گھونسا مار کر علاج کرنے کا طریقہ
بات کا بتنگڑ اور کسے کہتے ہیں، روس کے ایک اسپتال میں ڈاکٹر نے مریض کو گھونسا مار کر لم لیٹ کر دیا۔
ISLAMABAD:
بات کا بتنگڑ اور کسے کہتے ہیں، روس کے ایک اسپتال میں ڈاکٹر نے مریض کو گھونسا مار کر لم لیٹ کر دیا، بلکہ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ڈاکٹر کا گھونسا کھا کر مریض چل بسا۔ بتنگڑ یہ اس لیے ہے کہ اس میں نئی کیا بات ہے ہاں اگر مریض نے گھونسا مار کر ڈاکٹر کی ''ہتیا'' کر دی ہوتی تو اسے ضرور نئی بات کہا جا سکتا تھا بلکہ مروجہ اصول کے مطابق یہ ''خبر'' بھی ہوتی، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اخبارات میں نالائقی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے کیوں کہ اکثر ایسی بھی خبریں آ جاتی ہیں کہ فلاں محکمے میں خورد برد، فلاں ادارے میں کروڑوں کا گھپلا، فلاں فنڈ میں خورد برد کا سیکنڈل، فلاں وزیر کا یہ اور فلاں وزیر کا وہ ... کوئی ان اخبار والوں سے جا کر پوچھے کہ آخر یہ کس بنیاد پر ''خبر'' سمجھی جاتی ہے جب ایک کام روز کا معمول ہو جائے تو خبر وہ کہلائے گی جو اس معمول سے ہٹ کر ہو گی، جسے فلاں محکمے نے فلاں فنڈ میں گھپلا نہیں کیا۔
فلاں محکمے کا اس پورے مہینے میں یا ہفتے میں کوئی سیکنڈل نہیں آیا، فلاں فنڈ بغیر خورد برد کے صاف نکل گیا، اگر یہی لیل و نہار رہے اور خبروں کا معیار یوں ہی گرتا رہا تو ایک دن یہ خبر بھی شہ سرخی سے آ سکتی ہے کہ آج سورج نکل آیا، کل رات اندھیری تھی، آج لوڈ شیڈنگ ہوئی، وزیر نے تقریر کی یا لیڈر نے بیان دیا، بلکہ یہ بھی خبر ہو سکتی ہے کہ آج کا اخبار آج کا اخبار ہے اور کل کا اخبار کل کا اخبار ہو گا۔
ایک آدمی کو باتیں کرتا ہوا دیکھا گیا ہے اور ایک بھینس جگالی کرتی ہوئی پکڑی گئی، ایک پولیس والا رشوت سے انکار پر گرفتار، اب یہ جو مریض ڈاکٹر کے گھونسے سے چل بسا ہے اس نے کیا نیا کارنامہ کیا ہے آ کر ذرا یہاں دیکھئے ہر شام نہ جانے کتنے مریض ''گھونسے'' کھا کر مر جاتے ہیں، بلکہ ''گھونسے'' ہی کیا اور بھی بہت کچھ کھا کر مریض مرتے رہتے ہیں خاص طور پر دور جدید کا مہلک ترین ہتھیار جو زیادہ تر ڈاکٹر مریضوں کو مارنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اس کا ٹریڈ نام تو فیس ہے لیکن فیس کے ساتھ اور بھی بہت کچھ سابقے اور لاحقے شامل ہوتے ہیں، جگجیت سنگھ نے شاید اسی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ
''فیس'' کے ساتھ کئی درد پرانے نکلے
کتنے غم تھے جو ترے غم کے بہانے نکلے
