صاحبزادہ یعقوب علی خان ایک عہد کے ترجمان

سابق وزیر خارجہ لیفٹیننٹ جنرل (ر)صاحبزادہ یعقوب علی خان جن کا بدھ کی رات 95 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا تھا


Editorial January 28, 2016
آغا خان یونیورسٹی کا قیام ان کی کوششوں کا رہین منت ہے۔اپنی وطن دوستی ، علم و دانش اور شرافت کے باعث وہ ہمیشہ یاد رہیں گے۔ فوٹو:فائل

سابق وزیر خارجہ لیفٹیننٹ جنرل (ر)صاحبزادہ یعقوب علی خان جن کا بدھ کی رات 95 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا تھا انھیں آرمی قبرستان راولپنڈی میں سپرد خاک کر دیا گیا، مرحوم کی نماز جنازہ میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف، اعلیٰ سول و فوجی حکام اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ان کے انتقال سے ملک ایک عظیم سیاسی مدبر،اعلیٰ سفارتکار ،دانشور اورعظیم و سنجیدہ انسان سے محروم ہوگیا۔ صاحبزادہ یعقوب خان نے اپنے عہد کی بھرپور نمایندگی کی ۔ ان کی آنکھوں نے ملکی سیاست کے کئی ادوار کا مشاہدہ کیا، اور کثیر جہتی شخصیت ہونے کے ناتے ملک کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے رہے۔ ان کی سفارت کاری انسانی ادراک و تدبر سے مرصع تھی، کئی زبانوں پر عبور رکھتے تھے،عالم اسلام کی متعدد شخصیات سے ان کی ذاتی دوستی تھی۔ علم و فکر اور سیاسی و سفارت کارانہ تجربات کا بحر بے کراں تھے۔

افسوس کہ انھوں نے اپنی کوئی سوانح عمری نہیں لکھی اور نہ متفرق یادداشتوں کو قلم بند کیا، یوں قوم پاک و ہند کی تاریخ اور سیاست و سفارت کے میدان میں ان کے بیش بہا تجربات کی منتظر رہی ۔صاحبزادہ یعقوب علی خان 23 دسمبر 1920ء کو بھارت کے شہر رام پور میں نواب خاندان میں پیدا ہوئے، 1982ء سے1991ء تک وزیر خارجہ رہے، انھیں تین فوجی سربراہوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، مشرقی پاکستان کے پر آشوب دورانیے کے گواہ تھے۔

جنرل یحییٰ کے دور میں گورنر مشرقی پاکستان رہے، چیف آف جنرل اسٹاف اور کمانڈرایسٹرن کمانڈ کی حیثیت میں خدمات انجام دیں، فوجی کارروائی سے اختلاف کے باعث 1972 ء میں وقت سے پہلے ریٹائر ہوئے۔

جنرل ضیا الحق نے انھیں اپنے قریب رکھا ، اقوام متحدہ میں پاکستان کے خصوصی نمایندہ کے طور پر قوم کا وقار بلند کیا۔ صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف نے اپنے الگ الگ تعزیتی پیغامات میں صاحبزادہ یعقوب علی خان کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور ان کی ملک کے لیے شاندار خدمات کی تعریف کی۔ علمی شعبہ میں بھی ان کی خدمات بیش بہا تھیں۔ آغا خان یونیورسٹی کا قیام ان کی کوششوں کا رہین منت ہے۔اپنی وطن دوستی ، علم و دانش اور شرافت کے باعث وہ ہمیشہ یاد رہیں گے۔