بارے میں معلوم نہیں کہ کون لوگ ہیں، بعض لوگ اس سے وہ لوگ مراد لیتے ہیں جو باوردی ہوتے ہیں اور تھانوں میں بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں کہ کب چور آئیں اور یہ ان پر پڑیں، ویسے یورپ والے سارے مسلمانوں کو بھی ''مور'' کہتے ہیں کیوں کہ ان سے جو پہلے مسلمان ٹکرائے تھے وہ افریقہ کے ''مور'' تھے۔