چیف سلیکٹرنے کوچ اورشہریار کے تحفظات ہوامیں اڑا دیئے

ٹیسٹ اوپنرخرم منظور کو کامران اکمل اور شرجیل خان پر ترجیح دینے کا انوکھا فیصلہ


Sports Reporter/Abbas Raza February 11, 2016
اچھے اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنا رہے ہیں، فارم میں ہونے کی وجہ سے موقع دیا،ہارون رشید فوٹو؛ فائل

CHARSADDA: چیف سلیکٹر ہارون رشید نے خرم منظور کے انتخاب پر ہیڈ کوچ وقار یونس اور چیئرمین پی سی بی شہریار خان کے تحفظات ہوا میں اڑا دیئے۔

تفصیلات کے مطابق ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کیلیے قومی اسکواڈ میں ٹیسٹ اوپنر خرم منظور کی شمولیت کا فیصلہ سابق کرکٹرز اور شائقین سب کیلیے حیران کن رہا، ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ اوپنر کو شامل کرنے پر ہیڈ کوچ وقار یونس کو شدید تحفظات تھے۔

چیئرمین پی سی بی شہریارخان نے بھی ناگواری کا اظہارکیا تھا لیکن چیف سلیکٹر ہارون رشید نے سب کچھ نظر انداز کرتے ہوئے بعض افرادکے مشوروں پر عمل کرنا ضروری سمجھا، انھوں نے ٹیسٹ اوپنر کو کامران اکمل اور شرجیل خان پر ترجیح دینے کا عجیب فیصلہ کیا، اسکواڈ کا اعلان کرنے کے بعد انھوں نے یہ دعویٰ بھی کردیا کہ سلیکٹرز نے کھلاڑیوں کا انتخاب کرتے ہوئے مینجمنٹ اور کپتان سے مشاورت کی ہے۔

انھوں نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ ایشیائی کنڈیشنز اور پلیئرز کی حالیہ فارم کو پیش نظر رکھتے ہوئے تشکیل دیے جانے والے اسکواڈ میں تجربہ کار اور نوجوان کرکٹرز کا امتزاج ہے،احمد شہزاد کو بڑے مواقع دیے،فارم میں نہ ہونے کی وجہ سے اوپنر کا اعتماد متزلزل ہوچکا، اس لیے یہی بہتر سمجھا کہ کسی ان فارم بیٹسمین کو کیوں نہ آزمایا جائے، انھوں نے کہا کہ خرم منظور اچھے اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنا رہے ہیں،محدود اوورز کی کرکٹ میں سنچریاں بھی بنائی ہیں۔

محمد نواز اور رومان رئیس بھی صرف پی ایس ایل کی کارکردگی کی بنیاد پر منتخب نہیں ہوئے،ایک پول میں شامل 52کے قریب کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک اور اے کرکٹ میں مانیٹر کررہے تھے،ان میں یہ بھی موجود تھے۔

ہارون رشید نے کہا کہ نواز اچھی بولنگ کے ساتھ کسی بھی نمبر پر بیٹنگ بھی کرسکتے ہیں،اسی طرح رومان کی بولنگ میں ورائٹی ایشیائی پچز پر کام آسکتی ہے،انور علی پرفارم کرنے کی وجہ سے ہی کھیل رہے ہیں،انھوں نے کہا کہ خرم منظور اور محمد حفیظ کے ساتھ سرفراز احمد و بابر اعظم کو بھی اوپنر کے طور آزمایا جاسکتا ہے۔