فاطمہ ثریا بجیا ایک روشن باب بند ہوا

وہ 15سال سے بستر علالت پر تھیں، ان کی عمر 86 سال تھی۔ وہ 10 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔


Editorial February 11, 2016
وہ 15سال سے بستر علالت پر تھیں، ان کی عمر 86 سال تھی۔ وہ 10 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ فوٹو؛فائل

پاکستانی ادب اور ڈرامے کی ہر دلعزیز شخصیت، ٹیلی ویژن کے ڈراموں کو فیملیمیں مقبول بنانے والی عالمی شہرت یافتہ ادیبہ، افسانہ نویس اور ڈرامہ نگار فاطمہ ثریا بجیا طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئیں۔

وہ 15سال سے بستر علالت پر تھیں، ان کی عمر 86 سال تھی۔ وہ 10 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ بجیا کو ادبی دنیا میں اہم مقام حاصل تھا۔ ان کے انتقال سے اردو ادب اور ڈرامہ نگاری کا ایک عہد تمام ہوا، انھوں نے جس طرح کے لازوال ڈرامے تحریر کیے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی وی کے سنہری دور میں انھوں نے اپنے ڈراموں میں معاشرتی مسائل اور انسانی نفسیات کے پیچیدہ پہلوؤں کو اجاگر کر کے ناظرین کی بڑی تعداد کو اپنا گرویدہ کر لیا۔

فاطمہ بجیا 14 ستمبر 1930ء کو اس وقت کے ہندوستان کے صوبہ حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئیں، ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی اور قیام پاکستان کے بعد پاکستان آ گئیں۔ اسلام آباد ٹیلی ویژن سے 1966ء میں ایک ڈرامے میں کام کرنے کا موقع ملا، انھوں نے اسلام آباد مرکز سے سب سے پہلا طویل دورانیہ کا ڈرامہ ''مہمان'' تحریر کیا۔ فاطمہ ثریا بجیا خواتین کے موضوعات پر ڈرامہ تحریر کرنے میں مہارت رکھتی تھیں، ان کے ڈرامے نہ صرف خواتین بلکہ ہر عمر کے مرد و زن میں بے حد مقبول رہے، ان کے کئی ڈراموں نے شہرت کا ریکارڈ قائم کیا جن میں شمع، سسی پنوں، افشاں، عروسہ وغیرہ شامل ہیں۔

انھوں نے ریڈیو اور تھیٹر کے لیے بھی متعدد ڈرامے تحریر کیے، بچوں کے ادب پر بھی بہت کام کیا، اندرون سندھ بچوں کی تعلیم کے حوالے سے بھی ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ وہ صرف قلم سے جنون کی حد تک لگاؤ رکھتی تھیں۔ وہ اپنے کام میں بے حد سنجیدہ تھیں اور بیماری کی حالت میں بھی انھوں نے لکھنا نہیں چھوڑا۔ بجیا تمام پاکستانیوں کے لیے اکیڈمی کا درجہ رکھتی تھیں، انھوں نے اپنی زندگی ڈرامہ و ادب کے لیے وقف کر دی تھی۔

فاطمہ ثریا بجیا کو سب سے زیادہ سول ایوارڈز ملے، 1997ء میں انھیں صدارتی ایوارڈ برائے تمغہ حسن کارکردگی، 2013ء میں صدر پاکستان نے انھیں ہلال امتیاز، پی ٹی وی ایوارڈ، جاپان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ بھی دیا گیا، مرحومہ وزیر اعلیٰ سندھ کی مشیر برائے تعلیم بھی رہیں۔ بجیا کے انتقال سے اردو نثر کا ایک روشن باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا، ان کی رحلت سے اردو ادب میں نہ پُر ہونے والا خلا پیدا ہو گیا ہے۔ اردو نثر اور ڈرامے کے لیے فاطمہ ثریا بجیا کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