پی آئی اے کی نجکاری ‘ہڑتال کی ناکامی

بے روزگاری کے خوف میں مبتلا پی آئی اے کے ملازمین نے یہ ہڑتال اپنی ملازمتوں کے تحفظ کے لیے کی تھی


Zaheer Akhter Bedari February 18, 2016
[email protected]

یہ غالباً 1972 کی بات ہے، لانڈھی انڈسٹریل ایریا میں ہڑتالوں کا سلسلہ جاری تھا، اس دورکی مزدوروں میں سب سے زیادہ مقبول تنظیم لیبر آرگنائزنگ کمیٹی مزدوروں کی قیادت کر رہی تھی سندھ کے سابق وزیر محنت ستار گبول سے آرگنائزنگ کمیٹی کی بات چیت چل رہی تھی۔

میں لیبر آرگنائزنگ کمیٹی کا سیکریٹری جنرل تھا، ستارگبول بھی یہی چاہتے تھے کہ صنعتی ایریا میں موجود بے چینی ختم ہو۔ ہماری بھی خواہش یہی تھی کہ صنعتی علاقوں میں امن بحال ہو۔ صنعتی علاقوں میں بے چینی کا ایک بڑا سبب یہ تھا کہ ایوب خان کے دور میں مزدوروں پر جو ظلم کیے گئے تھے، مزدوروں میں جو حبس تھا وہ پیپلز پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سارا لاوا باہر آرہا تھا، جو ایوب خان کے دور میں اندر ہی اندر پک رہا تھا۔

ایوب خان کے دور میں پاکستان خصوصاً کراچی میں جو صنعتی ترقی ہو رہی تھی، وہ سب امریکا کے کولمبو پلان کا کارنامہ تھا۔ سوشلسٹ بلاک کی عوام خصوصاً پسماندہ ملکوں کے عوام میں بڑھتی ہوئی مقبولیت نے امریکا اور مغربی ملکوں کے حکمرانوں کی نیندیں اڑا دی تھیں۔

امریکا کے سیاسی دانشوروں نے فیصلہ کیا کہ پسماندہ ملکوں کو کولمبو پلان کے تحت بھاری امداد دی جائے تاکہ صنعتیں لگیں بے روزگاری اور عوامی بے چینی کم ہو۔ سو ایوب خان نے کولمبو پلان کے تحت ملنے والی بھاری امداد کو صنعتیں لگانے میں استعمال کرنا شروع کیا اور ملک کے مختلف حصوں خصوصاً پختونخوا سے لاکھوں بے روزگار کراچی آنے لگے لیکن سرمایہ دارانہ نظام میں صنعتی ترقی کے ساتھ مزدوروں پر ظلم و جبرکا سلسلہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

سوکراچی میں بھی یہی ہوا، مزدوروں پر مظالم کی انتہا کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بعض بڑی ملوں میں مالکان نے نجی جیلیں بنا دی تھیں جہاں ''شرپسند'' مزدوروں کو سزائیں دے کر رکھا جاتا تھا، گرفتاریاں لمبی لمبی سزائیں مزدوروں کا مقدر بن گئی تھیں۔

سرمایہ دار حکومت کا ایک نجی حصہ بن گئے تھے، قانون اور انصاف ان کی جیب میں پڑا رہتا تھا اس دور میں ہونے والی صنعتی ترقی کا دوسرا منفی پہلو مزدوروں پر ہونے والا ظلم تھا۔ اس ظلم اور گھٹن کے بعد بھٹو حکومت میں جب مزدوروں کو کچھ آزادی ملی تو مزدوروں میں بے چینی پھیلنا اس لیے فطری تھا کہ ان کے مطالبات سرمایہ دار پورے نہیں کر رہے تھے ہڑتالوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری تھا۔

میں بات کر رہا تھا وزیر محنت ستار گبول سے لیبر آرگنائزنگ کمیٹی کی بات چیت کی اس روز بھی آدھی رات تک ستارگبول کے مکان پر لیبر آرگنائزنگ کمیٹی کے ایک وفد کی بات ہوتی رہی، صنعتی ایریا کے حالات بہتر بنانے کے لیے کچھ اصولوں پر فریقین کا اتفاق ہوا اور طے ہوا کہ اگلے دن ستارگبول کے آفس میں فیصلہ کن مذاکرات ہوں گے۔

میں رات تین بجے کے قریب گھر پہنچا اور کچھ دیر آرام کرنے کے بعد ستارگبول کے دفتر جانے کی تیاری میں لگ گیا۔ میں جب گھر سے نکل کر روڈ پر آیا اور ایک ٹیکسی میں بیٹھا تو ٹیکسی ڈرائیور نے کہا۔ صاحب! ادھر انڈسٹریل ایریا میں ہر طرف پولیس بھری ہوئی ہے معلوم ہوا کہ پولیس نے گولیاں چلائی ہیں اور کئی مزدور شہید ہوگئے ہیں۔ میں ڈرائیور کے انکشاف سن کر سکتے میں آگیا۔ تحقیق پر معلوم ہوا کہ آدھی رات کو پولیس نے لانڈھی انڈسٹریل ایریا میں سخت آپریشن کیا اورکئی مزدور مار دیے اور سیکڑوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ میں نے ستار گبول کو فون کیا تو انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔

