کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی

منی پاکستان تمام قومیتوں پر مشتمل ایک حسین گلدستہ ہے جس کی خوشبو سے کراچی مہک رہا ہے


Editorial February 24, 2016
ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی کئی برس جاری رہا ، تاکہ ملکی معیشت کا پہیہ جام ہوجائے۔ فوٹو؛فائل

شہرقائد پاکستانی معیشت کی شہ رگ ہے، روزگارکے سب سے زیادہ اور بہتر مواقعے بھی اسی غریب پرور شہر میں موجود ہیں، منی پاکستان تمام قومیتوں پر مشتمل ایک حسین گلدستہ ہے ، جس کی خوشبو سے کراچی مہک رہا ہے، خیبرپختون خوا میں جاری آپریشن کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے، جس کا زیادہ بوجھ کراچی پر پڑا ہے، جہاں لاکھوں بے کس ومجبور لوگوں نے ہجرت کی ہے وہیں کچھ شہرپسند عناصر بھی عام افراد کے بھیس میں شہر میں داخل ہوچکے ہیں۔

ان کے خلاف رینجرز اور پولیس مسلسل کارروائیاں کررہے ہیں، جس میں انھیں کافی کامیابیاں بھی ملی ہیں، جب کہ رینجرز اور پولیس اہلکاروں نے جام شہادت نوشکیا ہے ، جرم اورقانون کی جنگ جاری ہے،گزشتہ روزکراچی کے علاقوں پپری اورگڈاپ میں 2 پولیس مقابلوں میں 12 دہشت گردوں کو ہلاک کرکے خودکش جیکٹس ،کلاشنکوف و دیگر اسلحہ ،گولیاں ، بال بیرنگ اور پولیس وقانون نافذ کرنے والے ادارے کی وردیاں برآمد کرلی گئیں، پولیس کی یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔

کیونکہ مرنیوالوں کا تعلق کالعدم القاعدہ برصغیر،کالعدم لشکر جھنگوی اورکالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تھا،ایک دہشت گرد تین ڈی ایس پیز اورایس پی کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھا۔کراچی بین الاقوامی اہمیت کا حامل شہر ہے،اس پر دشمنوں کی نظریں ایک عرصے سے لگی ہوئی ہیں ، سازشوں کے نئے نئے جال بچھائے جاتے ہیں ۔ماضی میں شہر کے امن کو تہہ وبالا کرنے کے لیے پرتشدد ہڑتالیں کی جاتی تھیں جن میں گاڑیوں اور املاک کو نذر آتش کیا جاتا تھا ۔

ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی کئی برس جاری رہا ، تاکہ ملکی معیشت کا پہیہ جام ہوجائے،اب ایسے دہشت پسند گروہوں نے کراچی اور اس کے گردونواح میں اپنی کمیں گاہیں قائم کی ہیں ، جو آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں عام افراد کے روپ میں فرار ہوکر کراچی پہنچ چکے تھے ، موجودہ حکومت نے کراچی آپریشن شروع کر کے شہر بے اماں کو امان دی ہے، کیونکہ دشمن کا ایک منصوبہ یہ تھا کہ کراچی میں بم دھماکوں اور دیگر شدت پسند کارروائیوں کے ذریعے بدامنی پیدا کی جائے۔

تاکہ آپریشن ضرب عضب رکوایا جا سکے یا پھر پاک فوج کوکراچی کے گلی،کوچوں میں تعینات کروا کر ان پر حملے کیے جائیں، دشمن کی اس سازش کے آلہ کار دہشت گرد گروہ ہیں۔ حقیقتاً اگر ان پر قابو نہ پایا جاتا تو شہر شعلوں کی نذر ہوچکا ہوتا، سلام رینجرز اور پولیس کے جوانوں پر جنھوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر کراچی کی سلامتی کو یقینی بنایا ہے، ویسے کوشش کی جانے چاہیے کہ ملزمان زندہ گرفتار کیے جاسکیں تاکہ پولیس پرجعلی مقابلوں میں ملزموں کی ہلاکت کا الزام نہ لگے۔