فقیر بادشاہ
دلی شہر کی گرم سنہری دھوپ سڑکوں، بازاروں اور انسانوں کو پسینے میں شرابور کررہی ہے
دلی شہر کی گرم سنہری دھوپ سڑکوں، بازاروں اور انسانوں کو پسینے میں شرابور کررہی ہے۔ ہم گاڑیوں کے خنک موسم میں سانس لیتے ہوئے پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کے گھر پہنچتے ہیں جو ان کی بیگم کے سلیقے کا گواہ ہے۔ عبدالباسط ہماری اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس کی تعلیم و ترقی کے لیے مہنگے انگریزی اسکولوں میں پڑھنا شرط نہ تھا۔ چند دنوں پہلے وزیراعظم نے اسلام آباد کے جس سرکاری اسکول کا ازسرِ نوتزئین و آرائش کے بعد افتتاح کیا ہے، باسط صاحب نے بھی وہیں سے تعلیم حاصل کی تھی۔
اس روز ظہرانہ ان پاکستانی ادیبوں اور فنکاروں کے اعزاز میں تھا جو سنجیو صراف کی ادبی تنظیم ریختہ فاؤنڈیشن کے جشن میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ شمیم حنفی، سنجیو صراف اور چند دوسرے ہندوستانی وہاں پہلے سے موجود تھے۔ باتوں باتوں میں کسی نے جاوید صدیقی کا نام لیا، میں نے مڑ کر ان صاحب کو دیکھا جن کا اعلیٰ تراش کا سوٹ، سلیقے سے جمے ہوئے بال اور نفاست سے ترشی ہوئی مونچھیں انھیں بیورو کریٹ کے خانے میں رکھ رہی تھیں، اس کے باوجود میں نے بے ساختہ کہا 'خاکے والے جاوید صدیقی'۔
وہ دھیرے سے مسکرائے اور دھیمی آواز میں اقرار کیا کہ ہاں وہ خاکے والے جاوید صدیقی ہیں۔ ان کے خاکے ادبی دنیا میں بہت دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں، حالانکہ فلم اور تھیٹر ان کا اس سے کہیں اہم حوالہ ہے۔ میں نے یوں تو ان کے سب ہی خاکے پڑھے تھے لیکن چند دنوں پہلے ان کا وہ خاکہ نظر سے گزرا تھا جو انھوں نے بین الاقوامی شہرت یافتہ ہندوستان مصور ایم ایف حسین کے بارے میں لکھا تھا۔
مقبول فدا حسین جو زمانے میں ایم ایف حسین کے نام سے مشہور ہوئے ان کے نیاز کراچی میں اس وقت حاصل ہوئے جب و ہ بصیر اشرف کے گھر آئے ہوئے تھے اور اپنی فقیرانہ بے نیازی کے ساتھ ان کے باورچی سے محوکلام تھے۔ مجھے یقین نہیں آیا کہ یہ وہی حسین ہیں جن کے اسکیچ اور پینٹنگز لاکھوں کروڑوں میں بکتی ہیں۔ ملگجا کرتا، اس سے بھی کہیں زیادہ شکنوں والا پاجامہ، شانے پر ایک تھیلا، بصیرنے دھیمی آواز میں مجھے بتایا موصوف کے اس تھیلے میں کئی لاکھ روپوں کے نوٹ ہیں جو کچھ دیر پہلے ان کا ایک فدائی انھیں نذرکر کے گیا ہے۔ میں نے ان کے پیروں پر نظر کی جن میں چپل یا جوتے نہیں تھے۔ ان کے بارے میں سنی ہوئی گئی کہانیاں یاد آگئیں ۔
جاوید صدیقی نے چائے سے ان کے شغف کے بارے میں لکھا ہے کہ ''جب وہ ان کے دفتر آئے اور ٹرے میں انھیں بہترین ٹی سیٹ میں تمام لوازمات کے ساتھ چائے پیش کی گئی تو انھوں نے ایسا منہ بنایا جیسے چھپکلی نظر آگئی ہو۔ آفس بوائے سے پوچھا کہ پتی کون سی ہے۔ اس نے 'تاج محل' کا نام لیا۔ جاوید صدیقی پھر بتاتے ہیں کہ کس طرح انھوں نے چائے بنانی شروع کی۔ لکھتے ہیں: ''چائے کو اتنا ابالا کہ بے چاری پتیوں کا دم ہی نکل گیا۔ پھر اس میں دودھ اور شکر ڈال کے اس وقت تک کھولاتے رہے جب تک وہ برتن سے باہر نہ نکلنے لگی۔ مگر حسین صاحب نے معاف نہیں کیا۔ جب چائے کا رنگ کسی ساؤتھ انڈین حسینہ کے گالوں جیسا یعنی سرخ مائل سانولا ہوگیا تو بڑی احتیاط سے ایک گلاس میں چھانا اور فرمایا: ''اسے کہتے ہیں چائے!'' میں اور راجیش حیرت سے انھیں دیکھ رہے تھے اور وہ گلاس اس طرح لیے کھڑے تھے جیسے وہ چائے کا گلاس نہ ہو آسکر ایوارڈ ہو۔
