جس کو ہو دین و دل عزیز

اتنی پابندیاں اتنی رکاوٹیں تو شاید کسی کو کسی پرائے ملک میں بھی نہیں جھیلنا پڑتیں جتنی ہمیں اس شہر میں جھیلنا پڑتی ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq February 17, 2016
[email protected]

ویسے تو حضرت غالبؔ کے بہت سارے اشعار میں ''پشاور'' جھلکتا ہے جیسے

نقش فریادی ہے کس کی شوخئی تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

اور اگر اس میں نقش، کی جگہ نقد لگا دیا جائے تو اور بھی زیادہ حسب حال ہو جائے گا اور اگر پورے صوبے پر پھیلایا دیا جائے تو ''کاغذی ہے پیرہن'' کا مفہوم نور علیٰ نور ہو جائے گا لیکن اس وقت ہم جس شعر کو سب سے زیادہ ''پشاوری'' پاتے ہیں وہ ہے

شرح اسباب گرفتاری خاطر مت پوچھ
اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا

کسی اور کا تو پتہ نہیں لیکن ہم جب بھی اس شہر میں ہوتے ہیں یہی شعر ہم پر اپنے مکمل مفہوم کے ساتھ طاری ہوتا ہے یا کسی نادیدہ قفس میں بند ہو کر چلتے رہتے ہوں، شہر سے نکلنے کے بعد بھی

چھوٹ کر کنج قفس سے بھی یہ کھٹکا نہ گیا
جب صبا آئی تو جانا ''کوئی'' صیاد آیا

وہ محفلیں وہ معرکے وہ شادیاں غمیاں تو اب داستان پارینہ بن گئی ہیں جو ملنے ملانے کا وسیلہ بنتی تھیں ضروری تقاریب بھی ہم سے چھوٹ جاتی ہیں لوگ ناراض ہو جاتے ہیں طرح طرح کی پھبتیاں کستے ہیں کہ ہاں بھئی تم تو اب بڑے آدمی ہو گئے، یہ ہو گئے وہ ہو گئے لیکن اصل بات وہی ہے کہ شہر جانے پر بلکہ جانے کا خیال بھی آئے تو دل ڈوب سا جاتا ہے گویا

سوچتے سوچتے دل ڈوبنے لگتا ہے مرا
ذہن کی تہہ میں مظفرؔ کوئی دریا تو نہیں

اور یہ ''دریا'' واقعی موجود ہے بلکہ وہ دریا ہے جس کے بارے میں جگرؔ مراد آبادی نے کبھی کہا تھا کہ اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے، قدم قدم پر ڈبکیاں کھانا پڑتی ہیں۔

اتنی پابندیاں اتنی رکاوٹیں تو شاید کسی کو کسی پرائے ملک میں بھی نہیں جھیلنا پڑتیں جتنی ہمیں اس شہر میں جھیلنا پڑتی ہیں جو کبھی ہمارا اپنا ''ہوا'' کرتا تھا، چلو تو ایک مصیبت رکو تو دوسری مصیبت۔ خاص طور پر ان کی وہ غزل جس کی ردیف ہے ''تینوں ایک ہیں'' اس میں رحمن بابا نے ہر شعر میں ایسی تین چیزوں کا ذکر کیا ہے جو الگ الگ ہوتے ہوئے بھی ایک خاص معنی میں ایک جیسی ہوتی ہیں مثلاً یہ کہ ۔۔ نابینا جوہریوں کی دکان میں پتھر کنکر اور لعل و گہر تینوں ایک ہیں، اسی غزل کا ایک مشہور بلکہ ضرب المثل شعر ہے کہ

