نہرو یونیورسٹی پر انتہا پسندوں کا حملہ

اب حیدرآباد دکن کی یونیورسٹیوں میں بھی اس احتجاج کی دھمک سنائی دے رہی ہے


Dr Tauseef Ahmed Khan February 27, 2016
[email protected]

بھارت میں تبدیلی کے آثار رونما ہو رہے ہیں' یونیورسٹی کے طلباء نے ریاست کے جبر کو چیلنج کر کے علمی آزادی Acadmic Freedom کا حق استعمال کیا۔ بھارت کی کمیونسٹ پارٹی سے منسلک طلباء آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے رکن جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار نے افضل گرو کی برسی کی تقریب یونیورسٹی میں منعقد کروائی اور منحرفین کی آواز کو اظہار رائے کا موقع دیا۔

نجی ٹی وی چینلز سے نشر ہونے والی مسخ شدہ فوٹیج دکھائے جانے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کی شکایت پر کنہیا کمار کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج ہوا۔ کنہیا کو پولیس نے گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا' کنہیا کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہزاروں طالب علموں نے احتجاج شروع کر دیا۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے جنوبی دہلی کیمپس سے یہ احتجاج شروع ہوا، جو اب دہلی کی مختلف جامعات تک پھیل گیا۔

یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کا کہنا ہے کہ اب حیدرآباد دکن کی یونیورسٹیوں میں بھی اس احتجاج کی دھمک سنائی دے رہی ہے۔ کشمیری منحرف افضل گرو پر 2001ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے میں ملوث دہشت گردوں کی مدد کا الزام لگایا تھا۔ بھارت کے سپریم کورٹ نے افضل گرو کی پٹیشن کو مسترد کیا تھا' انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس وقت کی بھارتی حکومت سے اپیل کی تھی کہ افضل گرو کی پھانسی کی سزا منسوخ کی جائے۔

اس سزا کے خلاف آواز اٹھانے والوں میں انسانی حقوق کی کارکن آرون دھتی رائے سمیت بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی سعید بھی شامل تھے۔ جن کا اب انتقال ہو چکا ہے' مگر انسانی حقوق کے علمبرداروں اور بین الاقوامی حقوق کی تنظیموں کی اپیلوں کے باوجود بھارتی حکومت نے افضل گرو کی اپیل مسترد کر دی تھی۔ انھیں 3 سال قبل تختہ دار پر چڑھا دیا گیا تھا۔

اب افضل گرو کی پھانسی کے تین سال بعد نئی دہلی میں احتجاج کو بھارت کے الیکٹرونک چینلز نے غداری قرار دیا۔ بھارت کے میڈیا نے اس واقعے کو انتہائی جنونی انداز میں پیش کیا' جب کنہیا کو عدالت میں پیش کیا گیا تو دائیں بازو کے وکلاء کے ایک گروپ نے کنہیا اور ان صحافیوں پر تشدد کیا جو عدالت کے احاطے میں موجود تھے۔

دہلی میں یونیورسٹیوں کے طلباء کے ساتھ اساتذہ بھی یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔ انھوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ کنہیا کمار کو دوسرا موقف اختیار کرنے پر غدار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دہلی یونیورسٹی میں BA کے طالب علم سونیا راٹھور نے اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے کبھی طلبا سیاست میں حصہ نہیں لیا مگر کبھی نہ سرکاری موقف کی حمایت نہیں کی، پولیس کے بدترین تشدد پر ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں کوئی شخص خاموش نہیں بیٹھ سکتا۔ سونیا راٹھور کی استاد پروفیسر اے کمار نے بتایا کہ جے یو این کے طلباء سیاسی طور پر باشعور ہیں مجھے ان کے موقف پر فخر ہے' یونیورسٹی کے اساتذہ کی انجمن نے طلباء احتجاج کی حمایت کی ہے۔

