کوئی غلط فہمی میں نہ رہے آخری فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے چیف جسٹس

فوج کو کسی حکم پرعمل کا نہیں کہا، معاملہ سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں، جسٹس افتخار


Monitoring Desk/Numainda Express November 07, 2012
ایبٹ آبادآپریشن کے بعد آئی ایس پی آر کے تمام بیانات طلب، صدر کا امریکی اخبار میں آرٹیکل پیش، کسی اور کی کیا بات کرتے ہیں؟ غیر قانونی کام ہوا ہے تو مقدمہ کریں، یہاں کیوں آئے ہیں؟ وکیل کی سرزنش۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے ایبٹ آباد آپریشن کے بعد آئی ایس پی آر سے جاری ہونے والے تمام اعلامیے اور سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کے بیانات طلب کرلیے۔

جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نے اپنی عزت دیکھ لی،کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، آخری فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے میڈیا پر فوج کی مبینہ کردار کشی اور قومی سلامتی کیخلاف بیانات روکنے کیلیے دائر سردارغازی کی درخواست کی سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل ابراہیم ستی نے جذباتی انداز میں گزشتہ روزآرمی چیف اور چیف جسٹس کی تقاریر کا حوالہ دیا اور کہا ٹی وی پر فوج اور عدلیہ کیخلاف اسطرح کے سوالات اٹھائے جائیں گے تو عوام اور فوج میں فاصلہ بڑھے گا اور ادارے کیخلاف عمومی نفرت پیدا ہو گی۔

پٹیشن ایک سال سے زیر التوا ہے اور شنوائی نہیں ہو رہی، عدالت نے مقدمہ نہیں سننا تو درخواست واپس کر دے۔ چیف جسٹس نے انکی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو مطمئن کریں کہ آرٹیکل 19کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اگر کوئی غیر قانونی کام ہوا ہے تو آپ پرچہ درج کروا دیتے، یہاں کیا لینے آئے ہیں، عدالت کسی کے پیچھے انکے گھر نہیں گئی نہ منت کر کے کسی کو لایا جاتا ہے، اگر آپکو اعتماد نہیں تو نہ آیا کریں لیکن عدالتوں کو مذاق نہ بنایا جائے، عدالت کو ہر بات کا ادراک ہے۔ این این آئی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، اس دوران درخواست گزار کے دوسرے وکیل راجا ارشاد ایڈووکیٹ روسٹر پر آگئے اور کہا میڈیا نے فوج اور عدلیہ کو آمنے سامنے کھڑا کر دیا، ہم اداروں کی عزت کرتے ہیںاور ہر فیصلہ قبول ہے۔

چیف جسٹس نے کہا ہم نے اپنی عزت دیکھ لی ہے، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، آخری فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے، سپریم کورٹ کے آئینی اختیارات پر دو رائے نہیں ہونی چاہیئں، ہمارا نکتہ نظر واضح ہے، بتایا جائے ملکی سلامتی کیخلاف کیا ہوا اور کس نے کیا کیا؟ آئی این پی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ ہی حتمی فیصلہ کرنے کا ادارہ ہے، ہم نے فوج کو ابھی تک کوئی ایسا حکم نہیں دیا جس پر اسے عمل درآمد کاکہاگیا ہو، امریکی آتے ہیں ایبٹ آباد آپریشن کر کے چلے جاتے ہیں؟ کسی کو آئین و قانون کی خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے، ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ آئی ہے نہ اس سے ہمارا کوئی تعلق ہے، ایکسپریس نیوزکے مطابق آئی ایس آئی کے وکیل راجہ ارشاد نے کہا کہ آپ نے کل ایک تقریب میں جو باتیں کی ہیں ان سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ آرمی چیف اور آپ کے درمیان لڑائی ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج عدالت کا احترام کرتی ہے اور اس نے ہر حکم پر عملدرآمد کیا ہے، اِس پر چیف جسٹس نے کہاکہ جی ہاں، کل ہم نے دیکھ لیا ہے، ہم نے فوج کو ابھی تک کوئی ایسا حکم دیا ہی نہیں، ہماری پوزیشن بہت واضح ہے، کسی کو بھی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔ اللہ کا شکر ہے عدلیہ کمزور نہیں، معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ راجہ ارشاد نے جب واشنگٹن پوسٹ میں صدر کے مضمون کا حوالہ دیا تو چیف جسٹس نے کہا کہ اس مضمون کو منگوا کر بتائیں کہ حکومت نے آپریشن کے بعد کیا اسٹینڈ لیا تھا۔ وقفے کے بعد راجہ ارشاد نے صدر کا مضمون پڑھ کر سنایا، چیف جسٹس نے کہا یہ سپریم کمانڈر کی تحریر ہے، بتائیں درخواست گزار کوکس حصے پر اعتراض ہے۔

این این آئی کے مطابق چیف جسٹس نے راجہ ارشاد سے کہا کہ آپ کے سپریم کمانڈر نے ایبٹ آباد آپریشن کی تعریف کی، کسی اورکی کیا بات کرتے ہیں؟ راجہ ارشاد نے بتایا کہ فوج کو20 ارب ڈالر امریکی امداد کی بات کی گئی ہے، فوج سب کی ہے مگر اس کے خلاف نفرت پیدا کی جا رہی ہے، یہود ونصاری اور فارن میڈیا پاکستان کے دشمن ہیں، چیف جسٹس نے کہا اس میں ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ راجہ ارشاد نے کہا کہ فوج اور ایجنسیاں ملک کے اندر اور باہر زیر عتاب ہیں، فوج کو کمزور کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ این این آئی کے مطابق راجا ارشاد نے کہا کہ دستور اور ٹینکوں کا موازنہ نہ کیا جائے، ادارے کی توہین پر بیان دینا آرمی چیف کی ذمے داری ہے، دستور کیخلاف جو فرد بھی کام کرے اسے شکنجے میں لایا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست میں اٹھائے گئے نکات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، بتایا جائے ایبٹ آباد آپریشن پر فوج کا کیا موقف تھا، راجہ ارشاد نے کہا کہ وہ آئی ایس پی آر کے موقف کے بارے میں پتہ نہیں کر سکے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ واقعہ کے بعد حسین حقانی کا بیان بھی آیا تھا، آئی ایس پی آر اور حسین حقانی کے بیانات کا تمام مواد اکٹھا کریں۔ آئی این پی کے مطابق راجہ ارشاد نے کہا کہ کسی کو آرمی چیف کے بیان کی جانب کسی غلط نظریے سے نہیں دیکھنا چاہیے، جرنیلوں کے احتساب کی آڑ میں ادارے کو بدنام کیا جا رہا ہے۔

مسلسل فوج کے حوالے سے بات کرنے پر چیف جسٹس نے راجہ ارشاد کو یاد دہانی کروائی کہ وہ فوج کے نہیں بلکہ سردار غازی کے وکیل ہیں، عدالت نے نجم سیٹھی اور اعجاز حیدر کے مضامین بھی طلب کرلیے اور درخواست گزار کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ دلائل دیں کہ چند صحافیوں کی ان رپورٹوں سے اظہار رائے کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ مزید سماعت 22 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