عذر گِناہ بدتر از گناہ
پورا کراچی مسائل خاص طور پر گندگی کے ڈھیر میں بدل گیا ہے
پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں پیپلزپارٹی کو یہ انفرادیت حاصل رہی کہ اس کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی سیاست کا آغاز عوام کو متحرک کر کے ان میں سیاسی اور طبقاتی شعور اجاگر کرنے سے کیا۔ اس سے پہلے ملک کی سیاست پر وڈیرہ شاہی اور نوکر شاہی کا قبضہ رہا اور عوام کی حیثیت رعایا کی سی رہی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی مشیروں کا تعلق چونکہ ترقی پسندوں سے رہا تھا جس کی وجہ سے انھوں نے بھٹو کو ترقی پسندی کی راہ پر ڈال دیا۔
روٹی، کپڑا اور مکان مزدور کسان راج اگرچہ سیاسی نعرے تھے لیکن ان نعروں سے طبقاتی تضاد اجاگر ہوتا تھا جو عوام میں طبقاتی شعور اجاگر کرتا تھا۔ اسے ہم بھٹو کا طبقاتی کردار کہیں یا وڈیرہ شاہی کی بالادستی کہ وڈیروں اور جاگیرداروں نے بہت جلد پیپلز پارٹی کو ترقی پسندی کی راہ سے ہٹا دیا اور پیپلز پارٹی وڈیروں اور جاگیرداروں کی پارٹی بن کر رہ گئی اور آہستہ آہستہ عوام اس سے دور ہوتے چلے گئے۔
بے نظیر بھٹو بھی چونکہ ترقی پسند نظریات سے قریب رہیں، لہٰذا عوام ان کے گرد بھی جمع رہے۔ 1986ء میں ضیا الحق کی سخت گیر اور بھٹو فیملی کی مخالفت کے دور میں بے نظیر کا لاہور میں جو والہانہ استقبال ہوا وہ بھی بے نظیر کی ترقی پسندانہ لبرل سیاست کا مرہون منت تھا۔
بے نظیر کے غیر متوقع قتل نے پیپلز پارٹی کو اندھیروں میں دھکیل دیا اگرچہ 2008ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی، لیکن اس کامیابی میں پیپلز پارٹی کے منشور اور نظریات کا کوئی دخل نہ تھا بلکہ اس کامیابی میں عوام کا جذبہ بنیادی نکتہ تھا، جو بے نظیر کے قتل سے پیدا ہوا تھا۔ عوام کی پیپلز پارٹی سے وابستگی کا یہ آخری مرحلہ تھا۔
اس کے بعد پیپلز پارٹی نہ صرف عوام سے دور اور لاتعلق ہو گئی بلکہ وہ کرپشن کے حوالے سے اس قدر بدنام ہو گئی کہ اس کی ساری نیک نامیاں اس میں غرق ہو گئیں، اگر پیپلز پارٹی کو کوئی عوامی دیانتدار اور عوام سے مخلص قیادت ملتی تو یقینا اس موقع بلکہ نادر موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پیپلز پارٹی کو عوامی پارٹی بنا کر اسے اس کا کھویا ہوا مقام دلا دیتی لیکن اسے ہم پیپلز پارٹی کی بدقسمتی کہیں یا پاکستانی سیاست کا کردار کہ پیپلز پارٹی ایسے ہاتھوں میں چلی گئی جن پر پہلے ہی سے کالک لگی ہوئی تھی پھر 5 سال کا عرصہ بدنامی اور ناکامی کا بدترین دور بن گیا۔ عوام اس سے لاتعلق ہو گئے۔
2013ء کے الیکشن میں اگرچہ پیپلز پارٹی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن بوجوہ سندھ میں وہ حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔ یہ پیپلز پارٹی کو ایک اور موقع تھا وہ اپنی کارکردگی سے دوبارہ عوام کا اعتماد حاصل کر سکتی تھی لیکن پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی کارکردگی اس قدر بدترین سطح پر پہنچ گئی کہ سندھ خصوصاً کراچی کے عوام مسائل کے انبار میں دب کر رہ گئے۔ پیپلز پارٹی کے کئی اعلیٰ سطح رہنماؤں پر بھاری کرپشن کے الزامات لگے۔
ڈاکٹر عاصم آج عدالتوں میں جا رہے ہیں بہ ظاہر تو یہی نظر آ رہا ہے کہ ڈاکٹر عاصم ملزم ہیں لیکن حقیقتاً پوری پارٹی ملزم بن کر رہ گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے دو وزرائے اعظم پر بدعنوانیوں کے الزامات میں مقدمات زیر سماعت ہیں اور سندھ کے سابق وزیر اطلاعات شرجیل میمن سمیت کئی رہنماؤں پر اسی قسم کے الزامات عائد ہو رہے ہیں اور پارٹی کو بدنامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بھٹو مرحوم اور بے نظیر پر نظریاتی خوردبرد کے الزامات تو عائد ہوتے رہے ہیں لیکن ان پر کرپشن کے الزامات نہیں لگائے جا سکے۔
