آپریشن ضرب عضب دہشتگردی کا ڈراپ سین

جنرل راحیل شریف نے بدھ کو شمالی وزیرستان کے دور افتادہ علاقے شوال کا دورہ کیا


Editorial February 25, 2016
جنرل راحیل شریف نے بدھ کو شمالی وزیرستان کے دور افتادہ علاقے شوال کا دورہ کیا، فوٹو؛فائل

بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی اس ہدایت کے تناظر میں کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے آخری مرحلے میں کارروائیوں کو تیز کیا جائے دہشتگردی کے خلاف کریک ڈاؤن اپنے منطقی نتیجے اور انجام کی طرف جاتا نظر آ رہا ہے۔

جنرل راحیل شریف نے بدھ کو شمالی وزیرستان کے دور افتادہ علاقے شوال کا دورہ کیا اور ضرب عضب میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ ملکی سالمیت اور ریاستی رٹ کو قائم رکھنے کے لیے جس عسکری عزم و ارادے کی ضرورت تھی وہ آپریشن ضرب عضب کی شکل میں پہلی بار سامنے آئی جو در حقیقت پاکستان کی بقا اور وجود کو لاحق داخلی و خارجی خطرات سے نمٹنا تھا، اور یہی اب دہشتگردی کا ڈراپ سین بنے گا۔

ادھر آپریشن ضرب عضب کے موثر ہونے کا اعتراف امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی طرف سے ہوا ہے جنہوں نے پاکستان کو ایف 16 لڑاکا طیاروں کی فروخت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکا کا اتحادی ہے اور اس کی فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور ساتھ دیا ہے جب کہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر باب کروکر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں پر منفی انداز میں سوال اٹھایا اور کہا کہ پاکستان اب بھی طالبان، حقانی نیٹ ورک اور القاعدہ کو پناہ دے رہا ہے۔

یہ وہ بھارت نواز امریکی لابی ہے جو بھارت کو خوش رکھنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی تاہم پاک فوج کی فاٹا کے علاقے میں دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ کن اور تاریخی آپریشن کی گونج اب امریکی منتخب ایوانوں سے لے کر فیصلہ سازوں کے اجلاسوں میں بھی سنائی دینے لگی ہے چنانچہ وزیر خارجہ جان کیری نے باب کروکر کو جو دو ٹوک جواب دیا وہ پاکستان کا مقدمہ لڑنے کے مترادف ہے جو امریکی عوام کے لیے چشم کشا بھی ہے۔

جس میں جان کیری نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان کے تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار فوجی مغربی سرحد پر تعینات ہیں جہاں وہ دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں حقانی نیٹ ورک کو اپنے ٹھکانے چھوڑنا پڑے۔ یوں دہشتگردی کے بلاامتیاز ہونے کا اب ادنیٰ سا شائبہ بھی نہیں رہا۔ حقیقت میں جنرل راحیل اور مسلح افواج کا عزم ان دہشتگردوں کے لیے پروانہ موت ہے جو چراغ سحری کی طرح ہیں اور بوکھلاہٹ اور شکست خوردگی کے باعث کراچی، بلوچستان اور پنجاب میں انسانیت سوز وارداتیں کرتے ہوئے اب دیوار سے لگا دیے گئے ہیں، ان کے شہروں میں چھپنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا، اور ان کا کام تمام کرنے کے لیے انھیں لاسٹ وارننگ دی جا چکی ہے۔

تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشتگردوں کی باقیات، ملکی و غیر ملکی ماسٹر مائنڈز، ان کے سہولت کاروں اور سیاسی و مالیاتی گٹھ جوڑ کے مکمل خاتمہ کا سنگ میل آپریشن ضرب عضب کے نام سے منسوب ہو اور وعدہ کے مطابق سال 2016 کے اختتام پر قوم کو امن، آسودگی، ترقی، استحکام اور انتہا پسندوں کی ہمہ جہت اور دائمی شکست کی خوشخبری ملنی چاہیے۔

امید کی جانی چاہیے کہ دہشتگردی سے نجات کو قومی مشن سمجھتے ہوئے سول سوسائٹی، میڈیا اور سیاسی سٹیک ہولڈرز بھی دہشتگردوں کے تعاقب میں رہیں گے تا کہ عسکری محاذ پر پاک فوج اور سویلین میدان میں مین اسٹریم سیاسی جماعتیں انتہاپسندی، فرقہ واریت، عدم رواداری، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور ریاست دشمنی میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچا کر ہی دم لیں۔