حسین صاحب کی چائے کی چاہت کے درجنوں قصے مشہور ہیں جنھیں سن کر مولانا آزاد کی غبارِ خاطر والی چائے کچھ پھیکی لگنے لگتی ہے۔ ورلی کا فیئر ڈیل، بوری بندر کا نیو امپائر، کولابا کا بغدادی اور بھنڈی بازار کا کیفے نظاری کی کرسیاں اور پرانے ویٹر آج بھی گواہی دے سکتے ہیں کہ حسین نے وہاں کتنے ہزار کپ اپنی پسندیدہ چائے کے کپ خالی کیے ہیں جسے ایرانی ہوٹلوں کی اصطلاح میں ''کٹنگ چائے'' کہا جاتا ہے۔ ان تمام ہوٹلوں میں ان کی ٹیبل اور کرسی مخصوص تھی بلکہ ویٹر بھی خاص ہی ہوتا تھا جو ان کے مزاج اور پسند کو سمجھتا تھا۔
فیئر ڈیل کے حمید بھائی ان کے پسندیدہ ویٹروں میں سے ایک تھے۔ وہ جب بھی پہنچتے حمید بھائی کی بانچھیں کھل جاتیں۔ وہ چائے پلاتا رہتا اور حسین ساحب اس سے دنیا بھر کی باتیں کرتے رہتے۔ چائے پیتے وقت عام طور پر ایک پاؤں کرسی کے اوپر رکھ لیا کرتے تھے اور چائے کو طشتری میں ڈال کر چسکیاں لیتے تھے۔ وہ کہتے تھے چائے پینے کا صحیح طریقہ یہی ہے۔ حمید کا کہنا ہے کہ حسین کا آنا عید کے آنے کی طرح ہوتا تھا۔ کیوں کہ جب وہ آتے تو حمید کو پانچ سو اور باقی سب کو سوسو روپے ملتے۔ ان میں ٹیبل صاف کرنے والا لڑکا بھی شامل ہوتا تھا۔
یہ سب کچھ سننے اور پڑھنے میں بڑا عجیب سا لگتا ہے کہ ایک ایسا شخص جس کی ایک ایک تصویر لاکھوں روپے میں فروخت ہوتی ہو، سڑک پر کھڑے ہوکر بھٹے کھا رہا ہے یا کسی گندے سے ہوٹل میں کرسی پر اکڑوں بیٹھ کر چائے پی رہا ہے۔ مگر جاننے والوں کے لیے یہ باتیں عجیب نہیں ہیں۔ ان تمام چیزوں سے حسین کا بہت پرانا اور گہرا رشتہ تھا۔ اس زمانے کا جب ایک مفلس حسین فاکلینڈ روڈ کی ایک گندی گلی میں الفریڈ ٹاکیز کے لیے فلموں کے بینر بنایا کرتا تھا اور اسے چار آنے اسکوائر فٹ کے حساب سے مزدوری ملا کرتی تھی۔
حسین صاحب نے بتایا تھا کہ وہ سترہ برس کی عمر میں بمبئی آئے تھے کیوں کہ باپ کے پاس کوئی کام نہیں تھا اور آمدنی کا کوئی سہارا بھی نہیں تھا، خود حسین کو بھی کوئی کام نہیں آتا تھا سوائے پینٹنگ کرنے کے۔ ان کا ارادہ تو یہ تھا کہ اگر کوئی اور کام نہ بھی ملا تو گھروں میں رنگ و روغن کرکے پیسے کما لیں گے۔ کام کی تلاش میں گھوم رہے تھے کہ فاک لینڈ روڈ کی گلی میں ایک آدمی پر نظر پڑی جو زمین پر کپڑا بچھائے ہوئے تصویر بنانے کی کوشش کررہا تھا، یہ کسی فلم کی ہورڈنگ تھی۔ حسین بہت دیر تک دیکھتے رہے پھر آدمی کے پاس جاکے بولے مجھے بھی کوئی کام دیجیے۔ اس آدمی نے اس دبلے پتلے لمبے لڑکے کو سر سے پاؤں تک دیکھا اور پوچھا:
''کیا کرنا آتا ہے؟''
'' حسین نے کہا کچھ تصویریں بنالیتا ہوں!''
