جگاڑ لب جب اور لم سم
پڑوسی ملک کسی اور معاملے میں ہم سے آگے ہو نہ ہو لیکن ایک معاملے میں وہ ہم پر سبقت حاصل کر چکا ہے
پڑوسی ملک کسی اور معاملے میں ہم سے آگے ہو نہ ہو لیکن ایک معاملے میں وہ ہم پر سبقت حاصل کر چکا ہے اور وہ ہے ''نام کرن'' کا معاملہ ... یعنی کسی چیز پر موزوں ترین اور اچھا خاصا دل چسپ نام رکھنا، جیسے بھوک ہڑتال کے لیے ان شن، مظاہرے اور جلوس کے لیے مورچا، گورنر کے لیے راج پال، وزیر اعلیٰ کے لیے مکھ منتری اور وزیر اعظم کے لیے پردھان منتری، صدر کے لیے راشٹر پتی، انتخابات کے لیے مت دان، سربراہ کے لیے ادھیکشن، ٹیلی ویژن کے لیے دور درشن وغیرہ، لیکن جن ناموں پر ہم عش عش کرنے والے ہیں وہ ہے جگاڑ اور بن داس ... کیا الفاظ ہیں یوں کہئے کہ سات سمندروں کو ایک چھوٹے سے کوزے بلکہ ''لوٹے'' میں بھر دیا گیا ہو، وہاں پر کسی چیز کی مقبولیت کا پیمانہ فلم ہوتا ہے چنانچہ ''جگاڑ'' کے نام سے بھی فلم بن چکی ہے۔
ہو سکتا ہے کہ بن داس پر بھی بنی ہو یا بننے والی ہو لیکن فی الحال ہم جگاڑ کی بات کر رہے ہیں، جگاڑ کا مطلب ویسے تو کرپشن ہوتا ہے لیکن کرپشن کے لیے پہلے سے ایک لفظ ''بھرشٹا چار'' موجود ہے، یہ جگاڑ دراصل ایک خاصے کی چیز ہے جس میں کرپشن کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت کچھ آ جاتا ہے، یوں کہئے کہ یہ ہاتھی کا وہ پاؤں ہے جس میں سب کے پاؤں سما سکتے ہیں، جگاڑ اور کرپشن میں بقول ہندیاں بہت ہی ''انترگت'' ہے ایک تو کرپشن بدیسی لفظ ہے اور جگاڑ شدھ دیسی بھاشا کا لفظ ہے لیکن کمال کی بات تو یہ ہے کہ ہند کی کسی بھی زبان کا نہیں ہے اور دوسرے کمال کی بات ہے کہ ہر زبان میں بولا جاتا ہے یوں کہئے کہ اس کا نہ کوئی گھر ہے نہ ماں باپ لیکن پھر بھی ہر گھر اس کا ہے۔
ویسے تو اگر ہم اس کے معنی نکالنا چاہیں تو اس کے لیے یہ ایک کالم تو کیا پورا اخبار بلکہ ایک کتاب بھی ناکافی ہو گی کیوں کہ یہ اتنا کثیر الاستعمال، کثیر المقاصد، کثیر الورود اور کثیر الوجود ہے کہ دنیا میں ایسا کوئی مقام دریافت ہی نہیں ہوا ہے جو اس کے اثرات سے بچا ہوا ہو، کرپشن تو جگاڑ ہے لیکن جگاڑ صرف کرپشن نہیں ہے بلکہ اور بھی بہت کچھ ہے، آپ سوچیں گے کہ آج ہم نے یہ جگاڑ کا جگاڑ کیوں شروع کیا ہے تو وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اس کا وجود تو ہے اور بہت ہے بلکہ پڑوسی ملک سے کئی گنا زیادہ ہے لیکن نام نہیں ہے اور آپ نے یہ تو سنا ہی ہو گا کہ گدھا اگر گدھے سے کم ہو تو کان کاٹنے کے لائق ہے اور تربور اگر توبور سے کم نکلے تو اس کا بھٹا سا سر اڑا دینا چاہیے، اس لیے اپنے سر کی خیر مناتے ہوئے ہمیں اس کا کوئی متبادل ڈھونڈنا چاہیے لیکن پرابلم یہ ہے کہ یہاں انگریزی کے سرکاری سائے میں جتنی بھی زبانیں پائی جاتی ہیں ان سب میں جگاڑ کے لیے کوئی جگاڑ نہیں ہے۔
کرپشن، بدعنوانی، حرام خوری، بے ایمانی، بددیانتی، رشوت خوری، گھپلے بازی، سیکنڈل سازی بہت سارے الفاظ ہم استعمال کرتے ہیں لیکن ان سب میں ایک تشنگی سی پائی جاتی ہے، ان سب کو ملا کر اگر ایک ملغوبہ بھی بنایا جائے تو بھی پھیکا پکوان ہی رہے گا کیونکہ جو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیں، جناب شیخ اگر دنیا بھر کے شیمپو اور بال اگاؤ بھی استعمال کرے تو وہ مولوی مدن کی سی بات نہیں بنے گی، چنانچہ یہ ذمے داری ہم نے رضاکارانہ طور پر اور خالص قومی جذبے سے اپنے اوپر اٹھالی ہے، موجودہ وقت میں جہاں جہاں وزیر کم ہوتے ہیں وہاں وہاں مسائل بھی کم ہوتے ہیں کیوں کہ مسائل پیدا کرنے میں وزیر
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت ذرخیز ہے ساقی
