کراچی کے لیے گرین لائن بس منصوبہ

وزیراعظم کا دورہ بلاشبہ کراچی کو درپیش غیر معمولی چیلنجز پر قابو پانے کے عزم و حکمت عملی سے جڑا ہوا ہے


Editorial February 27, 2016
دہشتگردی اور انتہا پسندی کا راستہ روکنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو رواداری اور قومی سالمیت کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ہونا پڑے گا۔ فوٹو : پی آئی ڈی

وزیراعظم نواز شریف جمعہ کی صبح کراچی پہنچے اور انھوں نے پہلے شہر قائد کو جدید ترین ٹرانسپورٹ سہولتوں سے آراستہ کرنے کے لیے گرین لائن بس سروس منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھا جس پر 16 ارب 86 کروڑ روپے لاگت آئے گی، اور وفاقی حکومت اس کے تمام اخراجات برداشت کرے گی۔

وزیراعظم نے گزشتہ برس اس منصوبہ کا اعلان کیا تھا، منصوبہ کے معیار و رفتار اور کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے یقین دلایا کہ گرین لائن ریپڈ بس سروس منصوبہ لاہور میٹرو سے بھی اچھا ہو گا جو 11 کلو میٹر نہیں بلکہ22 کلومیٹر طویل ہو گا اور جن علاقوں سے یہ بس گزرے گی وہاں کے شہریوں کے لیے سفر کی بہترین سہولت میسر ہو گی، منصوبہ اگلے سال مکمل ہو جائے گا۔

وزیراعظم نے اہل کراچی کو مزید خوشخبری دی کہ کراچی کو لاہور سے موٹر وے کے ذریعے ملانے کا کام شروع ہو چکا ہے، تھر سے کوئلہ نکالنے کا کام شروع ہونے جا رہا ہے، اس سے بجلی پیدا کی جائے گی، لیاری ایکسپریس وے کے لیے دو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جب کہ حیدر آباد سے سکھر تک موٹر وے پر کام شروع کرنے کے لیے تکنیکی معاملات ایک ماہ میں طے پا جائیں گے۔

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے بڑے شگفتہ اور بلیغ پیرائے میں کہا کہ بڑے بڑے منصوبے صرف ''فاصلے'' کم کرنے کے لیے نہیں بلکہ ''دلوں کو قریب'' لانے کے لیے ہیں۔ غالباً اسی سیاق وسباق میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا کہ وزیراعظم نے پنجاب اور سندھ کے درمیان غلط فہمیوں کا ازالہ کر دیا ہے۔ تاہم وزیر اعظم کے دورے کا دوسرا پہلو دہشتگردی اور کراچی آپریشن کی حقیقی صورتحال کا جائزہ لینے سے مربوط تھا۔

کراچی میں وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس ہوا جس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان، وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ، ڈی جی رینجرز بلال اکبر، آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آپریشن کراچی کی رونقیں بحال ہونے تک جاری رہے گا، قوم دہشت گردوں کے خلاف متحد ہے اور حکومت آخری دہشت گرد تک اس کا اور تمام سہولت کاروں کا پیچھا کرے گی۔ا سٹریٹ کرائمز میں اضافہ پر وزیر اعظم کی تشویش بجا تھی، وزیراعلیٰ سندھ بھی اسی قسم کی تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔

وزیراعظم کا دورہ بلاشبہ کراچی کو درپیش غیر معمولی چیلنجز پر قابو پانے کے عزم و حکمت عملی سے جڑا ہوا ہے، وفاقی حکومت اس شہر کو ہر قسم کی لاقانونیت، بدنظمی، کرپشن اور سماجی و معاشی مصائب سے نجات دلانے کے لیے کوشاں ہے مگر اس کوہ گراں کو سر کرنے کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت کو بھی کمر کس لینی چاہیے، سندھ کا چہرہ کراچی ہے جو ملک کا سب سے اہم تجارتی کاروباری انجن ہونے کے ساتھ ساتھ کثیر جہتی قومی یکجہتی کی علامت بھی ہے جہاں منی پاکستان کی شکل میں وطن کے دور دراز سے آئے ہوئے محنت کش خاندان آ کر آباد ہوئے ہیں جنہیں رہائش، روزگار، زندگی کا تحفظ اور تابناک مستقبل درکار ہے، وہ ملکی ترقی و خوشحالی کے ثمرات سمیٹنے کے لیے مساوات پر مبنی سماجی و معاشی انصاف بھی چاہتے ہیں۔

