انتہاپسندی کا خاتمہ

فوج نے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا ہے۔


Dr Tauseef Ahmed Khan February 17, 2016
[email protected]

KARACHI: مذہبی انتہاپسندی فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کی دین ہے، انتہاپسندوں کے ذہنوں کی تبدیلی اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے دس سال درکار ہیں۔ سول خفیہ ایجنسی انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ آفتاب سلطان نے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے اس حقیقت کا اعتراف کیا۔ ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔

فوج نے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا ہے۔ کراچی میں سیکڑوں دہشت گردوں کو بھی رینجرز اور فوج کے آپریشن میں ہلاک کیا جاچکا ہے۔ بلوچستان اور پنجاب میں وقتاً فوقتاً دہشت گردوں کی گرفتاریوں کی خبریں آتی ہیں۔ مگر پھر بھی دہشت گردی کی واقعات رونما ہوتے ہیں۔

آرمی پبلک اسکول پشاور کے بعد باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں نے دھاوا بولا۔ پھر کراچی میں آئی ایس پی آر کے سربراہ ڈائریکٹر اینڈ جنرل عاصم سلیم باجوہ آپریشن ضرب عضب کی تفصیلات سے صحافیوں کو آگاہ کررہے تھے تو کراچی کے دو تعلیمی اداروں اور ایک پولیس اسٹیشن بم دھماکوں کا شکار ہوا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کامیاب آپریشن کے باوجود دہشت گردی کا عفریت معاشرے میں موجود ہے اور اس عفریت کو ماحول سے توانائی مل رہی ہے۔

دہشت گردوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیاں، مدارس اور مساجد انتہاپسندی کو تقویت دینے میں بنیادی کردار ادا کررہے ہیں۔ بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ بعض مذہبی رفاہی ادارے بھی ان مذموم کاموں میں ملوث ہیں۔ یونیورسٹیاں علمی آزادی کا مظہر ہوتی ہیں جہاں اساتذہ اور طالب علم تحقیق کرکے اور بحث و مباحثے کے بعد نظریات مرتب کرتے ہیں اور یہ نظریات معاشرے کے ہر ادارے کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔

پاکستان میں یونیورسٹیوں میں اساتذہ اور طالب علموں نے اعلیٰ معیار کی تحقیق کی ہے، ڈاکٹر عبدالسلام، ڈاکٹر سلیم الزماں جیسے سائنسدان پیدا ہوئے مگر جنرل ضیاء الحق کے دور میں یونیورسٹیوں کو ذہنی طور پر بانجھ کرنے اور رجعت پسندانہ ذہن پیدا کرنے کا سلسلہ ایک منصوبے کے تحت شروع کیا۔ اس منصوبے کے تحت اساتذہ کے تقرر، دوسرے نصاب اور تیسرے تحقیق میں رجعت پسندی شامل ہوئی۔

جنرل ضیاء الحق کے دور میں یہ پالیسی نافذ کی گئی کہ مخصوص تنظیم اور ذہن رکھنے والے افراد کو اساتذہ کی حیثیت سے بھرتی کیا جائے گا، اساتذہ کے سلیکشن بورڈ میں مخصوص نوعیت کے سوالات کو لازمی قرار دیا گیا، یہ سوالات سماجی علوم، ریاضی، میڈیکل سائنسز، انجینئرنگ، ایگری کلچر، غرض ہر نئے اساتذہ سے پوچھے جاتے تھے۔ اس طرح زولوجی، باٹنی، فزکس، کامرس وغیرہ میں امتیازی نمبر حاصل کرنے والے طالبعلموں کا تقرر اس بنیاد پر نہیں ہوپاتا تھا کہ مخصوص مذہبی سوالات کے جوابات پر عبور نہیں رکھتے تھے۔

پھر اگر کسی طالب علم کا تعلق کسی ترقی پسند طلبہ تنظیم سے ہوتا تھا تو وہ بلیک لسٹ میں شامل ہوجاتا تھا۔ اس زمانے میں جو اساتذہ یونیورسٹیوں میں بھرتی کیے گئے وہ ترقی پاکر پروفیسر، ڈین، وائس چانسلر کے عہدے تک فائز ہوئے۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور آئی ایس آئی سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں ایک خفیہ پروجیکٹ میں ملوث تھے۔ اس پروجیکٹ میں مخصوص نظریات کو بنیادی اہمیت دی گئی۔

