خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

شہد بھی امرا کے ڈائننگ ٹیبل کا ایک اہم جز ہوتا ہے، شہد کے فائدوں کا ذکر آسمانی کتابوں میں بھی ہوتا ہے


Zaheer Akhter Bedari January 28, 2016
[email protected]

پولٹری فارمز میں ہر روز انڈوں کے ڈھیر لگ جاتے ہیں، ان انڈوں کو جمع کرنا، انھیں لکڑی کے کارٹنوں میں بھرنا، پولٹری فارموں سے مرغیوں کی بیٹ کی صفائی کرنا اور انڈوں کو گاڑی میں بھر کر مارکیٹوں تک پہنچانا، یہ سارے کام غریب مزدور کرتے ہیں، لیکن ان کے ناشتے میں ایک انڈہ نہیں ہوتا، ان کے بچے سوکھی باسی روٹی اور پیاز سے ناشتہ کرتے ہیں، ان کے گھروں میں ہر طرف غربت کی دھول اڑتی دکھائی دیتی ہے۔

یہ ڈیری فارم ہے یہاں گائے بھینس بندھے ہوتے ہیں، انھیں چارہ ڈالنا، ان فارموں میں بکھری گندگی کی ہر روز صفائی کرنا، گائے بھینسوں کو نہلانا تا کہ وہ صاف رہیں اور بیماریوں سے بچی رہیں، ان جانوروں کی طبی دیکھ بھال کے لیے جانوروں کے ڈاکٹر موجود ہوتے ہیں، جو ان کا معائنہ کرتے ہیں، اگر کوئی گائے، بھینس بیمار ہو جائے تو اس کا فوری علاج کیا جاتا ہے تا کہ دودھ کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو، دودھ میں کوئی کمی نہ آئے۔

ان جانوروں کا منہ اندھیرے دودھ دوہنا، انھیں صاف کر کے کنستروں میں بھرنا اور دودھ کی منڈیوں تک پہنچانا، یہ سب کام غریب مزدور ہی کرتا ہے، جس کے بچے دودھ کی ایک بوند کے لیے ترستے ہیں اور لاکھوں بچے دودھ اور ضروری غذا نہ ملنے کی وجہ ہر سال مر جاتے ہیں، جن کے اعداد و شمار ہمارے میڈیا میں بڑے اہتمام سے شایع ہوتے ہیں۔ دودھ سے ہر روز پچاسیوں قسم کی مٹھائیاں بنتی ہیں لیکن یہ ساری غریب کی پہنچ سے دور ہوتی ہیں، عیدالفطر پر گھروں میں شیرخورمہ بنایا جاتا ہے لیکن غریب گھرانے، غریبوں کے بچے دودھ سے بنے شیرخورمے سے محروم ہوتے ہیں۔

ہر روز سلاٹر ہاؤسوں میں ہزاروں گائے، بھینسیں، ہزاروں بھیڑیں، بکریاں ذبح ہوتی ہیں، سلاٹر ہاؤسوں اور کیٹل فارموں میں غریب مزدور کام کرتے ہیں، جانوروں کی پرورش سے لے کر قصائیوں کی دکانوں تک گوشت پہنچانے تک ساری ذمے داریاں غریب مزدور ہی ادا کرتا ہے، لیکن وہ گوشت سے محروم ہوتا ہے، اس کے بچے گوشت کو ترستے ہیں، اس کے ناشتے میں گوشت سے بنی کوئی ڈش نہیں ہوتی۔

غریب بقرعید کا انتظار کرتے ہیں، کیونکہ بقرعید پر قربانی کرنے والوں کو غریبوں کا حصہ نکالنا پڑتا ہے، اگر قربانی کرنے والوں نے ازراہ کرم قربانی کے گوشت سے کچھ حصہ ان فاقہ مستوں کو دیا تو ان کے گھر بھی گوشت پک جاتا ہے، ورنہ بقرعید بھی گوشت کے بغیر گزر جاتی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انسان کے کھانے میں گوشت شامل ہونا چاہیے لیکن انسانوں کی ہڈیاں تک چبا جانے والے اس ظالمانہ طبقاتی نظام میں نوے فیصد لوگ گوشت سے محروم ہوتے ہیں، جام جیلی خوش قسمتوں کے ڈائننگ ٹیبلوں کا لازمی جز ہوتے ہیں، جام جیلی بنانے کے کارخانوں میں غریب مزدور ہی کام کرتے ہیں لیکن پیدائش سے موت تک غریب جام جیلی کے نام سے ناواقف رہتا ہے۔

شہد بھی امرا کے ڈائننگ ٹیبل کا ایک اہم جز ہوتا ہے، شہد کے فائدوں کا ذکر آسمانی کتابوں میں بھی ہوتا ہے، لیکن غریب اس نعمت سے بھی محروم ہوتا ہے۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو عموماً نومولود کو شہد چٹایا جاتا ہے لیکن غریب کا بچہ اس سے بھی محروم رہ جاتا ہے۔