اس یونیورسٹی کے CENTRE FOR LINGUISTICS کی پروفیسر عائشہ قدوائی کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی مباحثے کا محور ہوتی ہے اور یونیورسٹی میں انحراف کا ادارہ تقویت پاتا ہے' جس میں آئیڈیاز تخلیق پاتے ہیں اور یہ آئیڈیاز ایک دوسرے سے متضاد ہوتے ہیں۔ عائشہ نے کہا کہ طاقت اور تشدد سے منحرفین کی آواز کو نہیں دبایا جا سکتا نہ آئیڈیاز کو کچلا جا سکتا ہے۔ پروفیسر عائشہ قدوائی نے بھارت کے ممتاز اخبار انڈین ایکسپریس کے نمایندے سے کہا کہ یکطرفہ گرفتاریوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے' یونیورسٹی کے اداروں کو احتساب کا موقع دیا جائے' بھارت میں دانشوروں نے کنہیا کمار کی گرفتاری اور اس پر تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔

سینٹر فار پالیسی ریسرچ کے صدر پرتاب بھائیو مہتا نے اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلباء کی گرفتاریوں سے ثابت ہوا ہے کہ حکومت اختلاف کو برداشت کرنا نہیں چاہتی' ان کا کہنا ہے کہ حکومت قوم پرستی کے نعرے کی آڑ میں CONSTITUTIONAL PATRIOTISM آئینی وطن پرستی کو دبانا چاہتی ہے' انھوں نے خبردار کیا کہ انتظامی طاقت کے بے دریغ استعمال سے ادارے تباہ ہو جائیں گے۔

بعض صحافیوں نے اپنے تجزیوں میں لکھا ہے کہ یونیورسٹی میں طلبا اور اساتذہ کے احتجاج سے محسوس ہوتا ہے کہ تعلیمی درس گاہیں ثقافتی مرکز یعنی سیکولر پسند نظریات اور دائیں بازو کے انتہا پسند ہندو کے نظریے کے درمیان جنگ کے مرکز بن رہے ہیں۔ ان صحافیوں کا کہنا ہے کہ جے یو این ہمیشہ علمی آزادی کی مضبوط روایت اور کمیونسٹ نظریات کی علمبردار رہی ہے۔

اس صورتحال کی بنا پر دائیں بازوں کے مذہبی انتہا پسندوں کو شکست کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ بعض مبصرین واقعے کو مسخ کرنے میں الیکٹرونک میڈیا کے کردار کو افسوسناک قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ افضل گرو کی برسی کی تقریب کی مسخ شدہ فوٹیج کو جان بوجھ کر ٹی وی چینل نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔

بھارتیا جنتا پارٹی کے انتہا پسند ہندوؤں کو کنہیا کمار کے خلاف کارروائی کا موقع ملا اور دہلی کے وکیلوں میں موجود مذہبی انتہا پسندوں نے کنہیا پر عدالت میں پیشی پر کنہیا اور صحافیوں پر تشدد کر کے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا۔ اس تشدد کی بنا پر یونیورسٹیوں کے طلباء بپھر گئے' جن پر پولیس نے تشدد کر کے لاقانونیت کی ایک اور مثال قائم کی' مگر اب طلباء اس صورتحال میں خوفزدہ ہونے کے باوجود احتجاج کے ایک نئے سلسلے کا آغاز کر رہے ہیں۔

تاریخ کی پروفیسر رومیلا تھاپڑ کا شمار جے این یو کے بانیوں میں ہوتا ہے' رومیلا نے اپنے ٹیوٹر اکاؤنٹ میں لکھا ہے کہ جے این یو اور جمہوریت (INSIGHT FOR PIECE) اور یہ فکری آزادی کا مرکز رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی یہ حکومت ان یونیورسٹیوں کی آزاد روش اور روشن خیالی کی روایات سے خوفزدہ ہے۔ سینئر صحافی جاوید نقوی نے لکھا ہے کہ جے یو این کے طلباء نے ہمیشہ دنیا بھرکی آزادی کی تحریکوں کی حمایت کی' جب جنرل ضیاء الحق نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو 1979ء میں پھانسی دی تھی، اُس دن یونیورسٹی کے طالب علموں نے کھانا نہیں کھایا تھا۔

