مرغی نامہ بمقابلہ آدمی نامہ
آنکھوں میں بھی سیاسی کے بجائے سفیدی ہوتی جا رہی ہے جب کہ ماتھے اور کھروں پر ’’برص‘‘ نے سفیدی تھوپ دی ہے۔
ناہنجار چشم گل چشم عرف قہر خداوندی اور حضرت علامہ بریانی عرف برڈ فلو قدس سرہ (قہر خداوندی جب بھی بولتا ہے، ''کدو سرہ'' بولتا ہے) کے درمیان ایک گھمبیر مسئلے پر بڑا ہی گھمبیر پھڈا پڑ گیا تھا، دراصل قہر خداوندی جب بھی فارغ ہوتا ہے تو ''چھیڑ خوباں سے چلی جائے'' کا مظاہرہ کرنے لگتا ہے، اب یہ بھی کوئی مسئلہ ہے کہ آدمی مرغیوں پر جاتے ہیں یا مرغیاں آدمیوں پر جاتی ہیں... یہ بھی تقریباً ویسا ہی معاملہ تھا کہ مرغی پہلے پیدا ہوئی یا انڈا؟، قہر خداوندی کہنے لگا کہ جو لوگ زیادہ مرغیاں کھاتے ہیں وہ مرغیوں کی طرح ہو جاتے ہیں۔
بظاہر اس نے آدمیوں پر خوراک کے اثرات کا موضوع چھیڑا تھا لیکن مقصود علامہ کے مرغی نما سراپے کو نشانہ بنانا تھا کیوں کہ ہم بھی دیکھ رہے تھے کہ علامہ کا ''تن و توش'' روز بروز کسی بانجھ مرغی کی طرح ہوتا جا رہا ہے، چھوٹی چھوٹی ٹانگوں پر ایک بھاری بھرکم گوشت کا ڈھیر اور اس کے سرے پر پتلی سی چونچ، یعنی ترقی اور بڑھوتری کا سارا زور وجود کے درمیانی حصے میں تھا، ناہنجار قہر خداوندی ہے تو بڑا ہی کائیاں چنانچہ سامنے سے گزرتے ہوئے ایک قصائی کو موضوع بناتے ہوئے بولا، بھینس ذبح کرتے کاٹتے کوٹتے اور پھر بے تحاشا گوشت کھاتے کھاتے یہ قصائی بھی باقاعدہ بھینس کی شکل میں ڈھل رہا ہے درمیانی موٹاپے کے ساتھ اس کی چمڑی بھی کالی اور کھردری ہو گئی ہے، مونچھیں نیلی بار بھینس کی سینگوں کی طرح مڑ رہی ہیں اور آنکھوں میں بھی سیاسی کے بجائے سفیدی ہوتی جا رہی ہے جب کہ ماتھے اور کھروں پر ''برص'' نے سفیدی تھوپ دی ہے۔
پھر اس نے موضوع کو پھیلاتے ہوئے کہا کہ اس دن میں نے ایک اخبار میں پڑھا ہے کہ خوراک کا اثر انسانوں پر ضرور پڑتا ہے، دیکھو نا مسلمان لوگ اور پھر خاص طور پر پشتون لوگ گوشت بہت کھاتے ہیں اس لیے آپس میں ہمیشہ ''چھری گوشت'' رہتے ہیں، ہندو دال بہت کھاتے ہیں اس لیے ان میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ کالا کالا رہتا ہے، فلاں کو دیکھو بینگن جیسا ہو رہا ہے اور فلاں باقاعدہ ایک آلو جیسا ہو رہا ہے اور چونکہ فلاں لوکی کدو بہت کھاتا ہے اس لیے باقاعدہ لوکی بلکہ اللہ لوک ہو رہا ہے، ارے ہاں ... ہم سمجھ گئے کہ شریر ناہنجار نابکار قہر خداوندی بات کو عمومی دائرے سے نکال کر خصوصی دائرے میں موڑنے والا ہے اور ایسا ہی ہوا ... بولا... بلکہ علامہ سے پوچھا ۔۔۔ کیا واقعی لوکی کدو پیٹ میں جا کر ثناء کرتا ہے۔
