سیاست دانوں کی ریٹائرمنٹ کا مسئلہ
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنی معینہ مدت سے 10 ماہ پہلے ہی یہ اعلان کر دیا ہے
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنی معینہ مدت سے 10 ماہ پہلے ہی یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ اپنی مدت ملازمت میں کوئی توسیع نہیں لیں گے۔ غالباً اس اعلان کی وجہ یہ ہے کہ جنرل راحیل کی مدت ملازمت کے حوالے سے ایک عرصے سے قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ وہ شاید اپنی مدت ملازمت میں توسیع لیں۔
جمہوری ملکوں میں فوج کا ادارہ حکومت کے ماتحت رہتا ہے اور حکومت کی بنائی ہوئی پالیسیوں پر چلنا اس کی قانونی اور اخلاقی ذمے داری ہوتی ہے لیکن پسماندہ ملکوں میں بدقسمتی سے جمہوریت ابھی لڑکپن کے دور سے گزر رہی ہے اور کرپشن اس کی کارکردگی پر پولیو کی طرح حاوی ہو گئی ہے، لہٰذا ان ملکوں میں فوج اپنی آئینی حدوں سے آگے جاتی نظر آتی ہے۔ 1958ء میں اس وقت کے آرمی چیف نے سول حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔
ایوب خان کے اس اقدام کی سیاسی اور دانشورانہ حلقوں میں مذمت کی گئی کیونکہ جب کسی ملک میں فوج حکومت پر قبضہ کر لیتی ہے اور مارشل لا نافذ ہو جاتا ہے تو روایتی مذمت کرنے والے اپنے بلوں میں گھس جاتے ہیں اور جینوئن لوگ فوجی حکومتوں کی اصولی اور قانونی مخالفت جاری رکھتے ہیں اور انھیں اس جرم کی سزا کوڑوں اور جیلوں کی شکل میں بھگتنی پڑتی ہے۔
جمہوری حکومتوں میں فوجی بغاوت جرم بھی ہے اور آئین کی خلاف ورزی بھی جس کی سزا موت ہے، اس لیے فوجی بغاوت کرنے والے یا تو آئین کو منسوخ کر دیتے ہیں یا نقصان رساں حصوں کو معطل کر دیتے ہیں۔ ایوب خان کی فوجی مداخلت ناجائز بھی تھی اور سیاسی اخلاقیات کی خلاف ورزی بھی، لیکن یہ کس قدر حیرت کی بات کی ہے کہ ایوب خان ہی نہیں بلکہ ضیا الحق اور پرویز مشرف کی حکومتوں میں یہی جمہوری سورما شامل بھی ہوئے اور ان فوجی آمروں کی سرپرستی میں سیاسی خدمات بھی انجام دیتے رہے۔
بھٹو پاکستان میں جمہوریت کا بانی کہلاتا تھا، 1979ء کے الیکشن میں چھوٹی موٹی الیکشن دھاندلیوں کے خلاف وہ تاریخی ''جمہوری تحریک'' چلائی گئی کہ جنرل ضیا کو اقتدار سنبھالنا پڑا اور دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ تھی کہ تاریخی جمہوری تحریک چلانے والے جمہوریت پسند ضیا الحق کی حکومت میں شامل ہو گئے۔ اس لیے ہوا یہ کہ ہمارے ملک میں کبھی وہ جمہوریت رہی ہی نہیں جو ہونی چاہیے تھی۔
1947ء سے 1958ء تک پاکستان میں جو سول حکومتیں قائم رہیں وہ سیاسی انارکی کا مظہر تھیں، جاگیرداروں اور سول بیوروکریسی کے گٹھ جوڑ کے نتیجے میں اس عرصے میں جو کچھ ہوا وہ ہماری تاریخ کا حصہ ہے، جو جمہوریت چلی اس کا اندازہ محمد علی بوگرہ کے وزیر اعظم بننے اور بیوروکریٹ اور مفلوج غلام محمد کے سیاہ و سفید کا مالک بن جانے سے کیا جا سکتا ہے۔ جب سیاسی اور جمہوری صورت حال یہ ہو تو پھر اقتدار کے حصول کے موقع کی تلاش میں دینے والے آمروں کو آگے آنے اور موقع سے فائدہ اٹھانے سے کون روک سکتا ہے۔
ہمارے جمہوری سیاستدانوں کی جمہوریت پسندی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان ہی جمہوریت پسند سیاست دانوں نے کنونشن لیگ بنا کر ایوب خان کو سہارا دیا اور ان ہی جمہوریت پسند سیاست دانوں نے مسلم لیگ (ق) کے ذریعے جنرل مشرف کو سیاسی بیساکھی فراہم کی۔ آج ہماری سیاست پر نظر ڈالی جائے تو ہر طرف وڈے سیاستدان فوجی آمروں کے تیار کردہ ہی نظر آتے ہیں۔