غم کے لفظ میں شاید ان لوازمات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو فیس کے علاوہ ہوتے ہیں جیسے ایکسرے، لیبارٹری اور میڈیسن کی دکان، ایسا لگتا ہے کہ روس کے جس ڈاکٹر نے گھونسا مار کر مریض کو سارے دردوں سے نجات دلائی ہے وہ اس ڈاکٹر کی پشت سے ہو جس نے شکار پر جانے کے لیے قبرستان کا راستہ اختیار کیا تھا اور ایک واقف کار نے اس کے کاندھے پر دو نالی بندوق دیکھ کر پوچھا تھا ... کہ... کیوں ڈاکٹر صاحب ...۔ کیا کوئی مریض آپ کے علاج سے بچ کر یہاں آ گیا ہے؟ ہمیں ایک بہت پرانا حقیقہ یاد آ گیا اب تو پشاور میں جس طرف بھی نظر اٹھایئے موت کے ہر کاروں کے بورڈ دکھائی دیتے ہیں لیکن اس زمانے میں صرف دو ہی ڈاکٹر ملک الموت کو اسسٹ کرتے تھے۔
جن میں ایک سرجن اور دوسرا فزیشن تھا، دونوں سولہ روپے فیس لے کر مریض کی نیا پار لگاتے تھے ان سولہ روپوں کا ایک الگ لطیفہ تھا لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ نہ دس نہ پندرہ نہ بیس آخر سولہ روپے فیس کی کیا تک ہے، تو لوگوں نے پتہ لگا لیا تھا کہ اس سولہ روپے کی فیس میں دراصل گارنٹی ہے کہ کام سولہ آنے پکا ہو گا مریض کے لواحقین بے فکر رہیں، صرف اپنے وکٹم کو کلینک پہنچا دیجیے اور بس۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر سولہ روپے کے ساتھ ایک مریض کا مکالمہ ان دنوں خاصا مشہور ہوا تھا، کہتے ہیں کہ ڈاکٹر کے پاس ایک مریض بیٹھ گیا تھا لیکن ڈاکٹر مریض کی طرف توجہ دیے بغیر اپنے ایک دوست کے ساتھ گپ شپ بھی کر رہا تھا اور مریض کے لیے نسخہ بھی لکھ رہا تھا، مریض نے پوچھا ڈاکٹر صاحب آپ نے نہ تو میرا معائنہ کیا نہ میری بات پر توجہ دے رہے ہیں اور نسخہ لکھے جا رہے ہیں۔
جواب میں ڈاکٹر نے دلیل دیتے ہوئے کہا فکر نہ کرو یہ ہمارا تجربہ ہے دیکھتے نہیں ہم گاڑی بھی چلا رہے ہوتے ہیں اور ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی کے ساتھ بات چیت بھی کرتے ہیں، مریض نے اٹھ کر ڈاکٹر سے کہا... تو معاف کیجیے میں آپ کی گاڑی نہیں ہوں ... خیر اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے ڈاکٹروں اور مریضوں کے درمیان ... لیکن اس گھونسے والی خبر میں ''خبر وبر'' تو کچھ نہیں ہے لیکن یہ گھونسا بجائے خود ایک نئی چیز ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ وہ ڈاکٹر کوئی زیادہ لائق اور تجربہ کار ڈاکٹر نہیں تھا کہ اسے ''علاج بالمکا'' کا سہارا لینا پڑا ورنہ لائق اور حاذق ڈاکٹر لوگ تو اکثر شرط لگا کر کہتے ہیں کہ مریض اسی بیماری سے مرے گا جو اس نے تشخیص کی ہوئی ہے اور 99 فی صد کیسوں میں ویسا ہی ہوتا ہے کہ ڈاکٹر جس مرض کا علاج کر رہا ہوتا ہے مریض اسی مرض اور اسی ڈاکٹر کے ہاتھوں مرتا ہے، باقی ایک فی صد کے لیے کوئی اور وسیلہ موت تلاش کیا جاتا ہے جیسے بندوق یا گھونسا وغیرہ، ہاں ایک ہمارا ڈاکٹر امرود جس کے بارے میں ہم نے آپ کو بتایا تھا کہ اسپتال کے گیٹ پر امرود بیچتے بیچتے ڈاکٹر بن گیا' وہ مریضوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے ''امرود'' استعمال کرتا ہے جس میں دو سو ایک فی صدی کامیابی حاصل ہو جاتی ہے۔