بھارت کی تاریخ میں آزادی اظہار کی تاریخ بڑی واضح ہے' انڈین نیشنل کانگریس نے مہاتما گاندھی ' پنڈت جواہر لعل نہرو اور مولانا ابوالکلام آزاد جیسے اکابرین کی قیادت میں تاریخی جدوجہد کی تھی۔ آزادی کی جدوجہد میں کمیونسٹ پارٹی کے کارکنوں نے بھی تاریخی قربانیاں دی تھیں، آزادی کی اس جدوجہد میں دانشوروں' ادیبوں' شاعروں ' ٹریڈ یونین کے کارکنوں، کسانوں' خواتین اور طلباء کی تنظیموں نے اہم کردار ادا کیا۔ مہاتما گاندھی نے اپنی زندگی میں مذہب کو استعمال کیا مگر پنڈت نہرو بنیادی طور پر سوشلسٹ تھے۔

مولانا عبد الکلام آزاد ایک عالم دین ہونے کے باوجود ریاست کے سیکولر کردار کے امین تھے' یہی وجہ ہے کہ بھارت کے آئین کی تیاری کا فریضہ دلت رہنماء ڈاکٹر امبیت کر جیسے سیکولر رہنما کو سونپا گیا۔ سیکولر آئین کی بنیاد پر شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں' یہی وجہ ہے کہ مہاتما گاندھی نے پاکستان کو اثاثوں کی ادائیگی کے لیے بھوک ہڑتال کی تھی اور جنونی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے کارکن نے انھیں قتل کر دیا تھا۔

آزادی کے بعد بر سر اقتدار آنے والی حکومتوں نے کمیونسٹ پارٹی کو کمزور کرنے' مزدور اور کسان تنظیموں کو ختم کرنے کے لیے ہندو انتہا پسندوں کو چھوٹ دینے کا سلسلہ شروع کیا' جس کے نتیجے میں ہندو انتہا پسندوں کو قوت ملی۔ بال ٹھاکرے جیسے انتہا پسندوں نے مہاراشٹر میں اپنے پنجے گاڑے اور بھارت کے سب سے بڑے صنعتی شہر ممبئی کے بے تاج بادشاہ بنے۔

سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ کی مفاہمتی پالیسی کی بنا پر 90ء کی دہائی میں رتھ یاترا ہوئی۔ کانگریس حکومت بابری مسجد کو ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں سے بچانے میں ناکام رہی' واجپائی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو منظم ہونے کا موقع ملا۔ راجیوگاندھی کی موت کے بعد کانگریس پارٹی کی قیادت سونیا گاندھی کے سنبھالنے اور ڈاکٹر منموہن سنگھ حکومت کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو کھلی چھوٹ دینے' فری مارکیٹ اکانومی کو رائج کرنے اور بد ترین حکومت اور شفاف نظام کی اہمیت کو محسوس نہ کرنے کا فائدہ نریندرمودی کی قیادت میں ہندو انتہا پسندوں کو ہوا۔

بھارت کے کارپوریٹ سیکٹر کی حمایت سے اقتدار میں آنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے مفادات کھل کر سامنے آنے لگے، اگرچہ وزیر اعظم مودی شفاف نظام اور اچھی طرز حکومت کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آئے' پاکستان سے دشمنی کے نعرے کی بنیاد پر مختلف ریاستوں سے انتخابات جیتنے کی کوشش کرنے اور پھر ان انتخابات میں ناکامی کے بعد پاکستان سے دوستی کے نعروں کے ذریعے کارپوریٹ سیکٹر کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں' مگر انتہا پسند اور سیکولر قوتوں میں کشمکش بڑھ رہی ہے۔ کنہیا کمار نے منحرفین کی آوازوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر کے علمی آزادی کی روایت کو زندہ کیا ہے۔ پاکستان میں بھی انتہا پسندوں کو شکست دے کر خطے میں سیکولر قوتوں کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