عالمی دفاعی نمائش پاکستان کی کامیابیوں کی آئینہ دار ہےجنرل وائیں

نئے خطرات بڑھ رہے ہیںہمسایہ ممالک نے پاکستان کو طوفانوں میں دھکیل دیا،ڈاکٹر ملیحہ لودھی


Business Reporter November 08, 2012
جدید فوجی نظام کیلیے خلائی ٹیکنالوجی لازمی ضرورت ہے،جنرل احسان الحق اور دیگر کا خطاب، فوٹو : پی آئی ڈی ، فائل

پورے خطے اور عالمی سطح پر سیکیورٹی کا پس منظر ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔

جسکے پاکستان پر اسٹرٹیجک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ خطے کے سیکیورٹی حالات زیادہ پیچیدہ اور بے یقینی کا شکار ہونے سے پاکستان کی دفاعی صنعت کو ایک ایسا رد عمل ظاہرکرنے پر مجبور ہونا پڑے گا جو آئندہ پیش والے چیلنجوں سے مطابقت رکھتا ہو۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائیں نے ''سیکیورٹی آؤٹ لک2025ء ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے رد عمل میں دفاعی صنعت کیلیے مستقبل کے سیکیورٹی رحجانات اور چیلنجز'' کے عنوان سے سیمینار کے موقع پر کیا۔یہ سیمینار ڈیفنس ایکسپورٹ پروموشن آرگنائزیشن(DEPO)کے تحت سینٹر برائے بین الاقوامی اسٹرٹیجک اسٹیڈیز(CISS) نے منعقد کیا تھا۔ یہ سیمینار دوسالہ دفاعی نمائشIDEAS-2012 کا ایک حصہ تھا۔ جنرل خالد شمیم نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ یہ بڑی تقریب پاکستان کو درپیش سنگین سیکیورٹی چیلنجوں کے باوجود، دفاعی صنعت کی کامیابیوں کی آئینہ دار ہے۔

امریکا سے معروف مقرر اسٹیوکول نے ''ٹیکنالوجی اور جنگ کا مستقبل'' کے موضوع پر اپنے خطاب میں کہا کہ حالیہ تبدیلیوں نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کمپیوٹرز، سٹلائیٹس، لیزرز، نینو،ہتھیار اور آئندہ نسل کی دیگر فوجی ٹیکنالوجیز وارفیئر اور عالمی طاقت کوکیا شکل دیتی ہیں۔ ان کے مطابق اس ارتقاء کا قابل ذکر پہلو یہ تھا کہ یہ کتنی تیزی سے ظہور پذیر ہورہی ہے۔ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے ''بے یقینی کا چیلنج، پاکستان کا رد عمل اور دفاعی صنعت تبدیلی کے دور میں'' کے موضوع پر اپنی پریذنٹیشن میں کہا کہ پاکستان کی جیوپولیٹیکل پوزیشن اور ہمسایہ ممالک نے ہمیں خطے کے بہت سے طوفانوں میں دھکیل دیا ہے، انھوں نے کہا کہ خطے کی تبدیلیاں خطے کی سیکیورٹی کے بارے میں ہماری بے چینی کو نمایاں کرتی ہیں اور اس پس منظر میں دفاعی صنعت کی سمت اور ارتقاکا تعین کرنا ہوگا۔

چین سے تعلق رکھنے والے ساؤتھ ایشیا اسٹیڈیز کے چیف ایڈیٹر یے حائیلن نے '' 2025 آؤٹ لک مستقبل کی فوجی ٹیکنالوجی اور اس کے اطلاق کے لیے دہرے استعمال کی خلائی ٹیکنالوجی'' کے عنوان پر اپنے خطاب میں خلا پر مبنی استعداد پر روشنی ڈالی اور بیان کیا کہ جدید فوجی نظاموں کے لیے خلائی ٹیکنالوجی اور خلائی اثاثہ جات لازم ہیں۔ ترکش ایرواسپیس انڈسڑی (TAI)کے چیف ایگزیکٹوآفیسر محرم ڈورٹ کسلی نے ''مستقبل کے چیلنجز اور دفاعی اور ایرو اسپیس صنعتوں کیلیے نظریاتی تبدیلی'' کے عنوان پر اپنی پریزنٹیشن دیتے ہوئے کہا کہ نئے خطرات بڑھ رہے ہیں، جو آزادی کے تحفظ کے لیے مستقل ذہنی کیفیت اور عادات کو چیلنج کریں گے۔ اپنے اختتامی کلمات میںپریذائیڈنگ آفیسر جنرل (ر) احسان الحق نے کہا کہ ٹیکنالوجیکل تبدیلی کی تیز رفتاری سے تحفظ اور خطرے کے بارے میں ہماری تشویش کا خاتمہ ہوگا اورنمایاں طور پر نئی ٹیکنالوجیز کی تشکیل کی امید کی جائے۔ قبل ازیں، ڈائریکٹر جنرل DEPOمیجر جنرل طاہر اشرف خان نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ تبدیل شدہ سیکیورٹی کا ماحول،خصوصاً ناموزوں وار فیر کا خطرہ، مسلح افواج کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