علامہ نے کہا ہاں لوکی بڑی بابرکت سبزی ہے اور یہیں پر ناہنجار نے وہ ''وار'' کر دیا جس کے لیے یہ سارا کٹھڑاگ شروع کیا تھا، علامہ پھر تو یہ مرغیاں بھی پیٹ میں جا کر کڑ کڑ کرتی ہوں گی اور مرغے اذان دیتے ہوں گے ... ہے نا اس ''ہے نا'' سے علامہ بھی سمجھ گیا کہ اس کندہ تراش کا روئے سخن بلکہ ''روئے طعن'' کس طرف ہے اس لیے بولے نہیں مرغے مرغیاں پیٹ میں جا کر ''مرغی چوروں'' کو گالیاں اور کوسنے دیتی ہیں، اب یہ ناہنجار پر براہ راست طنز تھی کیونکہ جوانی میں اس کا ریکارڈ ہی کچھ ایسا تھا یہی وہ وقت تھا جب ناہنجار شف شف چھوڑ کر سیدھا شفتالو پر آ گیا، علامہ کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے بولا... علامہ کیا مجھے ایسا لگ رہا ہے یا آپ واقعی کچھ مرغی نما ہوتے جا رہے ہیں، اس کے بعد علامہ نے جواب تو دیا لیکن اس میں ایک لفظ بھی لکھنے کے قابل نہیں ہے البتہ اردو عربی اور فارسی لغات میں وہ تمام الفاظ موجود ہیں۔
انھوں نے ناہنجار کی سات گزشتہ اور آٹھ آیندہ نسلوں کی خواتین کے رشتے ایسے ایسے جانوروں سے باندھے جو قطعی ناجائز بلکہ ناممکن تھے، لیکن چکنے گھڑے کو بوندوں سے کیا، ناہنجار بدستور اپنے ہونٹوں پر وہی مسکراہٹ لیے بیٹھا رہا ہے جس سے علامہ کا ایکسلریٹر بری طرح دبتا ہے، اب ناہنجار نے یوں پوز کیا جیسے علامہ وہاں تھے ہی نہیں اور یا اگر وہ ہیں بھی اور بول بھی رہے ہیں تو کسی اور سے بول رہے ہیں پھر ہم سے براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے گل افشانی گفتار کا مظاہرہ کرنے لگا کہ یہ مرغ مرغیاں بھی عجیب مخلوق ہیں کہنے کو تو یہ پرندوں کے زمرے میں آتے ہیں لیکن اڑ نہیں سکتے پتہ ہے کیوں؟ پھر خود ہی جواب دیتے ہوئے بولا... اس لیے کہ یہ پیٹو بہت ہیں کھانے کو یہ کام سمجھ کر کرتے ہیں یہاں وہاں جہاں بھی کچھ ملتا ہے ٹھونستے رہتے ہیں نتیجے میں یہ اتنے وزن دار ہو گئے ہیں کہ اڑنے کی صلاحیت ہی کھو بیٹھے... جس طرح بعض لوگ صرف پیٹ کے ہو جاتے ہیں اور کہیں کے نہیں رہتے، وہ صرف نام کے بندے ہوتے ہیں کام کے بالکل نہیں ہوتے ... مطلب یہ کہ مرغی بن جاتے ہیں کہ کوڑے میں ہمیشہ سر دیے رہتے ہیں، کوڑا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا اور کھلونا ہوتا ہے۔
