ترکی اپنے سیکولر ماضی اور نامعلوم مستقبل کے درمیان

صحافیوں کو دی جانے والی سزائوں نے بھی ترکی حکومت کے فاشسٹ کردار کو بے نقاب کردیا ہے .


Zaheer Akhter Bedari November 05, 2012
[email protected]

مسلم ملکوں میں پچھلے دو تین برسوں سے نظریاتی کشمکش میں جو شدت آئی ہے۔

اس کا ایک مظاہرہ ترکی کے قومی دن کے موقع پر دیکھنے میں آیا۔ انقرہ میں جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال پاشا کے سیکولر نظریے کے ہزاروں پیروکار سڑکوں پر نکل آئے۔ انقرہ کی سڑکوں پر سیکولرازم کے ہزاروں حامیوں کا پولیس اور دوسری سیکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم ہوا اور یہ روایتی قومی تقریب، تخریب اور بدانتظامی میں بدل گئی۔ اس حوالے سے ترکی کے معروف روزنامے Today`s Zaman کے کالم نگار Yavuz Baydars نے سوال کیا ہے کہ کیا ایک جمہوری ملک میں عوام کی پرامن ریلی کو طاقت سے روکنا اور اس پر پابندی لگانا جائز ہے؟ ترکی کے غیر جانبدار حلقے بھی یہ سوال کررہے ہیں کہ اسلامی جمہوریت کی دعوے دار حکومت کو کیا یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف کریک ڈائون کرے؟ ترکی کی موجودہ حکومت مسلم دنیا خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں ترکی کو ایک رول ماڈل کے طور پر آگے لانا چاہتی ہے۔

لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ مصطفیٰ کمال کے پیروکاروں سے سخت خوفزدہ ہے۔ جدید ترکی کے بانی اتاترک نے ترکی کو پسماندہ نظریاتی بھول بھلیوں سے نکال کر ایک جدید اور سیکولر جمہوریہ بنایا تھا اور ترکی کے عوام کو اس حقیقت سے روشناس کرایا تھا کہ سیاست میں مذہب کو ملوث کرنے کے کیا کیا نقصانات ہوسکتے ہیں۔ ترکی کی مذہبی جماعتیں اتاترک کے نظریات کی سخت مخالف تھیں۔ کئی مسلم ملکوں میں لبرل آمروں سے تنگ آئے ہوئے عوام نے مذہبی طاقتوں کو آزمانے کی کوشش کی، یہی ترکی میں ہوا۔

ٹریبیون میں اس صورت حال پر مبصرین نے کہا ہے کہ ''ترکی ماضی سے نکل کر ایک نامعلوم مستقبل کی طرف جارہا ہے۔ طیب اردگان نے اپنے دور حکومت کے دوران بہت سی اصلاحات متعارف کرائیں لیکن اپنے نظریاتی کٹر پن کی وجہ سے اس راستے کو ترک کردیا، جس پر سارا مغرب اور مشرق چل رہا ہے۔ یہ راستہ کس قدر دشوار گزار ہے اور اس میں کس قدر بھول بھلیاں ہیں اس کا اندازہ اردگان حکومت کے بعض فیصلوں سے ہوتا ہے جس کا ذکر ہم نے اپنے 30 اکتوبر کے کالم میں ''ترکی اور مصر کے اتحاد کی بنیاد'' کے عنوان سے کیا ہے۔

30 اکتوبر اور یکم نومبر کی رپورٹوں سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اردگان کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کس راستے پر چل پڑی ہے۔ جو اہل قلم، اہل دانش مسلم ملکوں کی ترقی اور خوشحالی کے خواہشمند ہیں، وہ ان بدنما حقیقتوں سے سخت مضطرب ہیں جو مسلمانوں کی مختلف حوالوں سے تقسیم کا سبب بن رہے ہیں۔ اگر ٹریبیون کی یہ رپورٹ درست ہے کہ ترکی اور مصر اس خطے میں ایک سنی بلاک بنانے جارہے ہیں تو ہوسکتا ہے تنگ نظر فرقہ پرستوں کو اس خبر پر مسرت ہو لیکن مسلم ملکوں کی اجتماعی ترقی اور خوشحالی کے خواہشمند حلقوں کی اس تقسیم پر تشویش قطعی طور پر منطقی اور بجا ہے۔