بلاشبہ فوجی بغاوت اور فوجی آمریت قانونی اور آئینی طور پر ناجائز اور ناقابل قبول ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ سیاستدانوں کے مقابلے میں فوجی آمر عوام میں زیادہ مقبول رہے حالانکہ اپنی آمرانہ ذہنیت اور پالیسیوں کی وجہ سے ان آمروں کو سیاسی مزاحمت کا سامنا رہا لیکن عوام میں ان کی مقبولیت کی وجہ یہ رہی کہ عوام کی بنیادی ضرورت کی اشیا مثلاً آٹا، چاول، تیل، گھی، دالیں، سبزی، گوشت ان کی قوت خرید کے اندر رہیں اور ایوب خان سے مشرف تک کسی پر کرپشن کے وہ الزامات نہیں لگے جو ہمارے سیاستدانوں کی پیشانیوں پر چمکتے دکھائی دیتے ہیں۔
ہمارے ملک میں بھٹو کے دور میں جمہوریت متعارف ہوئی اور بھٹو کے ساتھ ہی رخصت ہو گئی، اس کے بعد جمہوریت کے نام پر جو حکومتیں قائم ہوئیں یا تو ان کا سارا وقت آپس کی لڑائیوں میں گزر گیا یا وہ دولت سمیٹنے میں اس قدر مصروف ہو گئیں کہ عوام کے مسائل حل کرنے کا ان کے پاس وقت ہی نہ رہا۔ یہ ہے وہ جمہوریت جو پاکستان کے 20 کروڑ عوام کے حصے میں آئی ہے اور اس جمہوریت کے مارے مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، علاج سے محرومی، بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کے عذاب سہہ رہے ہیں۔
جنرل راحیل کا تعلق فوج سے ہے لیکن جنرل راحیل وہ کام کرتے رہے جو سیاستدانوں اور حکمرانوں کو کرنا چاہیے۔ ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے جس کا حل ہماری جمہوری حکومت کی ذمے داری تھا لیکن اسے اتفاق کہیں یا حسن اتفاق کہ ضرب عضب کے نام سے فوج نے دہشت گردوں کے گڑھ شمالی وزیرستان کو دہشت گردوں سے پاک کیا۔
آج اگرچہ خیبرپختونخوا سمیت ملک کے کئی علاقوں میں دہشت گردی کی وارداتیں ہو رہی ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دہشت گردوں کو پیچھے ہٹنا پڑا ہے، جس کا اعتراف خود ہمارے سیاستدانوں کو کرنا پڑ رہا ہے۔ بہ ایں ہمہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جمہوری ملکوں میں فوج حکومتوں کے تابع ہوتی ہے اور ہونا چاہیے لیکن سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے ملک میں جمہوریت ہے؟
جن ملکوں میں جمہوریت ہوتی ہے ان ملکوں میں فوجی جنرلوں کی آمد و رفت یعنی ریٹائرمنٹ کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی، نہ سیاستدان اور حکمران فوجی جنرلوں سے خائف رہتے ہیں۔ فوجی جنرلوں سے خوف ان ملکوں میں ہوتا ہے جن ملکوں میں جمہوریت کے نام پر زمینی اور صنعتی اشرافیہ اقتدار میں رہتی ہے اور عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ پاکستان میں سیاسی اشرافیہ کی خوف زدگی کا مشاہدہ عوام نے 2014ء میں اس وقت کیا جب طاہرالقادری اور عمران خان نے اسلام آباد میں دھرنا دیا، وہی خوف آج تک ہمارے سیاستدانوں پر سوار ہے۔
اس خوف سے نجات کسی جنرل کے آنے جانے سے حاصل نہیں ہو گی، بلکہ عوام کے مسائل حل کر کے ان کی حمایت حاصل کرنے سے ہو گی، کرپشن کے الزامات سے بچنے سے ہو گی، اگر کوئی حکومت عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہتی ہے اور عوام اس سے عاجز رہتے ہیں تو پھر غیر جمہوری قوتوں کا خوف تو رہے گا ہی۔ جنرل راحیل 2016ء میں ریٹائر ہو جائیں گے لیکن عوام حیرت سے یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا سیاستدانوں کی ''مدت خدمت'' کا تعین نہیں ہونا چاہیے؟ کیا سیاستدان اس وقت تک عوام کے سروں پر سوار رہیں گے جب تک وہ چلنے، پھرنے اور بولنے سے معذور نہیں ہو جائیں گے؟