کراچی اس وقت مسائل کے انبار میں دبا ہوا ہے۔ پورا کراچی مسائل خاص طور پر گندگی کے ڈھیر میں بدل گیا ہے شہر اور شہر کے مضافاتی علاقے سیوریج کے گندے پانی سے اٹے ہوئے ہیں، گٹروں سے ڈھکن غائب ہیں۔ بلدیاتی انتخابات میں منتخب ہونے والوں کو اختیارات سے محروم کر کے جہاں سیاسی بدنامی مول لی جا رہی ہے وہیں کراچی کو گندگی کے ڈھیر میں بدلنے کے الزامات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔
پیپلز پارٹی کی حکومت کو جن مشکلات کا سامنا ہے اس کے پیش نظر پیپلز پارٹی کو کسی قسم کی تصادمی سیاست سے گریز کرنا چاہیے تھا اور بلدیاتی انتخابات جیتنے والوں کو عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے کام کرنے کا موقع دینا چاہیے تھا لیکن اہل عقل حیران ہیں کہ پیپلز پارٹی صوبائی سطح پر نہ صرف متحدہ سے محاذ آرائی کی طرف جا رہی ہے بلکہ اپنی طبقاتی سہیلی مسلم لیگ (ن) سے بھی محاذ آرائی کی مرتکب ہو رہی ہے، چونکہ مسلم لیگ (ن) مرکز میں برسر اقتدار ہے لہٰذا وہ بڑی کامیابی کے ساتھ پیپلز پارٹی کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے زرداری صاحب پہلے ہی اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرا چکے ہیں۔
اس گمبھیر صورتحال میں تھرپارکر کا مسئلہ صوبائی حکومت کی سخت بدنامی کا باعث بنا ہوا ہے۔ تھرپارکر میں پچھلے 43 روز کے دوران 147 معصوم بچے موت کا شکار ہو چکے ہیں، میڈیا میں جب عوام ان معصوم زندہ اور مردہ بچوں کے قحط زدہ ڈھانچے دیکھتے ہیں تو حکومت سے ان کی ناراضی اشتعال میں بدل رہی ہے۔
حکومت تھر میں موجود اس صورتحال کا بلاتاخیر ازالہ کرنے کے بجائے اسے میڈیا کا پروپیگنڈا کہہ کر جلتی پر اور تیل ڈال رہی ہے۔ یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ تھر میں بچے غذا کے قحط کی وجہ سے جان سے جا رہے ہیں اور سائیں سرکار غذا کا فوری بندوبست کرنے کے بجائے ان اموات کو بیماریوں کا نتیجہ قرار دے رہی ہے۔ اگر بالفرض محال تھر میں بچے بیماریوں سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں تو عوام یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا بیماریوں کا علاج حکومت کی ذمے داری نہیں ہے؟ بچے غذا کے قحط سے موت کا شکار ہو رہے ہیں یا بیماریوں سے دونوں صورتوں میں اس کی پوری ذمے داری صوبائی حکومت ہی پر عائد ہوتی ہے۔
اپنی ذمے داری محسوس کرتے ہوئے فوری اس کا تدارک کرنے کے بجائے صوبائی حکومت عذر گناہ کا ارتکاب کر رہی ہے اور عذر گناہ بدتر از گناہ کہلاتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت صوبائی حکومت میں فوری تبدیلی لا کر کسی چاق و چوبند شخص کو آگے لاتی اور اپنا بوجھ ہلکا کرتی لیکن صوبائی حکومت کی اور حوصلہ افزائی کر کے اپنی مصیبتوں میں خود اور اضافہ کر رہی ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی اشرافیہ وراثت کی بیماری میں اس طرح مبتلا ہو گئی ہے کہ موروثیت کا آنے والے دنوں میں جو حشر ہونے والا ہے وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہو کر رہ گیا ہے۔ پیپلز پارٹی میں دوسری اشرافیائی پارٹیوں کی طرح ایسے بے شمار کارکن موجود ہیں جو پیپلز پارٹی سے مخلص بھی ہیں اور عوام سے بھی مخلص ہیں۔
ایسے لوگوں کے پیپلز پارٹی کی خدمت کرتے ہوئے بال سفید اور کمریں جھک گئی ہیں۔ کیا ان کو آگے لا کر ان کی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا؟ لیکن موروثی حق حکمرانی کی نفسیات ان کو ناک سے آگے دیکھنے ہی نہیں دیتی۔ اس نفسیات کا مستقبل میں کیا حشر ہو گا اس کے لیے زیادہ انتظار کی ضرورت نہیں۔