ہندو میرج ایکٹ کی منظوری

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے ہندو میرج رجسٹریشن بل کی منظوری دے دی۔


Editorial February 10, 2016
پہلی ترمیم کے تحت ہندو میرج رجسٹریشن ایکٹ کا اطلاق پورے ملک پر ہو گا جب کہ اصل بل میں قانون کا اطلاق وفاقی دارالحکومت کے لیے تھا۔ فوٹو: فائل

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے ہندو میرج رجسٹریشن بل کی منظوری دے دی۔ بل کے تحت ہندوؤں کی شادیوں کی رجسٹریشن کے لیے اتھارٹی قائم ہو گی، رجسٹرار بالغ اور عاقل ہندو جوڑے کی شادی کی رجسٹریشن کرے گا، شادی کے لیے کم سے کم عمر18 سال ہو گی، مقررہ عمر سے کم ہندو جوڑے کی شادی غیر قانونی تصور ہو گی، قانون کی خلاف ورزی قابل گرفت جرم ہو گا، خلاف ورزی کرنے والے کو 3 سے 6 ماہ قید اور5 ہزار روپے جرمانے کی سزا دی جائے گی۔

قائمہ کمیٹی نے ملک کی ایک اہم اقلیتی برادری کے لیے میرج رجسٹریشن بل کی منظور ی دے کر درست سمت میں پیش رفت کی ہے جس سے ہندو برادری میں تحفظ کا احساس اجاگر ہو گا اور آئینی طور پر اسے ریاست میں اپنے عقائد اور سماجی و مذہبی رسوم و رواج پر کاربند رہنے اور قانونی استحقاق اور حقوق کے حوالے سے کسی قسم کے تحفظات و خدشات نہیں ہونگے۔

واضح رہے بھارت میں ہندو میرج ایکٹ میں ترامیم، فیملی لاء، ہندو خواتین کے میریٹل پراپرٹی رائٹس سمیت طلاق کے بڑھتے ہوئے واقعات سے پیدا شدہ پیچیدگیوں پر بھارتی کابینہ اور میڈیا میں پچھلے چند برسوں سے گرما گرم مباحثے جاری ہیں، تاہم قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے ہندو کمیونٹی کو درپیش ایک اہم سماجی مسئلے کا مثبت حل پیش کیا ہے اور ہندوؤں کی شادی کی رجسٹریشن کا بل کمیونٹی کے کئی خدشات کا ازالہ کر سکے گا۔ توقع کی جانی چاہیے کہ ہندو کمیونٹی بل کا خیرمقدم کرے گی۔

بل کے محرک ڈاکٹر درشن نے کہا کہ کوئی اگر مذہب تبدیل کر لیتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا مگر مذہب کی تبدیلی کے بعد پھر اس مخصوص فرد پر یہ قانون لاگو نہیں ہو گا۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین محمد بشیر ورک کی سربراہی میں ہوا۔ ہندو رہنما رمیش لال نے کہا کہ ہندو کمیونٹی کے افراد کو تبدیلی مذہب پر مجبور کیا جاتا ہے اور مذکورہ شق کی وجہ سے مذہب کی جبری تبدیلی کو تقویت ملے گی لیکن اکثریتی ارکان کا موقف تھا کہ اس شق کی بدولت جوڑے کو تحفظ حاصل ہو جائے گا، حکومتی بل میں 2 ترامیم کرنے کی منظوری دی گئی۔

پہلی ترمیم کے تحت ہندو میرج رجسٹریشن ایکٹ کا اطلاق پورے ملک پر ہو گا جب کہ اصل بل میں قانون کا اطلاق وفاقی دارالحکومت کے لیے تھا۔ سیکریٹری قانون کے مطابق خیبرپختونخوا اور بلوچستان پر اس کا فوری اطلاق ہو گا جب کہ سندھ اور پنجاب اسمبلی سے قرارداد منظور ہونے کے بعد وہاں مذکورہ قانون لاگو ہو جائے گا۔ مذکورہ قانون سازی ہندو کمیونٹی کے لیے ایک مثبت سماجی پیغام ہے جس سے ان میں آئین پاکستان کے تحت مساوی شہری ہونے کا یقین مزید مستحکم ہو گا جب کہ ہندو لڑکیوں سے جبری شادی کے واقعات کا ازالہ ہونے کے علاوہ ان کے شادی بیاہ کے معاملات کو مکمل آئینی تحفظ حاصل ہو سکے گا۔