ان بادشاہوں کے سامنے بھی جب کوئی بھولا بھٹکا مسئلہ آتا تھا تو اسے وزیر کے متھے مار دیتے تھے وزیر مہلت مانگ کر فوراً گھر جاتا تھا جس کے کونے میں ایک جھلنگی چارپائی مستقل پڑی رہتی تھی وزیر سیدھا جا کر اس میں غروب ہو جاتا تھا ہمیشہ کی طرح اس کی ایک بیٹی بھی ہوتی تھی جو چندے آفتاب اور چندے ماہتاب ہونے کے ساتھ ساتھ چندے سقراط اور چندے بقراط بھی ہوتی تھی وہ آ کر اپنے باپ سے ماجرا پوچھتی تھی اور وزیر کے بتانے پر چٹکی بجا کر اس کا حل نکال لیتی تھی آخری نتیجہ بادشاہ یا شہزادے کی اس وزیر زادی سے شادی نکلتا تھا۔
ہماری قسمت میں اور تو کچھ نہیں ہے البتہ غور کا وہ حوض جس کا رقبہ 4x6 فٹ اور گہرائی تین فٹ ہے اور جو جھلنگی چارپائی کے شیپ میں ہے ضرور ہے، کوئی حل بتانے والا یا والی بھی میسر نہیں ہے اس لیے خود ہی... ہم کوزہ و ہم کوزہ گروہم گل کوزہ ... ہو جاتے ہیں کافی دیر ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر نکلے کا شغل کرنے کے بعد حل تو نہیں نکلتا لیکن ہم ذرا تازہ دم ہو جاتے ہیں، چنانچہ اس مرتبہ بھی اپنے غور کے حوض میں ذرا تازہ دم ہوئے تو باہر نکلے اور جیسے ہی نکلے سامنے دو آدمی محو گفتگو پائے اور پھر اچانک ان کی گفتگو میں ہم نے اپنے مسئلے کا حل پا ہی لیا، ایک دوسرے کو بتا رہا تھا کہ اس کے بیٹے کو محکمہ انہار میں نوکری نہیں ملی کیوں کہ اس پر محکمہ صحت کے فلاں وزیر کا آدمی لے لیا گیا ہے۔
دوسرے نے پوچھا مگر محکمہ صحت کے وزیر نے محکمہ انہار میں کیسے ملازمت دی، دوسرے دل جلے نے گالیوں میں لپیٹ کر کہا ''لب جب بھائی لب جب'' اس ''لب جب'' کی ترکیب پر ہمارے بھی کان کھڑے ہو گئے اس آدمی نے لب جب کی تفصیل یہ بتائی کہ محکمہ انہار کے وزیر کے حلقے میں وزیر جنگلات نے ایک آدمی بھرتی کیا محکمہ جنگلات کے وزیر نے محکمہ وزیر تعلیم کے حلقے میں آدمی لیا، محکمہ تعلیم کے وزیر نے بدلے میں کسی اور وزیر کا آدمی اپنے محکمے میں لیا یوں وزیر در وزیر اور حلقہ در حلقہ ''لب جب'' ہوئی اور اس پوسٹ پر وزیر انہار کا آدمی لگ گیا۔
بڑا ہی خوب صورت لفظ ہاتھ لگا ''لب جب'' جو جگاڑ کے تمام معنوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ویسے تو انگریزی میں اس مفہوم کے ''مینج'' کا لفظ بھی ہے یعنی پلیز مینج یا آئی مینج یا یو ول مینج... لیکن مینج کے حلقہ حدودات سے پھر بھی بہت سارے کام باہر نکلے ہوئے لگتے ہیں جب کہ جگاڑ اور ''لب جب'' میں وہ سب کچھ آ جاتا ہے جو ہوتا رہتا ہے اور جو ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے، یہ وہ امرت دھارے ہیں جن کے حلقہ اثر سے کوئی بھی سرکاری یا غیر سرکاری گھپلہ باہر نہیں ہے، چنانچہ ہمارا خیال ہے کہ ہم اگر پڑوسی ملک کے جگاڑ کا کوئی کرارا جواب دے سکتے ہیں تو وہ ''لب جب'' کے ذریعے دے سکتے ہیں بلکہ ان کے جگاڑ کا صرف نام ہی نام ہے جب کہ ہمارے ''لب جب'' میں بہت زیادہ معنوی خوبیاں بھی ہیں ...
مثلاً ''لب'' ہونٹوں کو کہا جاتا ہے اور جو بھی کام ہونٹوں سے ہو کر گزرتا ہے وہ ''لب'' میں آ جاتا ہے اور ایسا کون سا معاملہ ہو گا جو ''لبوں'' کو ہلائے بغیر چل سکتا ہو جب کہ لفظ ''جب'' میں ''جیب'' کا مفہوم ہے اور ''جیب'' ظاہر ہے کہ ''جیب'' ہی ہوتی ہے ویسے زبان کو بھی جیب کہتے ہیں یعنی جس طرف سے بھی دیکھئے ''لب جب'' کی سفارش ہو رہی ہے ''لب'' سے لباس کا مفہوم بھی لیا جا سکتا ہے کیوں کہ ''لب لباس'' مکاری اور جھوٹ کا ہم معنی ہے، مطلب کہنے کا یہ ہے کہ اگر اس خالص قومی اور ملکی ''کام'' کو اپنا بنانا ہو جیسا کہ پڑوسیوں نے جگاڑ کے ذریعے اپنایا ہوا ہے تو اس کے ''لب جب'' سے بہتر لفظ اور کوئی نہیں اور ویسے بھی یہ انگریزی کے ''لم سم'' کے قبیلے کا لگتا ہے
لم سم، لم سم دے دے یار
تیرا میرا کیا بیوپار