30 اکتوبر کے کالم کے حوالے سے ہمیں بہت سارے فون اور ایس ایم ایس ملے ہیں جن میں اس ممکنہ تقسیم پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے لیکن ہمارا خیال ہے کہ اب صرف تشویش سے کام نہیں چلے گا بلکہ ان 14 سو سال پرانے تنازعات کو کشادہ دلی اور مسلم ملکوں کی اجتماعی بھلائی کے تناظر میں حل کرنے کا کوئی نہ کوئی قابل قبول راستہ تلاش کرنا پڑے گا۔ہمارا ایک مشترکہ المیہ یہ ہے کہ ہم آزادی فکر و اظہار کے مخالف ہی نہیں بلکہ دشمن ہیں۔ ہم ہر اس بات کو کفر اور حرام قرار دے دیتے ہیں جو ہمارے افکار عالیہ سے مطابقت نہیں رکھتی۔ غالباً ہماری پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے یعنی ہم اپنی فکر و نظریات میں وہاں کھڑے ہیں جہاں یورپ تین چار سو سال پہلے کھڑا تھا۔

یورپی ملکوں کے عوام اور اہل فکر نے ایک طویل جدوجہد کے بعد تحریک اصلاح جیسے ہمہ گیر اقدامات کے ذریعے اپنے معاشروں کی فکری پسماندگی کے ان اندھیرے کنوئوں سے باہر نکالا اور آج اسی کامیاب جدوجہد کے صلے میں یورپی اقوام ترقی کے اس مقام پر کھڑے ہیں جسے دنیا تہذیبی سائنس و ٹیکنالوجی کی معراج کہتی ہے۔آج کل ترکی کی ترقی کے بارے میں بڑی دل خوش کن داستانیں مسلم دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ہوسکتا ہے موجودہ ترک حکومت نے بہتر معاشی پالیسیوں کے ذریعے اپنے قومی معاملات کو سلجھانے میں کچھ کامیابیاں حاصل کی ہوں لیکن ان حکمرانوں نے آگے بڑھنے کے لیے جس راستے کا انتخاب کیا ہے وہ راستہ ماضی کی طرف جاتا ہے اور اسی حقیقت کے تناظر میں ترکی کا میڈیا یہ کہہ رہا ہے۔ ترکی اپنے سیکولر ماضی اور نامعلوم مستقبل کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔ پچھلے دنوں جب ترکی کی عدلیہ نے تین سو فوجی افسروں کو کڑی سزائیں دے کر جیلوں میں ٹھونس دیا تو ترکی کے عوام یہ سوچ رہے ہیں کہ ترکی کی عدلیہ کس طرف جارہی ہے۔

صحافیوں کو دی جانے والی سزائوں نے بھی ترکی حکومت کے فاشسٹ کردار کو بے نقاب کردیا ہے۔ ترکی کے اہل فکر حلقوں میں یہ خیال پایا جارہا ہے کہ ترکی معاشرہ ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے جس کے اثرات مشرق وسطیٰ پر بھی پڑیں گے۔ ایسی نازک صورت حال میں ترکی کے یوم جمہوریہ کے موقع پر اتاترک کے ہزاروں پیروکاروں کی ریلی کو تشدد سے روکنے اور مصر کے ساتھ مل کر اس خطے میں ایک سنی بلاک تشکیل دینے کی خبروں سے ترکی کی حکومت کے فرسٹریشن کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ غیر جانبدار حلقے یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ سنی بلاک کے ذریعے ایران کو گھیرنے کے امریکی منصوبے پر عمل کیا جارہا ہے۔

مقبول خبریں