پیزا دور جدید کی غذاؤں کا معروف آئٹم ہے، شہر میں جگہ جگہ پیزا فروخت کرنے کے ریسٹورنٹ قائم ہیں لیکن ملک کی آبادی کا 80 فیصد حصہ پیزا کے نام ہی سے واقف نہیں۔ ایک پیزا کی قیمت اتنی ہوتی ہے کہ غریب اس قیمت میں ایک ہفتے تک گزارا کر لیتا ہے، شہر بھر میں جگہ جگہ ریسٹورینٹ قائم ہیں جہاں چکن تکہ، چکن روسٹ، چکن کڑی، ملائی بوٹی اور چکن سے بنی ہوئی درجنوں ڈشیں موجود ہوتی ہیں۔ لیکن 90 فیصد آبادی ان نعمتوں سے محروم ہے جب کہ ان کی تیاری کے ہر مرحلے میں غریب ہی کا خون پسینہ شامل ہوتا ہے۔

بریانی، پلاؤ، قورمہ، چکن کڑھائی، مٹن کی بے شمار ڈشیں تیار ہوتی ہیں لیکن یہ ساری نعمتیں آبادی کے نوے فیصد حصے کی پہنچ سے دور ہوتی ہیں۔ خدائے برتر نے فرمایا ہے یہ ساری نعمتیں میں نے انسانوں کے لیے اتاری ہیں، انھیں کھاؤ اور خدا کا شکر ادا کرو۔ خدا نے یہ نہیں کہا کہ یہ ساری نعمتیں میں نے اشرافیہ کے لیے اتاری ہیں اور غریب کا ان میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔

شہر کی بڑی بڑی مارکیٹیں پلازے، مال خوبصورت کپڑوں سے بھری ہوئی ہیں جن سے آنکھیں چمک اٹھتی ہیں، جنھیں دیکھ کر غریب کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ جاتا ہے، ملک بھر میں کپڑے کی ہزاروں ملیں کارخانے موجود ہیں، جہاں یہ خوبصورت کپڑا تیار ہوتا ہے، ان ملکوں کارخانوں میں لاکھوں مزدور دن رات کام کر کے اپنا پسینہ بہا کر یہ خوبصورت کپڑا بناتے ہیں، دکانوں میں یہ کپڑا نمائش کے لیے مٹی کے مجسموں کو پہنا کر کھڑا کر دیا جاتا ہے۔

ان خوبصورت دیدہ زیب کپڑوں کو جب ان کے بنانے والے مزدور مٹی کے یا لکڑی کے مجسموں کو پہنا دیکھتے ہیں تو ان کی نظریں اپنے جسموں پر جاتی ہیں جن پر میلے کچیلے پھپھوند لگے کپڑے منڈھے ہوئے ہوتے ہیں، ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے ننگ دھڑنگ بچے گھوم جاتے ہیں، ان کے ذہنوں میں اپنی بیویاں، اپنی بیٹیاں آ جاتی ہیں جو عیدوں پر بھی نئے کپڑوں سے محروم ہوتی ہیں۔ ان مزدوروں کی کمائی سے ان کی روٹی بھی پوری نہیں ہوتی، ہر شہر میں پوش بستیاں ہوتی ہیں، ہر شاہراہ پر 20-20، 30-30 منزلہ خوبصورت عمارتیں ہوتی ہیں، ہر پوش بستیوں میں خوبصورت محل نما کوٹھیاں ہوتی ہیں، جنھیں دیکھ کر آنکھیں چکاچوند ہو جاتی ہیں، یہ سب عمارتیں غریب راج مستریوں اور مزدوروں کی تیار کردہ ہوتی ہیں لیکن ان کے یہ معمار کچی اور غلیظ بستیوں میں رہتے ہیں، ان کے بچے ان غلیظ بستیوں میں کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگتے پھرتے ہیں۔

دیوار چین اور تاج محل کی تعمیر کرنے والے یہی غریب راج مستری اور مزدور تھے لیکن ان کا کوئی نام نہیں جانتا، دنیا صرف ان بادشاہوں کو جانتی ہے جن کے دور میں یہ عجوبے تعمیر ہوئے، جنگی ہوائی جہاز، ٹینک، میزائل، راکٹ بنانے والے غریب مزدور ہی ہوتے ہیں، ان کو چلانے والے بھی غریب فوجی ہی ہوتے ہیں، ان کی زد میں آ کر مرنے والے بھی غریب عوام ہی ہوتے ہیں۔ یہ سب کیسا ظلم ہے، کیسا انیائے ہے، اس طبقاتی ظلم کے شکار کروڑوں غریبوں کو تھپکی دینے کے لیے تسلی دینے کے لیے انھیں ہمارے حکمران اربوں ڈالروں کے منصوبوں سے بہلانے کی کوشش کرتے ہیں، انھیں روٹی کپڑا اور مکان کا لالچ دیتے ہیں، صدیوں سے یہی ہو رہا ہے اور اگر غریب ان مظالم کے خلاف ڈنڈا نہیں اٹھائے گا تو صدیوں تک یہی ہوتا رہے گا۔

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا

مقبول خبریں