تباہ کن موسمی تبدیلیاں اور گرین ہاؤس گیس
دنیا تیزی کے ساتھ خطرناک موسمی تبدیلیوں کی طرف بڑھ رہی ہے
دنیا تیزی کے ساتھ خطرناک موسمی تبدیلیوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ آج کل امریکا اور یورپ سمیت بیشتر ایشیائی ممالک سردی اور برف باری کی لپیٹ میں ہیں۔ پاکستان کے کئی علاقے سخت دھند کی زد میں رہے ہیں، شہروں کے درمیان ٹریفک پر پابندیاں لگیں، بہت ساری پروازیں منسوخ کر دی گئیں، پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا اور بالائی سندھ جان لیوا سردی سے دوچار رہے۔
ان علاقوں میں نظام زندگی درہم برہم ہو کر رہ گیا۔ 20 امریکی ریاستوں میں شدید برفباری سے زندگی مفلوج ہو گئی، 3 دن میں 20 افراد شدید برف باری کی نذر ہو چکے ہیں، ہزاروں پروازیں منسوخ اور ٹرانسپورٹ اور ٹرین سروس معطل کردی گئیں۔ نیویارک میں برف باری سے سڑکوں پر کھڑی گاڑیاں برف میں دفن ہوکر رہ گئیں، ایک ارب ڈالر سے زاید کا نقصان ہو گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکا میں برف باری کا 150 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ برف باری سے ہونے والے نقصان سے عوام کو بچانے کے لیے انھیں گھروں سے باہر نکلنے سے منع کر دیا گیا اور باہر نکلنے والوں کو گرفتار کرنے کی تنبیہ کی گئی۔ ورجینیا میں 40 انچ برف باری ہو چکی ہے۔
عالمی ماہرین موسمیات کے مطابق سردیوں کی شدت کے ساتھ ساتھ دنیا کے بعض خطوں میں گرمی کی شدت میں 7 فیصد اضافے کا خدشہ ہے۔ 2015میں دنیا کا ہر خطہ موسمی تباہ کاریوں کی زد میں رہا۔ پاکستان میں بھی گرمی کی شدت سے پہلی بار سیکڑوں انسان موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ شدید دھند کی وجہ سے حادثات میں درجنوں شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق آنے والے برسوں میں موسموں کی شدت میں اور اضافہ ہو گا۔ پچھلے دنوں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی گئی تھی، جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ دنیا کے سارے ملک درجہ حرارت میں اضافے کی روک تھام کے لیے ہر ممکنہ کوشش کریں گے اور درجہ حرارت میں اضافہ کرنے والی گرین گیس کو کنٹرول کرنے کی کوشش کریں گے۔ صنعتی ترقی کو جاری رکھنے اور انسانی زندگی کو پرتعیش اور آرام دہ بنانے کے لیے گرین گیس کا استعمال ناگزیر ہے۔ صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کی وجہ سے کرۂ ارض پر موجود جانداروں کے مستقبل کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ صنعتی ترقی اور زندگی کی سہولتیں انسان کی زندگی کے ساتھ مشروط ہیں، جب انسان کی زندگی ہی خطرے میں پڑ جائے گی تو صنعتی ترقی کا جواز کیا رہ جائے گا۔
کرۂ ارض پر بسنے والے انسانوں اور انسانی آبادیوں کو پہلی بار اس قسم کے خطرات کا سامنا نہیں، ماضی بعید تو دور کی بات ہے، ماضی قریب میں چند ہزار سال قبل کرۂ ارض جن تباہیوں سے دوچار ہوا اس کے ثبوت موہن جو دڑو، ہڑپہ، ایلورا، اجنتا کے آثار قدیمہ کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہیں اور زیر زمین جانے والی بستیوں کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ چند ہزار سال کا قصہ ہے جب کہ کرۂ ارض کی عمر تین ارب سال بتائی جاتی ہے۔ اس ناقابل یقین طویل عرصے میں دنیا کتنی بار تباہ ہوئی اور آباد ہوئی، کرۂ ارض پر موجود جاندار کتنی بار فنا کے گھاٹ اترے اور کتنی بار دوبارہ زندگی کا آغاز ہوا، اس سوال کا جواب انسان ابھی تک حاصل نہ کر سکا۔
موہن جو دڑو، ہڑپہ، ایلورا، اجنتا سمیت دنیا میں جو بھی زیر زمین بستیاں دریافت ہوئی ہیں ان میں مختلف ضروریات زندگی کی اشیا تو ملی ہیں لیکن کسی زیر زمین بستی میں نہ کلاشنکوف ملی ہے، نہ ٹی ٹی، نہ اسٹین گن، نہ کوئی تھری ناٹ تھری، حتیٰ کہ بندوق، تلوار جیسے عہد گزشتہ کے ہتھیار تک نہ ملے۔ زیر زمین بستیوں کی ماہرانہ تعمیر کے آثار تو ملے ہیں لیکن جنگوں لڑائیوں کے کوئی آثار نہیں ملے۔
