نوابشاہ نقل سے روکنے پر طلبا کا پرنسپل و اساتذہ پر تشدد پرچے پھاڑ دیے

کلاس رومزو پرنسپل آفس میں توڑ پھوڑ،واقعےکےخلاف اساتذہ سراپا احتجاج، امتحانات کا بائیکاٹ، ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ۔


Nama Nigar November 07, 2012
سچل سرمست کالج میں بی اے کا انگریزی کا پرچہ دینے والے جعلی امیدوارنے پکڑے جانے پر دوستوں کو بلا لیا ، ایکسٹرنل سے مار پیٹ. فوٹو: فائل

ISLAMABAD: نواب شاہ گورنمنٹ سچل سرمست کامرس کالج میں دوران امتحان نقل سے روکنے پر طلبا کا پرنسپل اور ایکسٹرنل سمیت اساتذہ پر وحشیانہ تشدد ، پرچے پھاڑ دیے۔

کلاس رومز اور پرنسپل آفس میں توڑ پھوڑ، پولیس طلب کیے جانے کے دو گھنٹے بعد صرف 2 اہلکار پہنچے،اساتذہ کا غنڈہ گردی کے خلاف احتجاج،واقعے میں ملوث طلبا کی گرفتاری تک امتحانی پرچوں کے بائیکاٹ کا اعلان،واقعے میں ملوث طلباکا تعلق سپاف سے بتایا جاتا ہے۔تفصیلات کے مطابق منگل کی صبح گورنمنٹ سچل سرمست کالج میں بی اے پارٹII انگریزی کے پرچے کے دوران ایکسٹرنل پروفیسر روشن علی نے غلام رسول ولد دوست علی کی جگہ دوسرے لڑکے کو امتحان دیتے ہوئے پکڑ لیا۔

جس پر پکڑے گئے طالب علم نے موبائل فون پر اپنے دیگر ساتھیوں کو بلوالیا جنہوںنے آتے ہی کالج کے اساتذہ سے مار پیٹ شروع کردی اور بعد ازاں ایکسٹرنل روشن علی اور پرنسپل پروفیسر رستم علی خاصخیلی کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ ہنگامہ کرنیوالوںنے امتحانمیں شریک دیگر طلبا سے پرچے چھین کر پھاڑ دیے اور کلاسز و پرنسپل آفس میں توڑ پھوڑ کی۔

پرنسپل نے میڈیا کو بتایا کہ سپاف سے تعلق رکھنے والے طلبا نے اساتذہ سے مار پیٹ کی، مجھے تشدد کا نشانہ بنایا۔دوسری جانب سندھ پروفیسر لیکچرز ایسوسی ایشن(سپلا)کے مرکزی جوائنٹ سیکریٹری پروفیسر اورنگزیب بھنگورا نے اساتذہ اور پرنسپل پرتشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث طلباکو گرفتار کیا جائے جب تک ملزمان گرفتار نہیں کیے جاتے حیدرآبادریجن میں امتحانات کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ایئر پورٹ پولیس نے پرنسپل پروفیسررستم علی کی مدعیت میں حملہ کرنے ،تشدد و زد وکوب کرنے اورسرکاری ڈیوٹی میں مداخلت سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔

مقبول خبریں