اس زمانے میں امریکی صدر ریگن جہاد کے فلسفے پر تقاریر کرتے تھے، اس بناء پر یونیورسٹیوں کے مختلف شعبوں کے نصاب میں مذہبی مواد کو شامل کیا گیا۔ اب سائنس کی کتابیں بھی مذہبی مواد سے شروع ہوتی ہیں۔ پھر سائنس، کامرس، بزنس ایڈمنسٹریشن کے مضامین میں انتہاپسندانہ مواد شامل کیا گیا اور پڑوسی ملک سے دوستی کے بجائے نفرت کا درس دیا گیا۔ یونیورسٹیوں کی آزادی پسندی کی روایت کو ختم کردیا گیا، حتیٰ کہ میڈیکل سائنس نے غیر سائنسی مواد شامل کرنے سے سائنس کی بنیاد پر بسنے والے ذہن کی ارتقا کو روک دیا گیا۔

معاملہ صرف اساتذہ اور نصاب تک محدود نہیں رہا بلکہ تحقیق میں بھی رجعت پسندی کو تقویت دی گئی، صرف کراچی یونیورسٹی کے کلیہ سماجی سائنس کے پی ایچ ڈی کے موضوعات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ معاشیات، کامرس، بزنس ایڈمنسٹریشن، حتیٰ کہ ابلاغ عامہ وغیرہ کے موضوعات اسلامیات کے مضمون سے متعلق ہیں۔

اس صورتحال کا منطقی نتیجہ برآمد ہوا کہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد جہادی گروپوں میں شامل ہوئے اور انھیں مذہبی تنظیمیں افغانستان لے گئیں۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جاں بحق ہونے والے بعض افراد بھی پاکستانی یونیورسٹیوں کے طالب علم تھے۔

9/11 کی دہشت گردی کے بعدجب مذہبی انتہاپسندی کو خطرناک قرار دیا گیا تو یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں کے نصاب میں تبدیلی کی اہمیت کو محسوس کیا گیا اور ماہرین نے کام شروع کیا تاہم پرویز مشرف حکومت نے زیادہ سنجیدگی نہیں دکھائی اور معاملہ جوں کا توں رہا، جب خیبرپختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو وہاں نصاب کی تبدیلی کے لیے جامع اصلاحات کی گئیں، مگر 2013 میں قائم ہونے والی تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی مخلوط حکومت نے پھر نصاب کی تبدیلی کا شور مچانا شروع کردیا۔ انھیں بیالوجی، زولوجی کی کتابوں میں انسانی اعضاء کی اشکال کی اشاعت پر بھی اعتراض ہے۔

یہ قوتیں فحاشی اور عریانی کے نام پر میڈیکل سائنس کی تعلیم کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔ میڈیکل سائنس کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ ان اشکال کی مدد سے طالب علم انسانی جسم سے واقفیت حاصل کرتے ہیں اور مستقبل کے ڈاکٹروں کو آگاہی ہوتی ہے، اگر یہ مطالبہ مان لیا گیا تو مستقبل میں یہ لوگ ایکسرے، الٹرا ساؤنڈ، حتیٰ کہ آپریشن کے دوران مریضوں کو برہنہ کرنے کو ممنوعہ قرار دینے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔

ادھر حکومت پنجاب نے یونیورسٹیوں میں ہر قسم کی تبلیغ پر پابندی عاید کردی، باقی تینوں صوبوں کو بھی اس سلسلے میں ان کی پیروی کرنی چاہیے مگر کچھ قوتیں اس کے خلاف مہم چلارہی ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کا منفی نقصان یہ ہے کہ دشمن کو جب بھی تنہا کرنے کی کوشش کی گئی تو بعض طاقتیں اس کو بچانے کے لیے متحرک ہوگئیں۔ پہلے بعض ریاستی ایجنسیاں ان عناصر کی سرپرستی کرتی تھیں مگر فوج کے موجودہ سربراہ کی واضح پالیسی کے بعد اب صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔

لیکن اب بھی بعض قوتیں انتہاپسندوں کو تنہا ہونے سے روکنے کی کوشش کررہی ہیں۔ اس صورتحال سے خفیہ سول ایجنسی کے سربراہ کا بیان صورتحال کو واضح کررہا ہے، اگر ریاست واقعی انتہاپسندی کو جڑ سے ختم کرنا چاہتی ہے تو یونیورسٹیوں، مدرسوں، مذہبی سماجی اداروں، مساجد غرض ہر ادارے سے رجعت پسندی کے خاتمے کے اقدامات کرنا ہوں گے، دوسری صورت میں یہ تعلیمی ادارے، اسپتال، عبادت گاہیں، ان عناصر کی دہشت گردی کا نشانہ بنتی رہیں گی اور جنگ میں کامیابی نہیں ہوگی۔ جس کے اثرات صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ خطے پر اور پھر پوری دنیا پر پڑیں گے۔