پاکستان سپر لیگ کا دبئی میں شاندار میلہ

پاکستان کرکٹ بورڈ کی کاوشوں سےیہ کامیاب ٹورنامنٹ تھا جب کہ بھارت کی ہرسازش ناکام ہوئی اس میلےکےدوررس اثرات مرتب ہوں گے


Editorial February 25, 2016
کرکٹ کا کھیل مکمل طور پر کمرشل ہوچکا ، اس میں سرمایہ کاری بھی ضروری ہے، یہ سپرلیگ اس ضمن میں کافی اہم ثابت ہوئی ہے ۔ فوٹو : فائل

پاکستان سپرلیگ کا شاندار میلہ پہلی باردبئی کے گراؤنڈز پرسجایا گیا، جس میں ممتاز ملکی اورغیرملکی کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیموں نے حصہ لیا، شائقین کرکٹ کو انتہائی سنسنی خیر مقابلے دیکھنے کو ملے، لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی صورتحال، ہراچھے شاٹ اور بال پر دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی رہیں، جو ٹیمیں ہارٹ فیورٹ تھیں ، وہ رہ گئیں پیچھے، بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے آگے نکل گئے، اور کچھ میچز کے نتائج نے یہ ثابت کیا کہ کرکٹ بائی چانس گیم ہے، بعض پاکستانیوں کی شاندار کارکردگی نے ان پر انٹرنیشنل دروازے کھول دیے ، یہ میلہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو چھ وکٹوں سے شکست دے کر لوٹ لیا ۔کرکٹ پاکستانیوں کا محبوب ترین کھیل ہے، دیوانگی اور شوق کا عالم یہ ہوتا ہے کہ سڑکیں سنسان ہوجاتی ہیں۔

جیت پر جشن کا سماں ہوتا ہے، اس بار سپرلیگ کے میچز میں وہی جوش وجذبہ اور ولولہ دیکھنے میں آیا، آتش بازی کا سحر انگیز منظر سجایا گیا۔ ہر چہرہ مسرور تھا، ہونا تو چاہیے تھی یہ سپرلیگ پاکستان میں ، لیکن سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اسے دبئی میں منعقدکرنا پڑا ، لیکن دبئی کو آپ منی پاکستان کہہ سکتے ہیں کیونکہ وہاں پر پاکستانیوں کی کثیر تعداد حصول روزگار کے لیے موجود ہے، یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ بعض میچزکے موقعے پر دبئی کی تاریخ میں پہلی بار ٹریفک جام ہوا، جوکہ ٹورنامنٹ کی کامیابی کی دلیل ہے ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی کاوشوں سے یہ کامیاب ٹورنامنٹ تھا ،جب کہ بھارت کی ہر سازش ناکام ہوئی، اس میلے کے دور رس اثرات مرتب ہونگے ۔

یہ میچز ایشیا کپ، ٹی ٹوئنٹی اور ورلڈ کپ کی تیاریوں میں نہ صرف مدد دیں گے، بلکہ کھلاڑیوں کی کارکردگی میں نکھار بھی آئے گا ۔ کرکٹ کا کھیل مکمل طور پر کمرشل ہوچکا ، اس میں سرمایہ کاری بھی ضروری ہے، یہ سپرلیگ اس ضمن میں کافی اہم ثابت ہوئی ہے ۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان ثنااللہ زہری سمیت متعدد سیاسی و عسکری شخصیات نے فائنل دیکھا، ثنا اللہ زہری نے اس موقعے پر کہا کہ حکومت کی موثر پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ جلد بحال ہوگی۔ پاکستانی قوم بے چینی سے انتظارکر رہی ہے کہ جلد ازجلد اس کے ویران گراؤنڈز آباد ہو جائیں اور دنیا بھرکی ٹیمیں یہاں آکر بلاخوف وخطر کرکٹ کھیلیں اور شائقین کرکٹ اپنے محبوب کھلاڑیوں کو انتہائی قریب سے کھیلتا ہوا دیکھ سکیں ۔