پٹھانکوٹ تحقیقات بھارت صبر سے کام لے

بھارتی حکومت مسلسل پاکستان کو حملوں سے متعلق شواہد دیتی رہی ہے اگر کوئی سنجیدہ ہے تو اسے لازمی کارروائی کرنی چاہیے


Editorial February 24, 2016
پٹھانکوٹ کے واقعہ پر پاکستانی حکومت کی طرف سے بین الاقوامی قوانین و اصول کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ فوٹو: فائل

پٹھانکوٹ حملے کی تحقیقات کے حوالے سے قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے اگرچہ پنجاب کے مختلف شہروں میں چھاپے مار کر کئی مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا ہے اور بھارت نے ان حملوں کی تحقیقات کے سلسلے میں جن موبائل فون نمبروں کی نشاندہی کی تھی ان کی بھی سرگرمی سے تلاش شروع کر دی گئی ہے اور ایسے عناصر کو ڈھونڈا جا رہا ہے جو مبینہ طور پر پٹھان کوٹ حملوں میں بلواسطہ ملوث ہیں یا وہ حملہ آوروں کے سہولت کار ہوسکتے ہیں تاہم بھارت اس ایشو پر روایتی مخاصمت دباؤ اور گن بوٹ ڈپلومیسی کے ذریعے دھونس دھمکی سے کام لے رہا ہے جو بلاشبہ پاکستان کی جانب سے کیے جانے اقدامات اور تحقیقات پر اثر انداز ہونے اور واقعے میں ملوث عناصر کی پاکستان میں تلاش و تفتیش کے عمل کو خود ہی افسوس ناک حکمت عملی سے متاثر کرنے کا باعث بن رہا ہے۔

امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستانی وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا تھا کہ گزشتہ چند روز کے دوران سیالکوٹ، گوجرانوالہ، جہلم اور دینہ میں چھاپوں کے دوران کچھ افراد کو حراست میں لیا گیا جن کے نام بھارتی حکومت نے پٹھان کوٹ حملے کے بعد پاکستانی حکومت کو فراہم کیے تھے مگر وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق میڈیا پر اس حملے میں ملوث مبینہ شدت پسندوں یا ان کے سہولت کاروں کے نام سامنے آنے پر ان کا پتہ چلانے میں مشکلات درپیش ہیں۔

اب ایسے نازک مرحلے میں جب تفتیش انتہائی ذمے داری کے ساتھ ہو رہی ہو بھارتی حکام کو بلاوجہ بیان بازی سے گریز اور تحقیقات کا انتظار کرنا چاہیے، اس ضمن میں بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر کی بے صبری اور غیر ضروری بیان بازی مناسب نہیں جس میں انھوں نے ایک بار پھر غلط اور دھمکی آمیز لب و لہجہ استعمال کیا کہ بہت ہوگیا اب ہم چپ نہیں رہیں گے، پٹھان کوٹ حملے کا مقدمہ کافی نہیں، بھارت کے اطمینان کے لیے دہشتگردی کے واقعہ کی سنجیدہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

بھارتی حکومت مسلسل پاکستان کو حملوں سے متعلق شواہد دیتی رہی ہے اگر کوئی سنجیدہ ہے تو اسے لازمی کارروائی کرنی چاہیے حالانکہ پاکستان اس کا با آسانی ڈپلومیٹک جواب دے سکتا تھا کہ جب مودی سرکار اتنی طاقتور تھی تو پٹھانکوٹ کے ملزمان کو کارروائی سے پہلے یا بعد میں زندہ یا مردہ اسی وقت گرفتار کرنے میں کیا عذر مانع تھا، مگر پاکستان نے بھارت کے تبدیل شدہ ذمے دارانہ طرز عمل اور رسپانس کا مثبت جواب دیا کیونکہ بھارت نے پٹھانکوٹ سانحہ کا ملبہ اسی دم پاکستان پر نہیں گرایا، یہ اس کی سیاسی قلب ماہیت کا ایک نیا انداز تھا اور پاکستان نے اسی طرز عمل کو دیکھتے ہوئے اس واقعہ کی تحقیقات شروع کی ہیں جس کا سب کو انتظار کرنا چاہیے۔

