مقامی حکومتیں شو پیس
دنیا کے ہر جمہوری ملک میں بلدیاتی ادارے صوبائی حکومتوں کے دباؤ سے آزاد ہوتے ہیں،
KARACHI:
دنیا کے ہر جمہوری ملک میں بلدیاتی ادارے صوبائی حکومتوں کے دباؤ سے آزاد ہوتے ہیں، اگرکسی ملک میں بلدیاتی ادارے صوبائی حکومتوں کے دباؤ میں ہوں تو یہ ادارے نہ صرف بے دست وپا ہوجاتے ہیں بلکہ ان کا وجود بھی بے مقصد ہوجاتا ہے۔
پاکستان میں 9-8 سال بعد بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں ہمارا حکمران طبقہ بلدیاتی انتخابات کو رکوانے کے لیے پورا زورلگاتا رہا، طرح طرح کے بہانے تراشتا رہا لیکن چوطرفہ دباؤ کی وجہ سے ہماری صوبائی حکومتوں کو بلدیاتی انتخابات کرانے پڑے۔
بلدیاتی انتخابات کے لیے حکومتوں کو مجبور کرنے میں ہماری عدلیہ نے اہم کردار ادا کیا، لیکن اس پورے نظام کو مفلوج اور بے اثربنانے کے لیے ہمارا حکمران طبقہ انتظامی اور مالی اختیارات بلدیاتی اداروں کو دینے سے گریزاں ہے اور سارا زور لگا رہا ہے کہ بلدیاتی اداروں کے اختیارات صوبائی حکومتوں کی تحویل ہی میں رہیں۔
صوبائی حکومتوں کی اس مداخلت بے جا کے خلاف ایک بار پھر عدلیہ ایکشن لے رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ''مقامی حکومتوں کو شوپیس نہ بنائیں۔منتخب بلدیاتی اداروں کو اختیارات مستقل کرنے کا یقین دلایا جائے۔''
چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لوکل باڈیز الیکشن کے بارے میں ایک زیرالتوا مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز، سیکریٹری بلدیات اور سیکریٹری کیڈر کو اگلی سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ وہ بتائیں کہ وفاق اور چاروں صوبائی حکومتوں نے آئین کے آرٹیکل 140 اے کے تحت بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے اور انھیں اختیارات منتقل کرنے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں؟ بینچ نے کہا ہے کہ بادی النظر میں بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کے بارے میں وفاق اور صوبائی حکومتوں کا رویہ ''عامیانہ'' ہے۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی تک بلدیاتی اداروں کو آئین کے مطابق اختیارات نہیں ملے ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ عدالت کے احکامات کے تحت بلدیاتی الیکشن تو کرائے گئے لیکن انھیں اختیارات ابھی تک نہیں دیے گئے۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ مقامی حکومتوں کو شوپیس نہ بنایا جائے الیکشن کرائے گئے ہیں تو ان اداروں کو اختیارات بھی دیے جائیں، چیف جسٹس نے فرمایا کہ جن سے حلف لیے گئے اگر انھیں اختیارات نہ دیے گئے تو وہ کیا کام کریں گے۔
ہمارے سیاستدان اٹھتے بیٹھتے جمہوریت کا راگ الاپتے رہتے ہیں اور جب جمہوریت پر عملدرآمد کا وقت آتا ہے تو اپنے ہی ہاتھوں سے جمہوریت کا گلا دبانے لگ جاتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلدیاتی اداروں کے اختیارات آئین میں طے کردیے گئے ہیں آئین کے آرٹیکل 140اے میں بلدیاتی اداروں کے اختیارات کی وضاحت موجود ہے پھر بلدیاتی اداروں کو آئینی اختیارات دینے سے انکار کیا آئین کی بھی خلاف ورزی نہیں ہے؟
