افغان حکومت اور طالبان میں مذاکرات کرانیکی کوششیں

گزشتہ روز ہونیوالے اجلاس کی پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے میزبانی کی۔


Editorial February 08, 2016
گزشتہ روز ہونیوالے اجلاس کی پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے میزبانی کی۔ فوٹو: پی آئی ڈی۔

KARACHI: پاکستان، افغانستان، امریکا اور چین کے حکام پر مشتمل ''چار ملکی رابطہ گروپ'' (کیو سی جی) نے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے آغاز کے لیے ایک روڈ میپ کی منظوری دیدی ہے۔ رابطہ گروپ کا یہ تیسرا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جب کہ چوتھا اجلاس کابل میں ہوگا جس میں مذاکرات کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ اس سے قبل رابطہ گروپ کے دو اجلاس اسلام آباد اور کابل میں گزشتہ ماہ ہو چکے ہیں۔ گزشتہ روز ہونیوالے اجلاس کی پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے میزبانی کی۔

دیگر شرکاء میں افغان نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی، امریکی خصوصی نمایندہ برائے افغانستان و پاکستان (ایف پاک) رچرڈ اولسن اور چین کے خصوصی نمایندہ برائے افغانستان ڈینگ زی جن شامل تھے۔ دفتر خارجہ کے مطابق مشترکہ اعلامیے میں اجلاس کے شرکاء نے گزشتہ دو اجلاسوں میں ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھاتے ہوئے افغان حکومت اور طالبان کے بااختیار نمایندوں کے درمیان جلد امن مذاکرات کے انعقاد کے سلسلے میں مختلف تجاویز پر غور کیا اور روڈ میپ کی منظوری دی جسکی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

ذرایع کے مطابق اس میں اعتماد سازی کے ایسے اقدامات کی تجاویز شامل ہیں جن کے ذریعے طالبان گروہوں کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ ان اقدامات میں اقوام متحدہ کی سفری و دیگر پابندیوں کی فہرست سے سینئر طالبان رہنماوں کے ناموں کا اخراج اور کچھ طالبان قیدیوں کی رہائی کے ساتھ ساتھ سیز فائر جیسے مجوزہ اقدامات شامل ہیں۔ اگر افغان حکومت اور طالبان مذاکرات پر راضی ہوگئے تو براہ راست مذاکرات رواں ماہ کے اواخر تک شروع ہو سکیں گے تاہم مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ براہ راست مذاکرات کا انعقاد بھی چار ملکی رابطہ گروپ کی ایک اہم کامیابی ہوگی۔

مشترکہ اعلامیے میں رابطہ گروپ نے تمام طالبان گروپوں پر زور دیا ہے کہ وہ امن مذاکرات میں شامل ہوں۔ اس کا نتیجہ ایسے سیاسی تصفیے کی صورت میں برآمد ہونا چاہیے جس کے بعد تشدد کا خاتمہ ہو اور افغانستان میں امن قائم ہو سکے۔ قبل ازیں وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے رابطہ گروپ کے اجلاس سے افتتاحی خطاب میں کہا کہ افغانستان میں امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ پرتشدد واقعات کا خاتمہ ہو جو سیاسی مفاہمتی عمل کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔ مذاکراتی عمل میں زیادہ سے زیادہ طالبان گروپوں کا شامل کرنے کی کوششیں کی جائیں۔

ایسا افغان مفاہمتی عمل جس میں تمام افغان عوام کی نمایندگی ہو اس کے ذریعے افغانستان میں امن کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے جس کے لیے پاکستان مستقل کوششیں کر رہا ہے۔ ایسے گروپس جو مذاکرات سے گریزاں ہیں ان کے لیے جگہ کم ہوتی جائے گی۔ چار ملکی مفاہمتی گروپ کا مشترکہ اعلامیہ توحوصلہ افزا محسوس ہوتا ہے مگر افغانستان کی داخلی صورتحال حوصلہ افزا نہیں۔ وہاں حکومت مخالف طالبان اپنی دہشتگردانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جب کہ بھارتی خفیہ ایجنسی کی سازش سے بلوچستان میں بھی تخریب کاری کی ہولناک وارداتیں کرائی جا رہی ہیں۔ افغان امن مذاکرات کرانے کو غیر جانبدار مبصرین نے امن کی فاختہ کو ایک اندھیری سرنگ میں داخل کرانے سے تشبیہ دی ہے۔