لیکن بھارت کبھی امریکہ کی جانب سے پاکستان کو ایف 16 لڑاکا طیاروں کی فروخت پر اعتراضات اٹھاتا ہے ، کبھی اپنی جامعات اور مختلف داخلی مسائل اور شورش پر آمادہ گروپوں کی کارروآئیوں کا پاکستان کو مورد الزام ٹھہراتا ہے ، مگر مجموعی اعتبار سے پٹھان کوٹ واقعہ کی تحقیقات پر بھارتی حکمرانوں اور میڈیا میں ہرزہ سرائی کی روایتی لہر نہ ہونے کے برابر تھی ۔ اسی دوران بھارتی میڈیا نے یہ دعویٰ کیا کہ پٹھانکوٹ ایئربیس حملے کے تحقیقات کرنے والی پاکستانی ٹیم آیندہ ماہ بھارت کا دورہ کرے گی جب کہ پٹھانکوٹ ایئر بیس حملے کی تحقیقات کے سلسلے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔

یوں گیند بھارتی کورٹ میں ہے ، ان کے وزیر دفاع کو احتیاط لازم ہے، یہ زمانہ دھمکیوں کا نہیں مفاہمت اور اس بات چیت کا سلسلہ جوڑنے کا ہے جسے بھارت نے خود منسوخ کیا تھا۔ اصل مسئلہ جسے بھارتی حکام اور سیاست دانوں کو ذہن نشین کرنا چاہیے وہ نان سٹیٹ ایکٹرز کا ہے جو سرحد کے دونوں پار فعال ہیں ، پاکستان نے ضرب عضب آپریشن سے کافی اہداف پورے کیے ہیں ، اب بھارت کا کام ہے کہ وہ بھی دہشتگردی کے خلاف عمل کرے تاکہ دہشتگردوں اور امن دشمنوں کے خود ساختہ ایجنڈے تہس نہس کیے جا سکیں۔

پٹھانکوٹ واقعہ کی تحقیقات پر بھارت صبر و تحمل سے کام لے، پاکستان کے سابق چیف جسٹس اور پاکستان جسٹس ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ افتخار محمد چوہدری کا کہنا ہے کہ پٹھان کوٹ واقعہ کی گوجرانوالہ میں ایف آئی آر کا اندراج حکمرانوں کی سنگین غلطی ہے، گزشتہ ادوار میں ممبئی حملے جیسی غلطی کو پھر دہرایا گیا، ہندوستان سے دوستی صرف برابری کی سطح پر ہونی چاہیے ۔ سابق وزیر خارجہ میاں خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ پٹھانکوٹ کا واقعہ سنجیدہ ایشو ہے جس پر وزارت خارجہ یا وزیر اعظم کے سوا کسی وزیر مشیر کو بیان بازی نہیں کرنی چاہیے۔

اس سے خرابی اور الجھنیں پیدا ہوتی ہیں ۔ یہ آراء پیش نظر رکھنی چاہئیں، زمینی حقائق کا پاک و بھارت ممکنہ مفاہمت سے گہرا رشتہ ہے۔ پٹھانکوٹ کے واقعہ پر پاکستانی حکومت کی طرف سے بین الاقوامی قوانین و اصول کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ پاکستان دنیا سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا اور بھارت بھی خطے میں امن و دوستی اور پائیدار ہمسائیگی کے قیام کے لیے دیرینہ مسائل پر بات چیت کے لیے آگے بڑھے، پٹھانکوٹ واقعہ کی تحقیقات اس سمت میں ایک بریک تھرو بنایا جاسکتا ہے۔