یہاں پر علامہ کو شاید پھر ایسا لگا کہ بات کا رخ بلکہ بیرل اس کی طرف مڑنے والا ہے اس لیے اپنے ''فرمودات عالیہ'' جو وہ ناہنجار کے بارے میں ارشاد کر رہے تھے اور جن کے الفاظ تحریری طور پر صرف لغتوں میں ملتے ہیں ان میں ایک نیا وزن ڈال کر بولے ... اور کچھ لوگ جو بھونکتے ہیں وہ آہستہ آہستہ سگ نما ہو جاتے ہیں، لیکن ناہنجار وہ چکنا کچالو ہے کہ پکڑائی ہی نہیں دیتا اسی بات کو لے کر شروع ہو گیا، ہاں بالکل یہی تو میں کہتا ہوں کہ اکثر لوگ جو نوالے کے لیے جیتے ہیں اور نوالے ہی کے لیے اپنے بھائی بندوں کو کاٹتے ہیں وہ بھی ایسے ہی ہو جاتے ہیں آقا لوگ انھیں وفادار کہتے ہیں لیکن اصل میں وہ اپنی قوم و نسل کے غدار ہوتے ہیں، پھر اپنے پسندیدہ موضوع پر آتے ہوئے بولا... لیکن یہ جو مرغ مرغیاں ہوتے ہیں یہ تو کہیں کے نہیں رہتے ہیں نہ پرندے رہتے ہیں نہ چوپایوں میں ان کا شمار ہوتا ہے پھر ہمیں لگا کہ وہ اپنی ایک پسندیدہ کہانی کے لیے موڈ بنا رہا ہے جو اس نے ہمیں کم از کم پونے چار سو بار سنائی ہوئی تھی۔
حالانکہ ایک دن ہم نے تنگ آ کر اسے بتایا بھی تھا کہ ویسے تو تمہاری یادداشت غضب کی ہے کہانی کا ایک ایک لفظ ازبر ہوتا ہے لیکن یہ کیوں بھول جاتے ہو کہ یہ کہانی سنا سنا کر تم نے ہماری اور کہانی دونوں کا کچومر نکالا ہوا ہے لیکن پھر بھی وہ باز آنے والوں میں سے نہیں ہے، کہانی کے مطابق ایک مرغ نے جانوروں میں شامل ہونا چاہا تو جانوروں نے یہ کہہ کر دھتکار دیا کہ تمہارے چار پاؤں کہاں ہیں جو چوپایوں میں شامل ہو رہے ہو اس کے بعد وہ پرندوں کے پاس چلا گیا تو پرندوں نے یہ کہہ کر اسے رد کر دیا کہ اگر تم پرندے ہو تو ذرا اڑ کر دکھاؤ۔
ہم نے جواب میں اس کہانی کا الٹا ویژن تیار کر کے اسے سنا دیا کہ یہ تو مرغ کے لیے سوبھاگیہ کی بات ہے کہ وہ چاہے تو پرندوں کو بھی دھوکا دے کر ان میں شامل ہو سکتا ہے یا کم از کم لوگوں کو یہ دکھا سکتا ہے اور اگر پرندوں کو کچھ مل رہا ہو تو وہاں بھی قطار میں کھڑا ہو سکتا ہے اس پر قہر خداوندی نے جو جواب دیا وہ اپنی جگہ خود ایک قول زرین ہے ... بولا... وہ بے چارا مرغ ہے کوئی پاکستانی لیڈر نہیں ہے، ٹھیک ہے ہم نے جواباً کہا ... مرغ بے شک پاکستانی لیڈر نہیں بن سکتا لیکن پاکستانی لیڈر تو مرغ بن سکتے ہیں، مرغے کھا کھا کر اور تم خود بتا رہے ہو لیکن انسان جو کچھ کھاتا ہے اسی جیسا ہو جاتا ہے اور تاریخ میں پہلی بار اور شاید آخری بار بھی ایسا ہوا کہ قہر خداوندی نے ہتھیار ڈال دیے اور شاید اس لیے کہ وہ ہر حال میں علامہ بریانی کو مرغا یا مرغی بنانے پر تلا ہوا تھا۔