افغانستان میں امن کا روڈ میپ
افغانستان اور اس کے سیاسی نظام کو کثیر الجہتی تضادات و اختلافات اور طالبان کی شورش و ہولناک حملوں نے تباہ کر ڈالا ہے
اعلیٰ امن کونسل ملک میں مصالحت کی کوشش کی نگرانی کرتی ہے۔ فوٹو: فائل
افغان دارالحکومت کابل میں چار ملکی رابطہ گروپ کے اجلاس میں افغانستان میں قیام امن سے متعلق ہونے والے مذاکرات کا متفقہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا جس کے مطابق افغانستان، پاکستان، امریکا اور چین کے نمایندوں کا چوتھا مشاورتی اجلاس منگل کو ہوا جس میں تمام طالبان اور دیگر دھڑوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے مجاز نمایندوں کے ذریعے افغان حکومت سے براہ راست مذاکرات کے عمل میں شرکت کریں جو کہ مارچ کے پہلے ہفتے میں متوقع ہے۔
مشاورتی اجلاس کے بادی النظر میں عالمی قوتوں کی خواہش اور کوشش تو یہی نظر آتی ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی اور قتل وغارت ختم اور دائمی امن قائم ہو تاہم تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو افغان مسئلہ سو سر والے سانپ سے مختلف نہیں جس سے نمٹنے کے لیے ایک عفریت جیسا سیاسی و مشاورتی میکنزم درکار ہے۔
افغانستان اور اس کے سیاسی نظام کو کثیر الجہتی تضادات و اختلافات اور طالبان کی شورش و ہولناک حملوں نے تباہ کر ڈالا ہے، اس کے داخلی مسائل میں ریاستی و صوبائی کرپشن انتشار و بدنظمی، طالبان کی نئی صف بندی، پر تشدد حملے، اشرافیہ میں پولرائزیشن،کمزور ادارے ، ڈرگ وار کے مصائب شامل ہیں جب کہ خارجی عوامل میں عالمی طاقتوں کی اپنے مفادات کے تحفظ میں سرگرمی اور جیو اسٹرٹیجک صورتحال کا کنٹرول، طالبان کی اسلامی حکومت کے احیا کا خطرہ سمیت پاکستان کے اشتراک امن کی کوششوں سے بھارت اور دیگر پڑوسی ملکوں کی بدگمانی ایسے گمبھیر مسائل ہیں، بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کو ''مہمان اداکار'' کے طور پر بات چیت کے لیے رضامند کرنا مسئلہ کا حل نہیں۔
کئی سیاسی مبصرین اس جانب اشارہ کرچکے ہیں اور وہ طالبان مائنڈ سیٹ کے موڑے جانے پر یقین نہیں رکھتے ، ان کا کہنا ہے کہ اصل اسٹیک ہولڈر ہی افغان حکومت اور طالبان ہیں، طالبان گفتگو اور امن کاز میں شراکت کا احساس پائیں گے تب بات چیت بار آور ثابت ہوگی۔ تاہم پاکستان سمیت پوری دنیا چاہتی ہے کہ افغان حکومت دانشمندانہ طریقے سے تباہی کے اس گھناؤنے چکر سے نکلے۔ طالبان مزاحمتی دھڑوں سے اس کی چار ملکی رابطہ گروپ کی سربراہی میں امن روڈ میپ کامیاب ہو ، خطے میں ترقی و خوشحالی کا نیا دور شروع ہو جو افغانستان کے عظیم تر مفاد سے وابستہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔
چنانچہ گزشتہ روز کے اجلاس میں گزشتہ اجلاسوں کے فیصلوں کے متعلق پیشرفت کا بھی بسیط جائزہ لیا گیا اور طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے روڈ میپ تیار کیا گیا۔ امن اور مذاکرات کی باتیں سابق صدر حامد کرزئی کے دور میں بھی خوب چلیں مگر اتفاق رائے پیدا ہونے کے بجائے معاملات بگڑتے ، سنورتے اور بدتر ہوتے چلے گئے، حامد کرزئی طالبان کو ''میرے اپ سیٹ بھائی '' کہا کرتے تھے، جب کہ اس کے بعد آنے والے طالبان کو دشمن سمجھتے رہے تاہم صدر اشرف غنی کے رواں عہد اقتدار میں امن بات چیت کو نئی جہت ملی ہے نیز پاکستان سے اشتراک عمل اور دوطرفہ وسیع البنیاد رابطوں اور معاہدوں کے بعد پاک افغان اسٹرٹیجی امن کے مجوزہ روڈ میپ کی طرف سفر کا مستقل استعارہ ہے ۔ چار ملکی رابطہ گروپ نے افغان صدر اشرف غنی کے 15 فروری کو دیے گئے بیان کو سراہا جس میں انھوں نے افغان طالبان، حزب اسلامی اور حکمت یار گروپ سے مفاہمت کا اعادہ کیا۔
پاکستان چونکہ افغانستان معاملہ سے تزویراتی تناظر میں جڑا ہوا ہے اور اس کے نزدیک ایک مستحکم افغانستان خطے کے مفاد میں ہے اس لیے پاکستان نے طالبان اور افغان حکومت کے مذاکرات اسلام آباد میں کرانے کی بھی پیشکش کی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض افغان دانشور پاکستان اور افغانستان کے مابین گفت و شنید اور اعلیٰ سطح کے رابطوں کا غلط مطلب اخذ کرتے ہیں، مثلاً بعض تجزیہ کاروں کا الزام ہے کہ افغانستان کا مسئلہ ڈسپریشن اور دوسری طرف طاقت کا غرور ہے، اور پاکستان کی طالبان اسٹرٹیجی یہ ہے کہ طالبان کو لبنان میں حزب اللہ کی طرح کی سیاسی و فوجی شناخت ملے اور اس کا تمام افغان صوبوں پر مکمل کنٹرول ہو حالانکہ پاکستان کے خلاف مخاصمانہ انداز نظر رکھنے والے دیگر عناصر بھی تصویر کا اصل رخ ہمیشہ مسخ کر کے پیش کرتے ہیں ، امریکا تو چاہتا ہے کہ پاکستان افغان طالبان سے بھی لڑے
۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی پیشکش رضاکارانہ ہے ، اسے افغانستان میں صرف امن کے قیام سے دلچسپی ہے اس کے کسی قسم کے توسیع پسندانہ عزائم نہیں۔ بہرکیف فریقین نے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا جب کہ اجلاس میں پاکستان اور افغانستان کے علماء پر مشتمل ورکنگ گروپ بنانے کا خیرمقدم کیا گیا۔
ورکنگ گروپ پاک افغان علماء کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن کے قیام کے لیے کام کرے گا اور تشدد کی روک تھام کے لیے فتوے جاری کرے گا۔ اے ایف پی کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے منگل کو پیر سید احمد گیلانی کو ملک کی اعلیٰ امن کونسل کا نیا سربراہ مقرر کیا ہے۔ اعلیٰ امن کونسل ملک میں مصالحت کی کوشش کی نگرانی کرتی ہے۔ گیلانی معروف جہادی رہنما ہیں جنھیں ملک بھر میں مختلف قبائل عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اسی طرح دیگر اسکالرز اور ممتاز طالبان رہنماؤں کی شمولیت کو یقینی بنا کر افغانستان کے عوام کو امن کا گلدستہ پیش کرنے کی نوید دی جاسکتی ہے۔