میرا کے اسپتال اور اس ملک پر کالا جادو

خبر تو آپ نے پڑھی ہی ہو گی کہ آں محترمہ نے اپنے ’’اسپتال‘‘ پر کالے جادو ہونے کا انکشاف کیا ہے


Saad Ulllah Jaan Baraq January 28, 2016
[email protected]

آج کے بعد ... سب دوست اور دشمن نوٹ کر لیں کہ آج کے بعد اگر کسی نے محترمہ میرا کے بارے میں کچھ بھی ایسا ویسا کہا تو ہم اس کی ایسی کی تیسی کر دیں گے، اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے، آنکھیں نکال کر بلوریاں کھیلیں گے، کیوں کہ محترمہ نے ایک ایسا کام کیا ہے کہ نہ صرف ہماری اپنی پریشانیاں دور ہو گئیں بلکہ اپنے اس پیارے ملک مملکت اللہ داد پاکستان کے ایک بڑے روگ کی بھی تشخیص کر لی ہے وہ ... ''ایسی چنگاری بھی تھی'' کا شعر تو اس پر صادق ہی صادق آتا ہے لیکن جی چاہتا ہے اور بھی بہت سارے اشعار اس کی خدمت میں پیش کریں کہ

کیں کار از تو آئد و مردان چنین کنند

خبر تو آپ نے پڑھی ہی ہو گی کہ آں محترمہ نے اپنے ''اسپتال'' پر کالے جادو ہونے کا انکشاف کیا ہے اور اس جادو کا توڑ کرنے کے لیے اس نے سری لنکا سے کسی مشکور یا ممنون بابا کو بلایا ہے، اب یہ عقیدے وشواس اور شردھا کی بات ہے ورنہ اپنے ہاں بھی بہت بڑے بڑے نامی گرامی ''بابے'' پڑے ہوئے ہیں جن میں دیسی باباؤں کے علاوہ فارن سے امپورٹیڈ بنگالی، پرتگالی، سنیگالی حتیٰ کہ کنگالی اور صرف گالی جیسے بابے بھی مشہور ہیں، وہ اگر چاہتی تو کسی کو بھی مشکور یا ممنون بنا سکتی تھی، خیر یہ تو دل کی تسلی کی بات ہے۔

کہتے ہیں کہ جو پیا من بھائے وہ ہی سہاگن ... یا پیر اگر ''خس'' ہے تو پھر بھی اپنے مرید کے لیے ''بس'' ہے، ہمیں اس سے کوئی لینا دینا نہیں کہ وہ کسی مشکور بابا کی خدمات حاصل کرتی ہے یا ممنون بابا سے خود کو اور اپنے اسپتال کو دم کراتی ہے ہمیں تو خوشی یہ ہے کہ ہم نے اپنی بدنصیبیوں محرومیوں اور ناکامیوں کو اس پہلو سے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا کہ آخر ہمارا ہر کام بگڑ کیوں جاتا ہے اور کمند عین لب بام کیوں ٹوٹ جاتی ہے، یہ محترمہ میرا کی وجہ سے اب ہماری سمجھ میں آگیا ہے کہ ہو نہ ہو ہم پر بھی کسی بدبخت دشمن نے ایسا کچھ کیا ہوا ہے۔

کتنے زمانے ہوئے بلکہ یوں لگتا ہے جیسے صدیاں گزر گئی ہوں کہ ہم کوئی وزیر مشیر یا امیر و کبیر بننے کی آرزو پال رہے ہیں اور اس کے لیے طرح طرح کی دعائیں تعویذات کر کر کے تھک گئے ہیں لیکن یہ نہ تھی ہماری قسمت ۔ چلیے یہ تو بڑی بڑی خواہشیں تھیں جن میں سے ہر ہر خواہش پر ہمارا دم نکلتا رہا لیکن کوئی موٹی موٹی لاٹری بھی ہماری کہیں نہیں لگی اگر دو چار کروڑ کا انعام ہمارا بھی نکل آتا، سفید نہ سہی کالا دھن بھی ہمیں منظور تھا اور اس سے نہ تو سوئس بینکوں کے اکاؤنٹس پر کچھ برا اثر پڑتا نہ دیسی بینکوں کا کچھ بگڑتا نہ طرح طرح کے ''فنڈوں'' اور ترقیاتی و صوابدیدی معاملات پر کوئی اثر پڑتا، بہانہ تو دیکھیئے ایک دن لاٹری نہ نکلنے پر جب ہم رو رہے تھے تو ایک دوست نما دشمن نے ہمیں ہی مطعون کیا کہ کسی لاٹری کا ٹکٹ تم نے خریدا ہے؟ اب یہ بھی کوئی بات ہوئی اگر ٹکٹ خریدنے کی استطاعت ہوتی تو ہمیں لاٹری کے انعام کی ضرورت ہی کیا اور اگر انعام کو ٹکٹ سے مشروط کیا جائے تو پھر قسمت کی خوبی کیا ہوئی۔

اور قسمت کی ایسی مہربانی کا کیا جو ٹکٹ کی محتاج ہو، کیا بھٹو، بے نظیر اور خاص طور پر سب پر بھاری اور اس سے بھی زیادہ بلاول نے یا نواز شریف نے ٹکٹ لیا تھا ... کیا عمران خان نے ٹکٹ لیا تھا جو اتنے بڑے بڑے انعام نکل آئے، قسمت جب دیتی ہے تو ٹکٹ کے بغیر بھی دے سکتی ہے، مونچھیں ہوں تو نٹور لال جیسی ہوں ورنہ نہ ہوں، یہ تو محترمہ میرا نے جب اپنے اسپتال پر کالے جادو کی بات کی تو فوراً ہمارے دل کو لگی کیوں کہ ایسا کچھ ہمارے دل میں پہلے سے ہی تھا لیکن اظہار نہیں کر پا رہے تھے۔

اب تک تو ہمیں صرف یہ غلط فہمی تھی کہ کالا جادو صرف بندوں پر کیا جاتا ہے لیکن محترمہ میرا کے انکشاف سے پتہ چلا کہ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے، عمارتوں اور نا جانے کس کس چیز پر کیا جا سکتا ہے اور اس سے ہمیں باور آیا کہ ہمارے ملک کا ستر سال سے جو کباڑا ہو رہا ہے اس کی وجہ صرف اور صرف کالا جادو ہی ہے ورنہ اتنا کماؤ پوت، ہیرے جواہرات سے بھرپور ملک بے پناہ قدرتی دولتوں سے مالا مال وطن اور یہ حال کہ پیٹ میں دانہ نہیں تن پر کپڑا نہیں گلے میں کشکول اور کاندھوں پر بے پناہ قرضوں کا اور وزیروں امیروں کبیروں کا بوجھ ۔کتنے حکیم آئے طبیب آئے مسیحا آئے اور سب کے سب مزید زہر کھلا کر چلے گئے، تریاق کسی کے پاس بھی نہیں تھا اور مریض کی حالت بگڑتی چلی گئی جوں جوں دوا کی... تعمیر کا تو کہیں نام و نشاں نہیں صرف تخریب ہی تخریب ہے۔

یوں کہیے کہ محترمہ میرا کے اسپتال اور اس مملکت کا حال ایک ہی جیسا ہے اور کالے جادو کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ ہمیں محترمہ میرا کا ممنون ہونا چاہیے اور اسی کی طرح کہیں سے کسی مشکور یا ممنون بابا کو بلانا چاہیے۔