سندھ مکانات کے کرایوں پر سیلز ٹیکس

سندھ میں امن و امان میں بہتری کے ساتھ ہی سیاسی اور پارلیمانی سرگرمیوں کا پرجوش سلسلہ خوش آیند ہے


Editorial February 17, 2016
اب بھی ضرورت ایسے قانون سازی کی ہے جس سے صوبہ سندھ کے عوام کو تحفظ خوشحالی اور آسودگی نصیب ہو۔ فوٹو: فائل

سندھ میں امن و امان میں بہتری کے ساتھ ہی سیاسی اور پارلیمانی سرگرمیوں کا پرجوش سلسلہ خوش آیند ہے، پارلیمانی بحثوں میں نوک جھونک بھی ہوتی ہے مگر قانون سازی پر سنجیدہ مباحث جمہوری عمل کا حصہ ہوتے ہیں جسے مہذب جمہوری معاشروں میں قانون و آئین کے دائرہ میں رکھنے کا کلچر خاصا مستحکم ہوتا ہے۔

اس حوالے سے منتخب اراکین سندھ اسمبلی کو صوبے کے بہتر مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے خیرسگالی ،اشتراک عمل اور کثیر جہتی تعلقات کار کا ایسا میکنزم وضع کرنا چاہیے کہ اس کے منطقی نتیجے میں کراچی میں امن قائم ہو ، سندھ کو غربت، ناخواندگی، بیروزگاری اور دہشتگردی سے نجات مل جائے، گزشتہ روز سندھ اسمبلی نے سندھ سیلز ٹیکس آن سروسز ( ترمیمی ) بل کی کثرت رائے سے منظوری دے دی ۔

اپوزیشن ارکان نے اس بل کی مخالفت کی، بل پر بحث کے دوران سینئر صوبائی وزرا نثارکھوڑو اور مراد علی شاہ کے ساتھ اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن کی تلخ کلامی بھی ہوئی تاہم اراکین نے ہندو، جین اور سکھ برادریوں میں ہونے والی شادیوں کی رجسٹریشن سے متعلق سندھ ہندوز میرج بل 2016ء کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی جو ایک لینڈ مارک اقدام ہے۔

اسمبلی کے اجلاس میں سندھ سیلز ٹیکس آن سروسز(ترمیمی) بل پر سینئر وزیر نثارکھوڑو نے بتایا کہ قانونی سقم دور کرنے کے لیے یہ ترمیم لائی گئی ہے۔ ادھر سندھ حکومت نے اگرچہ سپریم کورٹ میں شو آف ہینڈز اور مخصوص نشستوں کے متعلق ترامیم کو سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے غیر قانونی قرار دیے جانے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے تاہم سیاسی مبصرین نے صوبہ کے معاملات کو آئینی اور قانونی فورمز پر حل کرنے کی موجودہ روش کو مستحسن قراردیا ہے۔

وزیراعلی سندھ نے ایک بیان میں مردم شماری کو سندھ کی زندگی اور موت سے تعبیر کیا ہے جب کہ ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے کہا کہ مکان یا کوئی غیرمنقولہ جائیداد کرائے پر دینے پر ٹیکس عائد نہ کیا جائے،99 فیصد سیلز ٹیکس شہری علاقوں خصوصاً کراچی، حیدر آباد اور سکھر سے وصول کیا جاتا ہے، ان علاقوں پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔ یہ استدلال وزن رکھتا ہے ، جو شہری کرائے کے مکانوں میں رہتے ہیں وہ پہلے سے زیر بار ہوتے ہیں، انھیں ریلیف ملنے کی ضرورت ہے۔کراچی کنکریٹ کا جنگل بنا ہوا ہے۔

ایک تعمیراتی حبس اور گھٹن میں بند فلیٹس کے مکین سیلز ٹیکس کو خوش آمدید نہیں کہہ سکیں گے۔ تاہم یہ امر قابل اطمینان ہے کہ ہندو میرج بل پر بحث کے دوران مسلم اور غیرمسلم ارکان نے اس قانون کی تعریف کی اور کہا کہ قیام پاکستان کے بعد ایسا کوئی قانون نہیں تھا، اس قانون کی بہت پہلے سے ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ اب بھی ضرورت ایسے قانون سازی کی ہے جس سے صوبہ سندھ کے عوام کو تحفظ خوشحالی اور آسودگی نصیب ہو۔