حیرت کا مقام ہے کہ جمہوریت کو ممکنہ طور پر لاحق خطرات کے خلاف پارلیمنٹ میں دھرنا دینے والی 13 جماعتوں میں سے کوئی جماعت جمہوریت کی اس کھلی خلاف ورزی کے خلاف احتجاج یا دھرنا تو دور کی بات آواز تک اٹھانے کی زحمت نہیں کر رہی ہے۔
اگر بلدیاتی اداروں کو ان کے آئینی اختیارات نہیں دیے جا رہے ہیں تو اس غیر جمہوری رویے کے خلاف آواز اٹھانا جمہوریت پسند سیاستدانوں کا کام ہے نہ کہ عدالت کا۔ بلدیاتی نظام جمہوریت کی اساس اور جمہوریت کی پہلی سیڑھی ہے اور شرم کی بات یہ ہے کہ ہماری کسی جمہوری اور منتخب حکومت نے بلدیاتی انتخابات کرانے کی زحمت ہی نہیں کی اگر پاکستان میں بلدیاتی انتخابات کرائے گئے اور بلدیاتی نظام روشناس کرائے گئے تو فوجی آمروں کے دور میں ہی کرائے گئے۔
ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک جتنے بلدیاتی انتخابات کرائے گئے اور بلدیاتی نظام متعارف کرائے گئے یہ ان ہی آمروں کے کارنامے ہیں جنھیں ہمارے سیاستدان جمہوریت کے دشمن اور فوجی آمرکہہ کر دلوں کی بھڑاس نکالتے رہتے ہیں۔بلدیاتی نظام کی مخالفت بلدیاتی اداروں کو ان کے آئینی حق سے محروم رکھنا نہ کوئی اتفاقی بات ہے نہ کسی ایک حکمران یا حکمرانوں کا جرم بلکہ یہ غیر جمہوری اقدامات یہ غیر جمہوری رویے اس اشرافیائی جمہوریت کی ضرورت ہیں جو ریاست اور ریاستی اداروں کے سارے اختیارات کو اپنے ہاتھوں میں مرتکز رکھنا چاہتی ہے۔
عوام کے علاقائی مسائل کے حل اور انھیں صوبائی حکومتوں کے رحم وکرم پر چھوڑنے سے بچانے کے لیے ہی بلدیاتی نظام متعارف کرائے گئے اور یہ نظام تقریباً دنیا کے ہر جمہوری ملک میں کامیابی کے ساتھ جاری و ساری ہے۔
پاکستان کے 20 کروڑ عوام اپنے علاقائی مسائل سے عاجز ہیں۔ صرف جنرل (ر) پرویز مشرف کا دور ایک ایسا دور رہا ہے جس میں عوام کے علاقائی مسائل علاقوں کی بنیاد پر حل کرنے کا اہتمام کیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ اس دور میں بلدیاتی اداروں نے ایسی کارکردگی کا مظاہرہ کیا کہ اسے قومی سطح پر ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔ ہماری سیاسی اشرافیہ کی یہ سائیکی ہے کہ وہ ریاستی اختیارات کو جمہوری اصولوں کے مطابق تقسیم کرنے کے بجائے سارے اختیارات کو اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتی ہے۔
اس سائیکی کا جمہوریت اور جمہوری اصولوں اور روایات سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کی جڑیں جاگیردارانہ نظام میں گڑی ہوئی ہیں اور جاگیردارانہ نظام کے استحکام کا عالم یہ ہے کہ ہماری سیاسی اشرافیہ کھلے عام ڈنکے کی چوٹ پر پاکستان کی سیاست کے اقتدار کو اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے قبضے میں رکھنے کے لیے ولی عہدوں کے ریوڑ کے ریوڑ تیار کر رہی ہے۔
بلدیاتی نظام ان ولی عہدوں کے لیے ایک زبردست خطرہ ہے جس کی مخالفت کی ایک بڑی وجہ موروثی قیادت کو تحفظ دینا ہے۔ عوام اگر عدلیہ کی طرف دیکھ رہے ہیں تو یہ سیاست اور جمہوریت کے منہ پر طمانچہ اور جمہوریت کی تذلیل ہے۔