اگر امریکا چلا گیا
امریکا محض وقت ضرورت یا بلیک میلنگ کے لیے ان کا ریکارڈ بھی رکھتا ہے .
امریکا نے اعلان یہ کر رکھا ہے کہ وہ اور نیٹو کی افواج 2014ء میں افغانستان سے چلی جائیں گی۔
لیکن اس ملک اور افغان قوم کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ افغانستان سے باہر کی حملہ آور فوجیں یہاں سے اپنی مرضی سے چلی نہیں جاتیں انھیں نکال دیا جاتا ہے یا وہ یہیں کہساروں میں مر کھپ جاتی ہیں۔ ہو سکتا ہے تاریخ کوئی نیا رنگ دکھا دے لیکن اس ملک میں امریکی فوجیں جس صورت حال سے دوچار ہیں، وہ ماضی سے کچھ ایسی مختلف نہیں ہے۔ امریکا اور اس کی اتحادی فوجیں بھی یہاں سے نکال دی جائیں گی یا پھر وہ یہاں سخت جان افغانوں سے لڑتے لڑتے ختم ہو جائیں گی۔ اس وقت اگر امریکا یہ اعلان کر رہا ہے کہ وہ یہاں سے کوئی دو سال بعد چلا جائے گا تو اس انخلاء کے پیچھے امریکا کی وہ طویل نئی فوجی جدوجہد ہے جس کا میدان افغانستان کو چنا گیا ہے۔ امریکا نے ایک جعلی حادثے 9/11 کا ملبہ مسلمان ملکوں پر ڈال دیا۔ پہلے عراق ختم ہوا، پھر پاکستان میں سے جان نکال لی گئی لیکن افغانستان سخت جان ثابت ہوا، اس کی جان نکالنے میں امریکی سپر پاور کو خاصی زحمت کرنی پڑی ہے اور نتیجہ اب بھی غیر یقینی ہے۔
امریکا میں ہمارے سابق سفیر حسین حقانی نے امریکا کے بڑے اخبار واشنگٹن پوسٹ میں حالات کا ایک تجزیہ کیا ہے۔ طویل عرصے تک پاکستان کی سفارت کرنے اور ایک لمبی مدت سے امریکا کے ساتھ تعلق اور اس ملک اور قوم کے مطالعے سے وہ اس قابل ہیں کہ امریکا اور اس مسلمان خطے کے بارے میں کوئی رائے دے سکیں اور اسے غور کے ساتھ پڑھا سنا جائے۔ وہ واشنگٹن پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ افغانستان سے نیٹو کے انخلاء کے بعد پاکستان بیرونی دبائو سے آزاد ہو جانے والے طالبان کا مقابلہ نہیں کر سکے گا اور اس صورت حال میں امریکا کو ایک بار پھر اس خطے میں واپس آنا پڑے گا ورنہ صورت حال قابو میں نہیں رہے گی اور یہ خطہ ایک نئے بحران سے دو چار ہو جائے گا ۔حقانی لکھتے ہیں کہ اتحادی فوج کے انخلا کی صورت میں طالبان اور القاعدہ دوبارہ فعال ہو جائیں گے۔
سابق پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ بعض طالبان گروپوں کی مدد سے اتحادی افواج کے انخلا کے بعد پاکستان افغانستان میں اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے بھی پر امید ہے۔ امریکا کو افغانستان سے فوجی انخلا کے بجائے 2014ء کے بعد بھی طویل مدت تک قیام کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ امریکا اور ان کے اتحادیوں نے افغانستان چھوڑ دیا اور طالبان و القاعدہ کو چھوٹ دی تو امریکی فورسز کو یقینی طور پر ایک اور نائن الیون طرز کے حملے کے بعد خطے میں واپسی کے لیے تیار رہنا ہو گا جب کہ قبل از وقت انخلا انتہا پسند نظریات کے فروغ کا باعث ہو گا۔ ہمارے سابق اور حاضر حکمرانوں نے پاکستان کے ساتھ جو کر دیا ہے، وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔
فوجی حکمران پرویز مشرف جس کے دور میں 9-11 ہوا تھا، امریکا کی ایک فون کال پر سجدے میں گر گئے۔ خیال تھا کہ ان کے بعد ہمارے منتخب سول حکمران صورت حال کو سنبھالیں گے مگر حکومت کے استحکام کی خاطر یہ حکمران بھی خوشامد کے سوا کچھ نہ کر سکے۔ ان کے ساتھ ایک دوسرا مسئلہ یہ بھی تھا کہ ان کی کرپشن کا امریکا شاہد تھا اور اس کی گواہی دنیا بھر میں مانی جاتی ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ دنیا بھر میں دس ہزار ڈالر سے زیادہ کا لین دین جہاں بھی ہوتا ہے، وہ نیو یارک میں امریکا کے متعلقہ دفتر کے ریکارڈ میں آ جاتا ہے۔ علاوہ ازیں باہر کی دنیا کے حکمران جو کرپشن کرتے ہیں۔
امریکا محض وقت ضرورت یا بلیک میلنگ کے لیے ان کا ریکارڈ بھی رکھتا ہے بہر کیف ہمارے سویلین حکمران ہر گز اس قابل نہیں تھے کہ امریکا سے سرتابی کر سکتے چنانچہ جب بھی امریکا کو ضرورت پڑی پاکستان نے اس کی مکمل مدد کی مثلاً اسامہ بن لادن کے معاملے میں پاکستان نے اپنی فضائیں تک خالی کر دی تھیں اور امریکی ہیلی کاپٹروں نے اطمینان کے ساتھ اپنا مقصد حاصل کیا۔ ایسی دوسری نئی چھوٹی موٹی بہت سی باتیں ہیں اور ڈرون حملے ایک زندہ مثال ہے۔ حقانی کے خیال میں امریکی انخلاء کے بعد یہاں کی صورت حال کسی کے قابو میں نہیں رہے گی۔ ہمارے سابقہ سفیر نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اگر طالبان اور القاعدہ کو چھوٹ دی گئی تو اس سے جو صورت حال پیدا ہو گی، اس پر قابو پانے کے لیے امریکا کو ہر صورت میں واپس آنا پڑے گا۔ یہ انخلاء قبل از وقت ہو گا۔
ہم پاکستانیوں کو یہ سوچنا ہے کہ کیا ہم القاعدہ اور پاکستان مخالف طالبان کا مقابلہ کر سکیں گے ، ہر گز نہیں۔ ہماری تنظیمی طاقت بکھر چکی ہے اور حالت یہ ہے کہ امریکی فوجوں کی سرگرم موجودگی کے باوجود ہم اپنا کوئی تہوار بھی اطمینان کے ساتھ نہیں منا سکتے۔ خدا کے حضور کھڑے ہوتے ہیں مگر دل میں طالبان کا خوف جاگزین ہوتا ہے۔ ہمارے لیے جس طرح غیر ملکی فوجوں کا آنا خطرناک تھا، اسی طرح ان کا جانا اس سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ہماری جو سیاسی قیادت موجود ہے، مجھے اس میں کوئی سیاسی گروہ ایسا نظر نہیں آتا جو مستقبل پر نگاہ رکھ کر قوم کو کوئی ناپسندیدہ رائے پیش کر سکے۔ الیکشن سر پر ہے اور ووٹ لینے ہیں، اس لیے فی الوقت صرف وقت دعا ہے اور دعا یہ ہے کہ ابھی امریکا نہ جائے اور پاکستان کو اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا وقت دے دے لیکن امریکا ایسا کیوں کرے گا۔ اس کے مقاصد اپنے ہیں۔