اس آدمی نے برش حسین کے ہاتھ میں دیا اور کہا: ''بناؤ!''۔
حسین نے ہورڈنگز Hoardings بنانی شروع کردیں اور وہیں ڈیرا جما دیا۔ رات کو فٹ پاتھ پر سویا کرتے تھے اور صبح کو ناشتہ کرنے کے لیے ''حسینی کھچڑی والا'' کی دکان پر چلے جایا کرتے تھے جو پانچ پیسے میں ایک پلیٹ کھچڑی بیچتا تھا اور دال مفت مل جاتی تھی۔ مزیدار بات یہ کہ حسینی، حسین پر مہران بھی بہت تھا اور مہینوں ادھار کھلاتا رہتا تھا۔ میں سوچتا ہوں تو کبھی کبھی لگتا ہے کہ حسین ایک نہیں دو تھے۔ ایک وہ حسین جس کا فن وقت سے ایک قدم آگے چلتا تھا اور دوسرا وہ حسین جو الفریڈ ٹاکیز کی گلی سے کبھی باہر نہیں آیا۔ ہمیشہ وہیں رہا۔ اپنی فقیری میں خوش، اپنی غریبی پر نازاں۔
مادھوری ڈکشٹ پر فدا ہوجانے والے فدا حسین کا قصہ جاوید لکھتے ہیں کہ: ''لبرٹی سینما میں فلم ''ہم آپ کے ہیں کون؟'' دیکھنے کے لیے گئے تھے۔ باہر نکلے تو مادھوری ڈکشٹ کی محبت میں دونوں جہان ہار چکے تھے۔ یہ فلم چار پانچ سال تک لگاتار چلتی رہی اور حسین صاحب لگاتار دیکھتے رہے۔ خود حسین کو بھی یاد نہیں کہ انھوں نے کتنے شوز دیکھے۔ وہ بتاتے تھے کہ جب تک فلم چلی لبرٹی کے ہر شو میں ایک سیٹ ان کے لیے ریزرو رہی اور انھیں جب بھی موقع ملتا تھا جاکر بیٹھ جایا کرتے تھے۔ صرف ایک انٹرویو میں جو علی کو دیا گیا تھا انھوں نے اپنے اور مادھوری کے تعلق پر بات کی تھی۔ انھوں نے کہا تھا: ''میں نے مادھوری ڈکشٹ کی شکل میں پہلی بار ایک مکمل عورت کو دیکھا، ایک مکمل ہندوستانی عورت جو ایک ہی وقت میں ٹریڈیشنل بھی اور ماڈرن بھی ہے۔ مجھے اس میں عورت کا ہر روپ دکھائی دیا۔ مجھے اس میں اپنی ماں بھی دکھائی دی جو مجھے ڈیڑھ برس کا چھوڑ کے چلی گئی تھی۔'' حسین کا مادھوری سے کیا رشتہ تھا یہ سمجھانا بہت مشکل ہے۔
جاوید لکھتے ہیں کہ: حسین کو اپنے ہندوستان سے جنون کی حدتک عشق تھا۔ انھیں اپنے ملک کی ہر ادا اچھی لگتی تھی۔ یہاں کے لوگ، بولیاں، کپڑے، میوزک، عمارتیں، ریگستان، رنگ بدلتی ہوئی مٹی۔ اور احمد آباد میں ہندوستان کے اسی عاشقِ صادق کا میوزیم جلایا گیا، گھر پر پتھراؤ ہوا، قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔یہاں تک کہ ہندوستان کے عاشقِ صادق نے ہندوستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور وہ وہاں سے چلا گیا، پھر کبھی نہ آنے کے لیے۔
حسین کے ذکر کے ساتھ انصاف نہ ہوسکے گا، اگر میں ان کی خودنوشت کا ذکر نہ کروں جس کا نام ہے 'حسین کی کہانی اپنی زبانی'۔ یہ احمد مقصود حمیدی کے زیر اہتمام شایع ہوئی تھی۔ اب نہ حسین ہیں اور نہ احمد مقصود، میری کتابوں کے ڈھیر میں یہ چھپی رہی، اب ملی ہے تو آپ سے وعدہ رہا کہ اس سے بھی آپ کو جستہ جستہ ان کی زندگی کی جھلک دکھاؤں گی لیکن ابھی تو جاوید صدیقی کو بہت سلام کہ انھوں نے 'فقیر بادشاہ' لکھ کر حسین سے محبت کا حق ادا کردیا۔