پہ سب د ظالمانو حاکمانو
کور او گور او پیخور درے واڑہ یو دی

یعنی ظالم حاکموں کی وجہ سے گھر، گور اور پشاور تینوں ایک جیسے ہیں حالانکہ اس وقت پشاور بڑا فراخ کھلا ڈلا اور کم آبادی والا شہر رہا ہو گا، اس لیے کہا جاتا ہے کہ رحمن بابا صرف شاعر ہی نہیں بلکہ صاحب حال بزرگ بھی تھے اور ان کے اس شعر میں مستقبل کی بات کی گئی ہے، لیکن ہمیں اس سے اختلاف ہے کہ وہ زمانہ آج کا زمانہ ہے کیونکہ رحمن بابا نے جو تین مماثلتیں بیان کی ہیں ان میں دو تو ٹھیک ہیں آج کل گھر اور گور تو ایک ہیں لیکن ظالم حاکموں کے سبب سے ہمیں بالکل بھی اتفاق نہیں ہے کیونکہ اس جمہوری دور میں ہمیں جو حاکم نصیب ہوئے ہیں وہ بڑے مہربان نہایت دیانتدار اور مخلص واقع ہوئے ہیں ظلم کے تو نام سے بھی واقف نہیں ہیں بے چارے دن رات بازاروں میں پھر پھر کر ''عوام'' کا حال چال معلوم کرتے ہیں۔

جگہ جگہ عدل و انصاف کی زنجیریں لٹکی ہوئی ہیں، سرکاری عملہ سراپا خدمت ہی خدمت ہیں، یوں کہیے کہ باقی سب کچھ ہو سکتے ہیں لیکن ظالم ہر گز ہر گز نہیں ہیں لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں؟ (یہی وہ ''کیوں'' ہے جس کا جواب سقراط، بقراط، ارسطو، افلاطون حتیٰ کہ فیساغورث اور جالینوس کے پاس بھی نہیں ہے) باقی دو شرائط موجود ہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی موجود ہیں۔ ''گھر'' اور گور اتنے تنگ ہو رہے ہیں کہ ''زندان'' کا یقین ہوتا ہے

ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمی
پھر بھی تنہائیوں کا شکار آدمی
صبح سے شام تک بوجھ ڈھوتا ہوا
اپنی ہی لاش کا خود مزار آدمی
ہر طرف بھاگتے دوڑتے راستے
ہر طرف آدمی کا شکار آدمی
روز جیتا ہوا روز مرتا ہوا
ہر گھڑی موت کا انتظار آدمی

ہم جب شہر میں جاتے ہیں یا کہنے کہ جب جانا پڑتا ہے حالانکہ شہر کا پروگرام بناتے ہوئے ہم ہر وقت التوا کا بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں کیونکہ گھوڑے کو کشتی میں سوار کرنا اتنا مشکل نہیں ہوتا جتنا ہمارا شہر کی طرف رخ کرنا ہوتا ہے لیکن بہانے بھی آخر کہاں تک چل سکتے ہیں کچھ ''ضروری کام'' ایسے نکل ہی آتے ہیں جن کے لیے شہر جانا ناگزیر ہو جاتا ہے، لیکن واپس آ کر پتہ چلتا ہے کہ جن ضروری کاموں کے لیے گئے تھے وہ تو کر ہی نہیں پائے کیونکہ آدھا دن تو گاڑی کے لیے پارکنگ ڈھونڈنے میں صرف ہو گیا اور باقی آدھا دن جگہ جگہ چیکنگ کرانے میں بیت گیا، گویا

عمر دراز مانگ کر لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

اور اس مالی خسارے کا تو ذکر ہی کیا جو اس راستے اور اس راستے سے گھوم گھام کرتے ہوئے ہو جاتا ہے، ہم نے حساب لگایا ہے کہ اتنا خرچہ نوشہرہ سے پشاور تک نہیں ہوتا جتنا شہر کے اندر بند راستوں اور یو ٹرنوں میں ہو جاتا ہے۔

ایک دفتر سامنے ہی ہوتا ہے لیکن آپ کو اس کے لیے چار پانچ بلکہ آٹھ دس کلو میٹر مختلف وجوہات کی وجہ گھوم کر آنا پڑے گا پوچھ بھی نہیں سکتے کیوں کہ وہ جو ہم سب کی خالہ جان ''سیکیورٹی'' ہے اس کی ہزار آنکھیں دو ہزار کان اور چار ہزار ہاتھ ہیں، ایسے حالات میں آدمی سوائے اس کے اور کیا کر سکتا ہے کہ شہر جانا ہی چھوڑ دے، تقریبات چھوٹتی ہیں تو چھوٹ جائیں دوست ناراض ہوتے ہیں تو ہو جائیں آخر اپنی چمڑی بھی تو بچا کر رکھنی ہے

ہاں وہ نہیں خدا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی
جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں؟