پی آئی اے بحران افہام و تفہیم سے حل کیا جائے

پی آئی اے آج جس نہج پر پہنچی ہے اس میں حکومتی پالیسیوں اور ملازمین دونوں کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا


Editorial February 09, 2016
حکومت اور ہڑتالی ملازمین کو پی آئی اے کی نجکاری کا مسئلہ باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے. فوٹو؛ فائل

پی آئی اے ملازمین کی مجوزہ نجکاری کے خلاف ہڑتال کے باعث گزشتہ چند روز سے معطل فضائی آپریشن حکومت کی کوششوں سے جزوی طور پر بحال ہو گیا ہے اور قومی ایئر لائن کی دو پروازیں جدہ میں پھنسے 700 عمرہ زائرین کو لے کر وطن واپس آئیں۔

خبروں کے مطابق پی آئی اے نے اندرون اور بیرون ملک درجن بھر پروازیں چلا دی ہیں۔ ترجمان پی آئی اے کے بیان کے مطابق اتوار کو اسلام آباد سے 7 پروازیں اندرون اور بیرون ملک 'چار پروازیں سعودی عرب' ایک دبئی' ایک گلگت اور ایک لاہور گئیں۔ وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے میں پی آئی اے کے عملے کی خدمات کو سراہتی ہے۔پیر کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے عمرہ زائرین کے لیے جہاز اڑانے پر رضا مندی ظاہر کرنے سے گزشتہ کچھ دنوں سے جاری تناؤ میں کمی آنے سے بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔

حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری کے خلاف گزشتہ کچھ دنوں سے پی آئی اے ملازمین کی جانب سے ہڑتال کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور ابھی تک حکومت اور ملازمین کسی دوٹوک نتیجے پر نہیں پہنچے اور دونوں فریقین اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ پی آئی اے کے ایک عرصے سے مسلسل خسارے میں جانے کے سبب حکومت کو اس کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے لہٰذا اسے خسارے سے نکالنے اور اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے اس کی نجکاری کی جانا ضروری ہے۔

دوسری جانب ہڑتالی ملازمین کا کہنا ہے کہ نجکاری کے عمل سے ہزاروں ملازمین بیروز گار ہو جائیں گے اور حکومت ان کے متبادل روز گار کا کوئی بندوبست بھی نہیں کر رہی۔ پی آئی اے انجینئرنگ ایسوسی ایشن اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین نے الزام لگایا ہے کہ حکومت ایئر کرافٹ انجینئرز کی کلیئرنس کے بغیر طیارے اڑا کر انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے جب کہ پی آئی اے کے ترجمان نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام فلائٹس کو مکمل قواعد و ضوابط کے تحت اڑایا جا رہا ہے۔

انھوں نے ملازمین سے اپیل کی کہ وہ غیر مشروط طور پر ہڑتال ختم کر کے اپنے فرائض سنبھال لیں' انھوں نے کہا کہ 11 دنوں میں پی آئی اے کو دو ارب سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا ایک حلقہ حکومتی موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب کوئی ادارہ مسلسل خسارے میں جانے کے باعث سرکاری خزانے پر بوجھ بن جائے تو ایسے میں حکومت کب تک اسے سہارا دیتی رہے گی لہٰذا اس کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ اس کی نجکاری کر دی جائے۔

دوسرے حلقے کے مطابق موجودہ حکومت اس نعرے کے ساتھ برسراقتدار آئی تھی کہ وہ کمزور اداروں کی حالت کو بہتر بنائے گی لیکن اب وہ ان اداروں کی حالت بہتر بنانے کے بجائے ان کی نجکاری کر کے اپنے سیاسی موقف سے ہٹ رہی ہے۔ پی آئی اے آج جس نہج پر پہنچی ہے اس میں حکومتی پالیسیوں اور ملازمین دونوں کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا اگر دونوں مل کر کوشش کرتے ہوئے ان خامیوں کو دور کرتے جس کے باعث پی آئی اے خسارے میں جا رہی تھی تو ممکن ہے کہ یہ بہتری کی جانب رواں دواں ہو جاتی اور آج جو صورت حال پیدا ہو چکی ہے وہ نہ ہوتی۔

پی آئی اے ملازمین کی ہڑتال کے باعث حکومت مخالف سیاستدان بھی میدان میں آ گئے ہیں اور وہ ہڑتالی ملازمین کے ساتھ اپنی بھرپور ہمدردیوں کا اظہار کر رہے ہیں' یہ صورت حال حکومت کے لیے اچھا شگون نہیں اگر صورت حال یونہی جاری رہتی ہے تو اس خدشے کا امکان ہے کہ اپوزیشن سیاستدان ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

عمران خان نے بھی اپنے پانچ مطالبات پیش کر دیے ہیں اور ان کی عدم منظوری پر حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کی دھمکی دے ڈالی ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت مٹی کے تیل اور پٹرول کی قیمت میں مزید پانچ روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 20روپے کمی کرے' گیس پر انفرااسٹرکچر ٹیکس' بجلی پر لگائے گئے نئے تین ٹیکس واپس لیے جائیں' پی آئی اے اور اسٹیل ملز کی نجکاری کے بجائے ان کی حالت ٹھیک کی جائے اور بیرون ملک پاکستانیوں کا لوٹا ہوا 200 ارب ڈالر واپس لایا جائے۔

عمران خان نے جو مطالبات پیش کیے ہیں وہ کچھ ایسے مشکل نہیں کہ حکومت ان پر عملدرآمد نہ کر سکے جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کافی حد تک کمی آئی ہے تو حکومت کو اس کا فائدہ عوام تک پہنچانے میں لیت و لعل سے کام نہیں لینا چاہیے۔ حکومت اور ہڑتالی ملازمین کو پی آئی اے کی نجکاری کا مسئلہ باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے اور کوئی ایسا راستہ اختیار کرنے سے گریز کرنا چاہیے جس سے ملک میں انتشار اور افراتفری کو ہوا ملے اور معاملہ پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ جائے۔