بانکی مون کا انتباہ

بھارتی میڈیا کے مطابق ایک بیان میں بانکی مون نے کہا داعش کی سرگرمیاں تشویشناک ہیں۔


Editorial February 19, 2016
بھارتی میڈیا کے مطابق ایک بیان میں بانکی مون نے کہا داعش کی سرگرمیاں تشویشناک ہیں۔ فوٹو؛فائل

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون نے پاکستان اور بھارت کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ طور پر لڑنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے خبردارکیا ہے کہ داعش برصغیر میں بھی اپنا دائرہ وسیع کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس سے پاک بھارت دونوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ایک بیان میں بانکی مون نے کہا داعش کی سرگرمیاں تشویشناک ہیں، عراق اور شام میں تنظیم کی سرگرمیاں انتہائی خطرناک ہوچکی ہیں جس سے خطے میں امن غارت ہو رہا ہے، داعش برصغیر میں بھی خطرہ پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے، پاکستان اور بھارت کی سرحدیں اس کا نشانہ ہوسکتی ہیں، دیگر تنظیموں کا لبادہ اوڑھ کر بھی داعش دونوں ممالک کے لیے خطرات پیدا کرسکتی ہے، دونوں ممالک کو مذاکرات کے ذریعے ہرممکن دوطرفہ اختلافات ختم کرنا ہوں گے۔

پاکستان اور بھارت کو مسئلہ کشمیرکے حوالے سے بھی پہل کرنا ہوگی تاکہ خطے میں دہشت گردوں کو رسائی حاصل نہ ہو اور انھیں برصغیر میں اپنی تخریبی کارروائیاں پھیلانے کے لیے زمین فراہم نہ ہو سکے۔بانکی مون نے کہا پاکستان دہشت گردی مخالف جنگ میں صف اول پر کھڑا رہا ہے اور اس نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کافی ساری قربانیاں دی ہیں جنھیں اقوام متحدہ نظر انداز نہیں کر سکتی تاہم اس کے لیے ایسے حالات ہیں کہ اسے اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے بھی دہشت گردی کے خلاف کھل کر آگے آنا ہو گا۔

بانکی مون کے انتباہ سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ آنے والے وقت میں پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کو دہشت گردی کے حوالے سے نئے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا جن کا منبع داعش ہو گی' اس لیے دونوں ممالک کو ابھی سے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پیش بندی کر لینا چاہیے دوسری جانب بانکی مون کا واضح اشارہ اس جانب بھی ہے کہ دہشت گردی کے اس خطرے سے تنہا پاکستان یا بھارت نہیں نمٹ سکیں گے انھیں اپنی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھنا ہو گا ورنہ دہشت گردی کا یہ خطرہ نہ صرف ان کے ہاں امن و امان کے مسائل جنم دے گا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے میں بھی اپنا کردار ادا کرے گا۔

جیسا کہ گزشتہ دنوں جب پاک بھارت مذاکرات کے سلسلے میں کوششیں شروع ہوئیں تو اس دوران پٹھانکوٹ میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آ گیا جس سے دونوں ممالک میں تناؤ کی صورت حال پیدا ہوئی اور مذاکرات پس منظر میں چلے گئے لیکن اس موقع پر دونوں ممالک کی حکومتوں کا ماضی کے مقابل ذمے دارانہ اور سنجیدہ رویہ سامنے آیا اور انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ انداز اپنانے کے بجائے تحقیقات کے سلسلے میں دست تعاون بڑھایا۔ پاکستان نے بھی بھارت کو ہر قسم کے تعاون کی کھلی پیش کش کی اور واضح عندیہ دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے مذموم مقصد کی خاطر استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔

اس لیے بانکی مون نے دونوں ممالک کو مذاکرات کے لیے باہمی اختلافات ختم کرنے اور مسئلہ کشمیر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ اس کی آڑ میں دہشت گردوں کو خطے میں اپنی کارروائیاں کرنے کا موقع نہ مل سکے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ظالمانہ رویے کے باعث پورے خطے میں انتہا پسندی کو فروغ ملا ہے جب تک مسئلہ کشمیر موجود ہے انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اس لیے اس مسئلہ کا جلد از جلد حل ہونا ضروری ہے۔ گزشتہ دنوں امریکی صدر بارک اوباما نے بھی اس خطرے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو آیندہ کئی برس تک دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنا پڑے گا، اب بانکی مون نے بھی انھی خطرات کی جانب اشارہ کیا ہے۔

اس حوالے سے ماہرین کی متضاد آراء سامنے آ رہی ہیں ایک حلقے کا کہنا ہے کہ آخر داعش کا وجود صرف مسلم ممالک ہی کے لیے کیوں خطرہ بنا ہوا ہے امریکا اور مغربی ممالک کے لیے یہ اتنا بڑا خطرہ کیوں نہیں۔ ظاہر ہے کہ داعش کو امریکا اور مغربی ممالک کی پشت پناہی حاصل ہے پہلے القاعدہ اور اسامہ کے نام پر انھوں نے افغانستان کو تباہ کیا پھر داعش کی آڑ میں عراق اور شام میں خانہ جنگی شروع کرا دی گئی اب پاکستان کو اس خطرے سے ڈرایا جا رہا ہے' اس میں مغربی ممالک کی کوئی گہری سازش معلوم ہوتی ہے۔

دوسرے حلقے کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتیں چاہتی ہیں کہ خطے میں دہشت گردی کو نیست و نابود کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر مشترکہ طور پر کارروائیاں کریں اس طرح دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملے گا اور باہمی اختلافات بھی بتدریج ختم ہو جائیں گے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خطرات بدرجہ اتم موجود ہیں اور وہ ان سے نمٹنے کے لیے ایک عرصے سے بھرپور کارروائیاں کر رہا ہے اب بانکی مون نے داعش کی آڑ میں جس خطرے کی نشاندہی کی ہے پاکستان کو اس کا ادراک کرتے ہوئے فوری طور پر لائحہ عمل طے کرنا چاہیے اس سلسلے میں کسی قسم کی تاخیر ہماری سلامتی کے لیے خطرہ بن جائے گی۔