9 ہزار محکموں کے آڈٹ میں18ارب کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

تازہ آڈٹ رپورٹ میںایک ٹریلین سے زائدکے آڈٹ پیرازبناتے ہوئے 294 ارب ریکوری کی سفارش،16ادارے انکاری ہیں


INP/Numainda Express November 08, 2012
تازہ آڈٹ رپورٹ میںایک ٹریلین سے زائدکے آڈٹ پیرازبناتے ہوئے 294 ارب ریکوری کی سفارش،16ادارے انکاری ہیں. فوٹو فائل

آڈیٹر جنرل پاکستان کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو، سکیورٹیزاینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان سمیت مجموعی طور پر16 ادارے آڈٹ کرانے سے انکار کر رہے ہیں یہ ادارے آئین کی خلاف ورزی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

ڈی جی آڈٹ اور تمام فیلڈ افسران کو وفاقی و صوبائی اداروں کے خفیہ فنڈزکی جانچ پڑتال کی ہدایت کر دی گئی ہے تازہ آڈٹ رپورٹ میں ایک ٹریلین روپے سے زائد کے آڈٹ پیراز بناتے ہوئے 294 ارب روپے کی ریکوری کی سفارش کی گئی ہے گزشتہ سال سپریم کورٹ کا آڈٹ نہیں ہواتاہم رواں مالی سال کے آڈٹ شیڈول میں سپریم کورٹ کا آڈٹ بھی شامل ہے۔ انہوں نے یہ انکشاف بدھ کوچیئرپرسن نسرین جلیل کی زیرصدارت سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس کوبریفنگ دیتے ہوئے کیا،قائمہ کمیٹی نے آڈیٹر جنرل حکام کو10 کرپٹ ترین اور 10 اچھے اداروں کی فہرست پیش کرنیکی ہدایت کی۔

آئی این پی کے مطابق آڈیٹرجنرل حکام نے بتایاکہ گزشتہ مالی سال میں44 ہزارمحکموں میں سے 9 ہزار محکموں کا آڈٹ کیا گیا ہے جن میں 1.8 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہیں اور دوکھرب 94 ارب کی ریکوری ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ آئین میں تمام اداروں کو آڈٹ کرانے کا پابند بنایا گیا ہے پی اے سی 2004-05ء کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لے رہی ہے اس لئے موجودہ مالی سال کے آڈٹ اعتراضات تک پہنچنے میں وقت لگے گاہم بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہیں جبکہ پارلیمنٹ وصولیوں کے احکامات دیتی ہے آگے جو کرنا ہے وہ پارلیمنٹ نے کرناہے۔اے پی پی کے مطابق کمیٹی نے آڈیٹرجنرل کی انتظامی ومالی حیثیت کی قانون سازی کیلیے کردار ادا کرنیکا یقین دلایا،کمیٹی نے آڈیٹرجنرل پاکستان کااندرونی آڈٹ کرانیکی سفارش کی ہے،فوج و پارلیمنٹ کے حسابات کی بھی جانچ پڑتال کی گئی ہے۔ پارلیمنٹ سے احتساب میں تاخیر اہم چیلنج ہے۔