گرمی کی آمد … حکومت ٹھوس اقدامات کرے

دنیاموسمیاتی تبدیلیوں سےدوچار ہےارباب اختیارکےلیےاہم ترین سوال آنے والی گرمیاں ہیں جس دن سورج سوا نیزے پر آجائے گا


Editorial March 02, 2016
، 15سو سے زائد ہلاکتوں اور سیلابی ریلوں سے ہونے والے تباہ کاریون کا سدباب اب ناگزیر ہے فوٹو:فائل

SWAT: قدرت نے اپنی تمام مخلوق کے لے موسم تو چار بنائے، اس عمل میں جہاں تخلیق اور ندرت کا عنصر نمایاں ہے، وہی خالق کائنات کی عظمت کی بڑائی بھی شامل ہے، بنی نوع انسان نے جب صدیوں کا سفر کرکے ترقی کی منازل طے کیں تو وہ سائنس وٹیکنالوجی کی بدولت آنے والے گرمی، بارش اور سمندری طوفان کے بارے میں جان کر اس سے بچاؤ کی تدابیر اور احتیاط اختیارکرنے لگا،گزشتہ روزمحکمہ موسمیات نے رواںہفتے میں بلوچستان کے اکثرمقامات سمیت اسلام آباد، خیبرپختونخواہ، فاٹا، پنجاب، گلگت بلتستان اورکشمیرمیں گرج چمک کے تیز بارش اورتیزہوائیں چلنے اور چند مقامات پر ژالہ باری کا بھی امکان ظاہرکیا ہے۔

بارش ہونا، تیزہوائیں چلنا یا ژالہ باری ہونا قدرتی عمل ہے، لیکن ماہرین کی طرف ملک بھر میں شدید گرمی کی پیشگوئی جس شدت سے کی جارہی ہے اس حوالہ سے ضروری ہے کہ سرکاری محکموں کے اہلکار غفلت کے چلن کو ترک کر کے عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کریں، سال رفتہ کراچی سمیت دیگر صوبوں میں موسم کے گرم ترین دن ہلاکتوں میں اضافہ کا سبب بنتے رہے، 15سو سے زائد ہلاکتوں اور سیلابی ریلوں سے ہونے والے تباہ کاریون کا سدباب اب ناگزیر ہے۔ دنیاموسمیاتی تبدیلیوں سے دوچار ہے، ارباب اختیار کے لیے اہم ترین سوال آنے والی گرمیاں ہیں جس دن سورج سوا نیزے پر آجائے گا، اس وقت موسمی حملے کا جواب بہتر منصوبہ بندی سے دینا وفاقی اورصوبائی حکومتوں پر فرض ہے تاکہ عوام کا نقصان کم سے کم ہو، اور قیامت خیزگرمی سے بچاؤ بھی ممکن ہو۔