پاکستان سپر لیگ کا کامیاب انعقاد

دنیاکےبڑےکھلاڑیوں کےشانہ بشانہ ہمارےنوجوان کھلاڑی کھیلتےہوئےمسابقت،ڈسپلن، تکنیک اورٹیم اسپرٹ کےنئےجذبہ سےروشناس ہوں گے


Editorial February 07, 2016
دنیائے کرکٹ کے عظیم کھلاڑی اس لیگ میں شرکت کر رہے ہیں جو بڑی کامیابی ہے۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: گزشتہ دنوں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا رنگ و نور کی برسات میں افتتاح ہو گیا، مہمان خصوصی متحدہ عرب امارات کے وزیر یوتھ، کلچر اور سوشل ڈویلپمنٹ شیخ مبارک النیہان نے اپنے مختصر خطاب میں مہمان کھلاڑیوں اور شائقین کو خوش آمدید کہا ۔

جمعہ کو پاکستان سپر لیگ کے تیسرے میچ میں ایکسپریس نیوز کی ٹیم پشاور زلمی جیت گئی، اس نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 24 رنز سے ہرا دیا۔ چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے اس موقع پر کہا کہ پی ایس ایل میں کرکٹرز کو فرنچائز ٹیموں میں شامل نامور کھلاڑیوں سے سیکھنے کا نادر موقع میسر آئے گا،یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آیندہ سال ایونٹ کے ایک یا دو میچز پاکستان میں کرائینگے جب کہ اس کے بعد آنے والے سال میں ایڈیشن کا انعقاد ملک میں ہی ہو گا۔

بلاشبہ پاکستان سپر لیگ کا افتتاح ایک بریک تھرو ہے۔ یاد رہے آسٹریلیا، بھارت، سری لنکا، ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش اپنی لیگز مقامی طور پر اسپانسر کراتے ہیں جب کہ عرصہ دراز سے پاکستان عالمی کرکٹ ٹیموں کے لیے نو گو ایریا بن چکا ہے تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کے ارباب اختیار نے سیکیورٹی اور لاجسٹک مسائل کو ایک طرف رکھ کر شاندار پیش قدمی کی ہے اور شارجہ و دبئی کو رونق بخشی ہے۔ دنیا کے بڑے کھلاڑیوں کے شانہ بشانہ ہمارے نوجوان کھلاڑی کھیلتے ہوئے مسابقت، ڈسپلن، تکنیک اور ٹیم اسپرٹ کے نئے جذبہ سے روشناس ہونگے۔

ان کا کہنا لائق توجہ ہے کہ اسپنرز کی پچز پر پیسرز کو ورائٹی کے بغیر کامیابی نہیں ملتی۔ علاوہ ازیں اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ اس اسپورٹس میلے سے حاصل تجربات اور کارکردگی کو قومی ٹیم کی آیندہ کارکردگی سے نہ جوڑا جائے، میگا ایونٹ کے لیے الگ اسٹرٹیجی کو مد نظر رکھنا ناگزیر ہو گا۔ بہر حال پاکستان سپر لیگ ایک خواب کی تعبیر ہے۔

جس میں دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ میچز دیکھنے کے لیے ٹیلی ویژن اور فلم کے متعدد نامور اداکار دبئی چلے گئے جس کی وجہ سے پاکستان میں متعدد فلموں اور ٹی وی ڈراموں کی ریکارڈنگ التوا کا شکار ہو گئی ہے، دوسری طرف دنیائے کرکٹ کے عظیم کھلاڑی اس لیگ میں شرکت کر رہے ہیں جو بڑی کامیابی ہے۔