ایسی دیواریں یا جلے ہوئے ملبے کے ڈھیر میں بدلے ہوئے مکان ملے جو آج کی ترقی یافتہ دنیا میں دیکھے جاتے ہیں۔ فلسطین، کشمیر، شام، عراق اور کئی افریقی ملکوں میں بمباری سے تباہ ہونے والی عمارتوں کے ڈھانچے اور ملبہ ہماری مہذب اور ترقی یافتہ دنیا کی نشانیاں ہیں لیکن زیر زمین جانے والی بستیوں کی عمارتوں میں تباہی کے ایسے کوئی نشان نہیں ملتے، جس سے اندازہ ہو سکے کہ اس دور میں بھی جنگیں ہوئی تھیں، بستیاں تباہ ہوئی تھیں اور انسان قتل ہوئے تھے، دریافت ہونے والی زیر زمین بستیوں میں، نہ مسجدیں ملیں، نہ مندر، نہ گرجا، نہ پگوڈے۔
یہ مقدس عمارتیں غالباً اس لیے نہیں ملیں کہ پرانے سے پرانا مذہب بھی ان زیرزمین جانے والی پرانی بستیوں کے مقابلے میں نیا ہے۔ ان بستیوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس دور کا ''پسماندہ انسان'' آج کے ترقی یافتہ انسان کی طرح نہ ایک دوسرے سے نفرت کرتا تھا، نہ جنگیں لڑتا تھا، محبت اور بھائی چارے کے ساتھ زندہ رہتا تھا اور ان ہی خوبیوں کے ساتھ جہان فانی سے رخصت ہو جاتا تھا۔
بیسویں صدی سائنس اور ٹیکنالوجی، تحقیق اور دریافت کی صدی تھی، اس صدی میں انسان کا سب سے بڑا کارنامہ انسان کو چاند پر بھیجنا تھا۔ اکیسویں صدی میں انسان مریخ پر اترنے ہی نہیں بلکہ مریخ پر انسانی بستیاں بسانے کی تیاری کر رہا ہے۔ بلاشبہ یہ ساری ترقیاں، ساری دریافتیں انسان کی ناقابل یقین ترقیوں کے ثبوت ہیں، لیکن انسانوں ہی کے ذہن میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا چاند پر جانے اور مریخ پر جانے کی تیاری کرنے والے انسان نے کرۂ ارض کو لاحق خطرات سے نمٹنے کی سنجیدہ اور بامعنی کوشش کی؟ کرۂ ارض انسان کی جنم بھومی ہے اور جنم بھومی کی حفاظت انسان کا سب سے بڑا فرض ہوتا ہے۔
چاند اور مریخ انسانی حسیات کے لیے موزوں ہیں یا نہیں اس کے بارے میں ابھی یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اگر چاند اور مریخ پر انسانی زندگی کے لیے حالات سازگار ہوتے بھی ہیں تو کیا کرۂ ارض پر بسنے والے 7 ارب انسانوں کا ان سیاروں پر انخلا ممکن ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ اربوں ڈالر کے مالکان ان سیاروں پر پہنچ جائیں لیکن یہ قطعی ممکن نہیں کہ 7 ارب انسان چاند اور مریخ پر جا سکیں۔ جب حقیقت یہی ہے تو کیا کرۂ ارض کے انسان کا اولین فرض یہ نہیں کہ وہ اپنی ساری توجہ، اپنی ساری صلاحیتیں، اپنا سارا علم، سائنس اور ٹیکنالوجی کی ساری طاقت کرۂ ارض کو بچانے اور محفوظ رکھنے پر صرف کر دے۔
انسان نے ایٹم بم بنا لیا۔ کیا ایٹم بم کرۂ ارض کو تباہی سے بچا سکتا ہے؟ انسان نے ایٹمی میزائل بنا لیا۔ کیا ایٹمی میزائل کرۂ ارض کو تباہی سے بچا سکتا ہے؟ انسان نے میزائل ڈیفنس سسٹم تیار کر لیا۔ کیا میزائل ڈیفنس سسٹم کرۂ ارض کا ڈیفنس کر سکتا ہے۔ انسان نے پرتھوی، غزنوی، اگنی اور غوری میزائل بنا لیا۔ کیا یہ میزائل کرۂ ارض کو بچا سکتے ہیں۔ انسان نے بغیر پائلٹ کے اڑنے والا ڈرون بنا لیا۔ کیا ڈرون کرۂ ارض کے درجہ حرارت کو بڑھنے سے روک سکتا ہے؟ انسان نے F-15، F-16 بنا لیا۔ کیا یہ طیارے کرۂ ارض کی حفاظت کر سکتے ہیں؟
انسان نے بلیسٹک میزائل بنا لیا۔ کیا بلیسٹک میزائل کرۂ ارض کے درجہ حرارت کو کم کر سکتا ہے؟ انسان نے B-52 بمبار بنا لیا۔ کیا B-52 زمین کے درجہ حرارت میں کمی لا سکتا ہے؟ انسان نے شرمن ٹینک تیار کر لیا۔ کیا شرمن ٹینک کرۂ ارض کے درجہ حرارت کو قابو کر سکتا ہے؟ انسان نے نیپام بم بنا لیا۔ کیا نیپام بم درجہ حرارت کو کم کر سکتا ہے؟ انسان نے کئی قسم کی زہریلی گیسیں تیار کر لیں۔ کیا یہ گیسیں، گرین گیس کو بڑھنے سے روک سکتی ہیں، جو کرہ ارض کی تباہی کے درپے ہیں؟