جہاں تک انفرااسٹرکچر کا تعلق ہے اس کا فقدان ہی سندھ میں غربت کا سبب ہے، اس لیے وفاقی حکومت کی اقتصادی اسٹرٹیجی سڑکوں کے اس جال سے منسلک ہے کہ جہاں تک سڑک جائے گی اس کے ہمدوش تہذیب کا سفر بھی چلتا رہے گا۔

جب کہ قدرت نے ہمیں سمندر، دریا، پہاڑ صحرا، معدنیات، پھل، اور ایسے موسم عطا کیے ہیں کہ ارباب اختیار اگر افرادی قوت کو روزگار کی فراہمی کے لیے مواصلات و ٹرانسپورٹ کی جدید ترین سہولتوں کے نیٹ ورک کو چاروں صوبوں سے ملا دیں تو بھوک و افلاس کے اندھیروں سے لڑتے تھر کے بچے نہ ہلاک ہوں اور نہ اندرون سندھ افرادی قوت زرعی شعبے سے نکل کر کراچی کی کچی آبادیوں میں گزر بسر پر مجبور ہو۔

حکومت کی معاشی حکمت عملی اسی تصور کی عملی توجیہہ پیش کرتی ہے کہ ماس ٹرانزٹ سسٹم کی سہولتوں کو عام کر کے بلوچستان، پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے محنت کشوں کی زندگی اور ان کے لائف اسٹائل میں بنیادی تبدیلی لائی جاسکے گی اور ترقی و خوشحالی یا پاکستان کو فلاحی مملکت بنانے کا عزم ایک سیاسی نعرہ نہیں رہیگا بلکہ جہاں جہاں ماس ٹرانزٹ سسٹم کے تحت مواصلات، تجارت اور کاروباری سرگرمیوں میں حرکت پذیری اور افرادی قوت کی کھپت نتیجہ خیز بنے گی وہاں لازماً سماجی و معاشی تبدیلی نظر آئیگی۔

لیکن معاشی ترقی امن سے مشروط ہے، اس لیے دہشتگردی سے نمٹنے میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اور کراچی آپریشن کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کا عہد حکومت کے اس کمٹمنٹ کی تکمیل ہے جس کا مقصد تمام صوبوں کی معاشی حالت کو بدلنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب میٹرو بس اور موٹروے کے عظیم الشان منصوبوں پر تنقید ہوتی رہی مگر ان کے ثمرات نے بالآخر عوام کے دل جیت لیے ہیں، یہی کام سندھ، بلوچستان اور پختونخوا میں طے شدہ وقت میں اور مکمل شفافیت سے انجام پذیر ہوں تو ان علاقوں کے عوام بھی معاشی فوائد سے مستفید ہوں گے، مگر ضرورت ایک ایسے معاشرے کے قیام اور تعمیر کی ہے جہاں جرائم قابو میں ہوں، بھتہ خوری، قتل و غارت اور اغوا برائے تاوان کا ناسور جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔

اس کے لیے دہشتگردی اور انتہا پسندی کا راستہ روکنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو رواداری اور قومی سالمیت کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ہونا پڑے گا۔ سیاست تو ہوتی رہے گی مگر سیاست برائے عوام کی طرف طرز حکمرانی کو موڑا جائے تو اقتصادی، مواصلاتی اور تکنیکی انقلاب کے ذریعے عوام کو خوشحالی اور آسودگی کی منزل تک پہنچانے کے لیے امن کا حصول مشن امپاسیبل نہیں ہو گا۔

اس حوالے سے سندھ حکومت سمیت تمام صوبائی اکائیوں کو اپنے دیہی عوام کو مقامی سطح پر جدید ترین سفری سہولتیں مہیا کرنے کے منصوبوں پر عمل کرنے میں پیش رفت کرنی چاہیے تا کہ بین الصوبائی افرادی قوت کو اپنے بے بہا ہنر،استعداد اور فنی و تخلیقی صلاحتیوں کو ہر صوبے میں جا کر آزمانے کا یکساں موقع ملے اور یہ مواقع ماس ٹرانزٹ سسٹم کے راستے پر چل کر ہی مل سکتے ہیں۔