شفاف مردم شماری ایک اہم ٹاسک

چنانچہ آبادی کےحقیقی اعداد و شمار پر قوم کا اعتماد اسی صورت بحال ہوسکتا ہے کہ مردم شماری مکمل شفافیت کی آئینہ دار ہو


Editorial February 23, 2016
سیاسی جماعتیں مردم شماری پر پوائنٹ اسکورنگ نہ کرنے کا عہدکریں۔ اسے متنازع ایشو نہ بنایا جائے۔یہی قومی مفاد میں ہے۔ فوٹو: فائل

پیپلزپارٹی سندھ کے تحت وزیراعلیٰ ہاؤس میں آیندہ ہونے والی مردم شماری کے حوالے سے منعقدہ کل جماعتی کانفرنس ایک خوش آیند اقدام ہے جس میں شامل سیاسی، مذہبی، قوم پرست اور سول سوسائٹی کے نمایندوں نے متفقہ طور پر منظور کی گئی قراردادوں میں وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ قومی مردم شماری سے متعلق صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے مربوط پالیسی کا تعین کیا جائے۔

مردم شماری پر کل جماعتی کانفرنس میں اٹھائے گئے بیشتر نکات قومی اہمیت کے حامل اور ان پر انتہائی باریک بینی سے غور و فکر کرنا تقاضائے وقت ہے، متفقہ قراردادوں سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کی کہ مردم شماری ایک حساس ایشو ہے جب کہ قومی شیرازہ بندی کو ادارہ جاتی حیثیت دینے اور یگانگت و بھائی چارے کے فروغ واستحکام کے ساتھ ساتھ ترقی و خوشحالی اور قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے عمل میں اس کا گراں قدر کردار ہے۔

اے پی سی میں سیاسی جماعتوں نے اپنے جن خدشات و تحفظات کا اظہار کیا ہے انھیں صوبائی حکومتیں مشترکہ مفادات کونسل کے آیندہ اجلاس میں وزیراعظم کے سامنے پیش کرسکتی ہیں، کیونکہ آئینی تقاضوں کے مطابق مختلف قومیتوں ، برادریوں ،اقلیتوں اور چاروں صوبوں میں برس ہا برس سے سکونت پذیر نسلی اکائیوں کی آبادی اور مردم شماری و خانہ شماری 18 برس بعد ہورہی ہے، اس عرصہ میں پاکستان میں آبادی میں اضافہ اور دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف بڑے پیمانہ پر ہجرت و نقل مکانی نے بڑے مسائل پیدا کیے ہیں ، غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ ہے ، ایک رائے ہے کہ نادرا کے ڈیٹا کو مردم شماری کا حصہ بنایا جائے، چنانچہ آبادی کے حقیقی اعداد و شمار پر قوم کا اعتماد اسی صورت بحال ہوسکتا ہے کہ مردم شماری مکمل شفافیت کی آئینہ دار ہو۔

سندھ میں شہری و دیہی تقسیم ، بلوچستان میں بلوچوں اور پشونوں کی آبادی و وسائل کے حوالہ سے حقائق کا درست تخمینہ ،خیبر پختونخوا میں ہندکو سمیت پشتون اور دیگر زبانیں بولنے والوں کے ڈیٹا کا حصول اور اسی طرح پنجاب میں سرائیکی اور دیگر قومیتوں، لسانی ، تہذیبی و ثقافتی اکائیوں کو جامع مردم شماری کے شفاف عمل کا حصہ بنانا قومی امنگوں کی درست ترجمانی کرتا ہے۔ مشترکہ نگرانی کا نظام قائم کرنے کے ساتھ ساتھ مردم شماری کمیشن میں تمام صوبوں کو مساوی نمایندگی دی جائے۔

ان قراردادوں کی روشنی میں صوبائی حکومت مشترکہ مفادات کی کونسل کے آیندہ ہونے والے اجلاس میں مردم شماری کے حوالے سے اپنا مؤقف پیش کرے گی ۔پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر اور وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے مردم شماری پر بلائی گئی اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مردم شماری صوبوں کے لیے زندگی اور موت کا معاملہ ہے، اس لیے وفاق تحفظات کو دور کرے، وفاقی حکومت مردم شماری کی تاریخ میں تبدیلی نہ کرے ، مردم شماری کمیشن میں صوبوں کو مساوی نمایندگی ملنی چاہیے۔ سیاسی جماعتیں مردم شماری پر پوائنٹ اسکورنگ نہ کرنے کا عہدکریں۔ اسے متنازع ایشو نہ بنایا جائے۔یہی قومی مفاد میں ہے۔