حج پالیسی 2016 کوٹہ سسٹم ختم کرنے کی سفارش

یہ خوش آیند ہےکہ وی آئی پی کوٹےکابھی خاتمہ کیا جارہا ہے اور سرکاری اسکیم کے تحت آنے والی درخواستوں کی قرعہ اندازی ہوگی


Editorial February 13, 2016
حج پر جانے کی خواہش ہر مسلمان کے دل میں جاگزیں رہتی ہے، امرا سے قطع نظر اس بات کو مدنظر رکھا جائے کہ غریب مسلمان بھی اپنی اس خواہش کی تکمیل کرسکیں۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

KARACHI: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے نئی حج پالیسی سے متعلق سفارشات دیتے ہوئے کہا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کے لیے مختص ہارڈشپ کوٹے کا خاتمہ، معاونین کے لیے دوران ڈیوٹی حاجیوں کی خدمت کو یقینی بنانے اور مفت حج کا تصور ختم کیا جائے۔

ارکان پارلیمنٹ کے لیے مختص کوٹہ سسٹم اور مفت حج کا تصور ختم کرنے کی سفارش قابل ستائش ہے اس سے نہ صرف عام لوگوں کا احساس محرومی ختم ہوگا بلکہ ایک قابل تقلید مثال قائم ہوگی۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کی مجلس قائمہ برائے مذہبی امور کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری مذہبی امور نے واضح کیا کہ حج پالیسی 2016 میں سیاستدانوں، ججز، فوجی افسران، افسرشاہی اور ممبران پارلیمنٹ سمیت کسی کے لیے کوئی حج کوٹہ نہیں ہوگا، اور کسی کو مفت حج نہیں کرایا جائے گا۔

یہ خوش آیند ہے کہ وی آئی پی کوٹے کا بھی خاتمہ کیا جارہا ہے اور سرکاری اسکیم کے تحت آنے والی درخواستوں کی قرعہ اندازی ہوگی، رہ جانے والوں کے نام ویٹنگ لسٹ میں شامل کیے جائیں گے اور ڈراپ آؤٹ کی صورت میں ویٹنگ لسٹ سے نام شامل کیے جائیں گے۔ اس طرح سب کو برابر کے مواقع میسر آئیں گے۔

زخمی حاجیوں کا معاوضہ 50 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے، جب کہ معاونین کی حیثیت سے حج پر جانے والوں کو معاوضہ ادا نہیں کیا جائے گا، نہ ہی حج اسٹاف کو ٹی اے ڈی اے فراہم کیا جائے گا۔ چند برس پہلے حج کمپنیوں کی جانب سے فراڈ اور حجاج کرام کو سہولتوں کی عدم فراہمی کی شکایات بھی رپورٹ ہوئی تھیں اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

کمیٹی نے رواں سال نئی حج کمپنیوں کو کوٹہ جاری کرنے سے متعلق تفصیلات مانگ لی ہیں لیکن ان کے بارے میں مکمل تحقیقات لازم قرار دی جائیں۔ 18 فروری کو سعودی وزارت حج کے حکام سے مذاکرات ہوں گے، اس کے بعد نئی کمپنیوں کو کوٹہ دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

حج پر جانے کی خواہش ہر مسلمان کے دل میں جاگزیں رہتی ہے، امرا سے قطع نظر اس بات کو مدنظر رکھا جائے کہ غریب مسلمان بھی اپنی اس خواہش کی تکمیل کرسکیں، اس لیے نہ صرف حجاج کے لیے سہولتوں کو مزید بہتر بنایا جائے بلکہ اخراجات میں بھی کمی کی جائے۔