میں نے اس آپریشن کا حوالہ اس لیے دیا کہ حکومتوں کا رویہ سمجھنے میں آسانی ہو۔ پی آئی اے کے ملازمین لگ بھگ دو ہفتے ہڑتال پر رہے۔ اس دوران گولیاں چلیں اور 3 مزدور جاں بحق اور 4 زخمی ہوئے اس ہڑتال میں پائلٹس کی انجمن پالپا نے بھی شرکت کی اور کئی دن تک فضائی آپریشن معطل رہا۔ حکومت کے بیانات کے مطابق پی آئی اے کو اربوں کا نقصان ہوا۔

پی آئی اے کے ملازمین نے نہ اپنی تنخواہیں بڑھانے کا مطالبہ کیا نہ کسی قسم کی رعایتوں کا ان کا صرف ایک مطالبہ تھا کہ پی آئی اے کو فروخت کرنے سے انتظامیہ باز آجائے۔ کیونکہ کسی ادارے کی نجکاری کے بعد لاکھ یقین دہانیاں کرائی جائیں ملازمین کی چھانٹی ہر حال میں ہوتی ہے اور پی آئی اے میں فاضل ملازمین ہزاروں کی تعداد میں بتائے جاتے رہے ہیں۔

بے روزگاری کے خوف میں مبتلا پی آئی اے کے ملازمین نے یہ ہڑتال اپنی ملازمتوں کے تحفظ کے لیے کی تھی۔ جیساکہ ہم نے ذکر کیا ایوب خان کے دور میں ہونے والی صنعتی ترقی کے ساتھ مزدوروں پر ظلم میں بھی اسی رفتار سے اضافہ ہوا تھا نجکاری بھی سرمایہ دارانہ نظام کی ایک ناگزیر ضرورت ہے اور بدقسمتی سے دور حاضر میں۔

سرمایہ داروں کے سرمائے سے چلنے والے عالمی مالیاتی ادارے جو عملاً امریکا کے فرنٹ مین کا کردار ادا کرتے ہیں پسماندہ ملکوں کو ایسی کڑی شرائط کے ساتھ قرض دیتے ہیں جن کا نقصان ہر حال میں عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ آئی ایم ایف پاکستان کی حکومت کو جو قرض فراہم کر رہا ہے اس کی کئی عوام دشمن شرائط میں ایک لازمی شرط یہ ہے کہ ''خسارے میں چلنے والے قومی اداروں کو فروخت کردیا جائے۔ سو ان ہی شرائط کے تحت سیکڑوں اداروں کو نجی ہاتھوں فروخت کردیا گیا ہے اب آئی ایم ایف کی نظر پی آئی اے، ریلوے، اسٹیل ملز وغیرہ پر ہے۔

امریکا اور اس کے گماشتہ اداروں کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ مقامی حکمران طبقے کے ہاتھوں قومی اداروں کی بے تحاشا لوٹ مار کرکے ان اداروں کو نقصان میں جانے والے ادارے بنادیا جاتا ہے، اس خود پیدا کردہ جواز کو استعمال کرکے ان قومی اداروں کو اپنے دلالوں کے ہاتھوں اونے پونے بیچ کر اپنے ایجنٹوں کی مستقل لوٹ مار کے مواقعے فراہم کیے جاتے ہیں۔ نجکاری یا فروخت کا ایک جواز یہ بتایا جاتا ہے کہ ان اداروں میں ہزاروں کی تعداد میں فاضل ملازمین موجود ہیں جو ادارے کی تباہی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ یہ جواز درست تو ہوتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فاضل ملازمین آتے کہاں سے ہیں؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ حکمران طبقات ضرورتمند بے روزگاروں کو لاکھوں میں نوکریاں بیچ کر اربوں کماتے ہیں اور اپنے بھائی بندوں کو اعلیٰ عہدوں پر تعینات کرکے انھیں لاکھوں کی تنخواہ کے علاوہ کرپشن کے کھلے مواقعے فراہم کرتے ہیں۔ اداروں کے نقصان میں جانے کی اصل وجہ یہی ہوتی ہے اور نزلہ بے چارے ملازمین پر گرتا ہے۔

پی آئی اے کے ملازمین کا مطالبہ دراصل ایک قومی مطالبہ ہے قومی اداروں کو نقصان کے نام پر بیچنے کے بجائے ان میں اصلاحات کرکے انھیں فائدہ مند بنایا جاسکتا ہے جس کی تازہ مثال ریلوے ہے جسے خود حکومت کے ایک وزیر نے نقصان سے نکال کر فائدہ مند ادارہ بنادیا۔ اگر سیاستدان اور سیاسی پارٹیاں ایماندار اور عوام دوست ہوتیں تو حکومت کو نجکاری سے روکنے کے لیے آگے آتیں لیکن یہ عناصر چونکہ اسی لوٹ مار کا حصہ ہیں اس لیے پی آئی اے کے ملازمین کی ہڑتال کو دیکھتے رہے کچھ عملی تعاون نہیں کیا۔ جس کا نتیجہ ہڑتال کی ناکامی کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔

مقبول خبریں