یار محمد رند کو رہا نہ کیا جائےچیف جسٹس سے اپیل

رہائی ملی تو ہماری زندگیاں خطرے میں پڑ جائینگی، وہ جیل سے بھی دھمکیاں دے رہا ہے


INP November 05, 2012
مظالم پر خاموش نہیں رہ سکتی، مقتول تاج محمد رند کی بیوہ ہانی بیگم کی پریس کانفرنس. فوٹو: فائل

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رند قبیلہ کے مقتول سردار تاج محمد رند کی بیوہ ہانی بیگم نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے اپیل کی ہے کہ سردار یار محمد رند کو رہا نہ کیا جائے وگرنہ وہ ہمارے خاندان کے باقی ماندہ افراد کو زندہ نہیں چھوڑے گا وہ جیل سے بھی موبائل فون کے ذریعہ ہمیں قتل کی دھمکیاں دے رہا ہے۔

سابق وزرائے اعلیٰ نے تحفظ کیلیے لیویز اہلکار فراہم کیے تھے موجودہ وزیر اعلیٰ نے لیویز کو ہٹا لیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی شکر گزار ہوں کہ انھوں نے قاتل کو گرفتار کروایا۔ جائیداد پر قبضے کیلیے سردار یار محمد رند ہمارے خون سے ہولی کھیل رہا ہے۔ اتوار کو بلوچستان ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہانی بیگم نے کہا کہ گزشتہ 2 دہائیوں سے اپنے ملک میں مہاجر کی زندگی بسر کر رہی ہوں جائیداد پر قبضہ کیلیے یار محمد رند نے اپنے ماموں سردار تاج محمد رند ،میرے بیٹے میر امام بخش رند اورمیرے بھائی میر قیصر خان کو قتل کیا۔ اسکے علاوہ وہ ہمارے خاندان کے درجنوں افراد کے قتل، اغوا برائے تاوان، قبضہ گیری اور دوسرے سنگین جرائم میں ملوث ہے۔ ہمارے گھروں ' زمینوں پر زیرکاشت فصلوں اور باغات کو بلڈوز کر دیا گیا۔ بے گناہ شہری کئی دہائیوں سے اس کے ظلم وستم کے شکار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے یار محمد رند کو تحفظ دیا۔ موجودہ جمہوری حکومت میں بھی ہمیں انصاف نہیںملا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے دورہ کوئٹہ کے دوران میرے سر پر ہاتھ رکھ کر انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی تھی آج مجھے انصاف مل گیا ہے انھوںنے کہا کہ تھانہ میں بند ہونے کے باوجود سردار یار محمد رند مجھے فون پر دھمکیاں دے رہا ہے، میرے پاس صرف ایک23سالہ بیٹا ایک بیٹی اور بھائی ہے میں خود مریض ہوں اس غم سے مجھے ٹی بی ہو گئی دو پسلیاں ٹوٹ چکی ہیں میں یار محمد رند کے مظالم کے خلاف خاموش نہیں رہ سکتی اگر یار محمد رندکو رہا کیا گیا تو ہمارے لوگوں کے قتل کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