سیاسی جماعتیں اور اندرونی جمہوریت
انسانی معاشرے کے ارتقا کے مطالعے سے سبق ملتا ہے کہ انسانوں نے اپنے تحفظ کے لیے مختلف ادارے قائم کیے
مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اندرون جمہوریت کے اعتبار سے کمزور جماعتیں ہیں، اس تناظر میں جماعت اسلامی پہلے نمبر اور نیشنل پارٹی دوسرے نمبر پر ہے، جمہوری اداروں کی ترقی کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم (NGO) پلڈاپ کی سیاسی جماعتوں کی ایک سال کی کارکردگی کی بنیاد پر تیار کی جانے والی رپورٹ میں سیاسی جماعتوں کی اندرونی جمہوریت کے حوالے سے جو درجہ بندی کی ہے اس کے مطابق مسلم لیگ ن سب سے کم جمہوریت کے درجے پر آئی ہے، اس درجہ بندی میں جماعت اسلامی کا پہلا، نیشنل پارٹی کا دوسرا، تحریک انصاف کا تیسرا، عوامی نیشنل پارٹی کا چوتھا، پیپلز پارٹی کا پانچواں، ایم کیو ایم اور جے یو آئی چھٹے اور مسلم لیگ ن ساتویں نمبر پر آئی ہے۔
اس رپورٹ کو مرتب کرنے والوں میں پاکستان اسٹڈی سینٹر کے ڈاکٹر جعفر احمد اور صحافی غازی صلاح الدین، مجیب الرحمن شامی اور تنظیم کے سربراہ احمد بلال محبوب شامل تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں سیاسی جماعتوں کی صورتحال میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی، مگر حاصل بزنجو کی قیادت میں نیشنل پارٹی کی اندرون جمہوریت کا کلچر مضبوط ہوا، 2014 میں یہ جماعت چوتھے نمبر پر تھی، مگر اب یہ دوسرے نمبر پر آگئی۔ پلڈاپ نے سیاسی جماعتوں کے سالانہ انتخابات، سالانہ کنونشن، موروثی قیادت کی صورتحال مرکزی اور صوبائی کمیٹیوں کے اجلاس اور اراکین اختلاف رائے کے کلچر کی بنیاد پر یہ رپورٹ تیار کی ہے۔
انسانی معاشرے کے ارتقا کے مطالعے سے سبق ملتا ہے کہ انسانوں نے اپنے تحفظ کے لیے مختلف ادارے قائم کیے، یہ ادارے خاندان سے شروع ہوتے ہیں اور ان کا اختتام ریاست پر جا کر ہوتا ہے، پھر دنیا میں امن، ترقی اور تحفظ کے لیے بین الاقوامی ادارے قائم ہوئے، مگر ریاست سب سے مضبوط ادارہ ہے، جس کے قیام کا بنیادی مقصد شہریوں کو تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کرتا ہے۔
انسانی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ ہزاروں برس تک ریاست جبر کا سب سے بڑا ادارہ رہا ہے، انسانوں میں اجتماعیت کا شعور پیدا ہوا، فلسفیوں نے اجتماعی جدوجہد کی اہمیت اور ریاست کی ہیئت ترکیبی کو تبدیل کرکے فلاحی تصور سے منسلک کرنے کے بارے میں نظریات پیش کیے، یونانی فلسفیوں نے جمہوریت کا تصور دیا، جب یورپ میں صنعتی انقلاب آیا تو معاشرے کی ساکھ تبدیل ہوگئی، گاؤں شہروں میں تبدیل ہوئے، نئے شہر آباد ہونے لگے، کسانوں نے اپنا آبائی پیشہ چھوڑ کر شہروں کی طرف ہجرت کی اور کارخانوں میں ملازمت کا تصور عام ہوا۔
اس صورتحال میں مزدور طبقہ پیدا ہوا، اس کے ساتھ متوسط طبقے کا وجود بھی سامنے آیا۔ عظیم دانشور کارل مارکس نے اپنی کتاب سرمایہ میں مزدور طبقے کو استحصال سے پاک تبدیلی کے لیے ہر اول دستہ قرار دیا۔ جمہوری معاشرے کے تصورکے ساتھ تنظیم سازی کا تصور آیا، سیاسی جماعتیں، مزدور، کسان تنظیمیں، وکلاء، دانشوروں اور صحافیوں کی تنظیمیں قائم ہونے لگیں۔ لوگوں نے ریاست کے معاملات میں تبدیلی کے لیے سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کا طریقہ سیکھا۔ برطانیہ میں سب سے پہلے سیاسی جماعت قائم ہوئی، اور ان سیاسی جماعتوں کا مطمع نظر ریاست پر عوام کی بالادستی قرار پایا۔
13ویں صدی میں برطانیہ میں بادشاہ چرچ اور سیاسی جماعتوں کے درمیان کشمکش عروج پر پہنچی، پھر بادشاہ کو شکست ہوئی اور تاریخی میگنا کارٹا معاہدہ ہوا۔ پارلیمنٹ کی ریاست پر بالادستی قائم ہوئی، برطانیہ اور یورپ میں سیاسی جماعتوں نے جدوجہد کرکے ریاست کے فلاحی کردار اور عوام کے حکمرانوں کو منتخب کرنے، ان کا احتساب کرنے کا حق دیا۔ انتخابات کا ادارہ مضبوط ہوا۔ جمہوری نظام کے ذریعے اقتدار کی پرامن منتقلی نے ریاست پر عوام کی بالادستی قائم کی۔ یورپ کی طرح امریکا میں سیاسی جماعتوں نے غلامی کے ادارے کے خاتمے اور جمہوری ریاست کے قیام کے لیے تاریخی جدوجہد کی۔
ایسٹ انڈیا کمپنی نے 16 ویں صدی میں ہندوستان میں اپنا دفتر قائم کیا، پھر 1757 میں لارڈ کلایو نے پلاسی کی جنگ میں سراج الدولہ کو شکست دے کر کمپنی کے ہندوستان پر اقتدار کی راہ ہموار کی۔ 100 سال بعد 1857میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کے بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو جنگ آزادی میں شکست دے کر اپنا اقتدار ہندوستان میں مستحکم کیا۔ کمپنی کے دور میں ریل کی پٹری بچھانے، بجلی آنے، تعلیمی انتظامی ڈھانچے اور جدید تعلیمی نظام کا نفاذ ہوا۔
ہندوستانی معاشرے میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہونے لگیں، متوسط طبقہ وجود میں آیا، اور صنعتی مزدوروں کی آبادی بڑھنے لگی۔ یہی وجہ تھی کہ تعلیم یافتہ متوسط طبقے میں اجتماعیت کا شعور پیدا ہوا۔ ایک انگریز نے پہلی سیاسی جماعت کانگریس قائم کی، پھر مسلم لیگ، کمیونسٹ پارٹی اور دوسری جماعتیں وجود میں آئیں، اسی کے ساتھ مزدور، کسان تنظیمیں، ادیبوں، دانشوروں کی انجمنیں وجود میں آئیں۔ کانگریس نے ہندوستان کی آزادی کے لیے تاریخی جدوجہد کی۔ کمیونسٹ پارٹی نے ہندوستان کی آزادی کے ساتھ بین الاقوامی استعماریت اور استحصال کے خلاف شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مسلم لیگ کی کوششوں سے ہندوستان ٹوٹ گیا اور نیا وطن پاکستان وجود میں آیا۔ محمد علی جناح جنھوں نے جمہوری روایات کی پاسداری کی، مسلم لیگ کے آئین کے مطابق انتخابات اور سالانہ کنونشن کے انعقاد کو یقینی بنایا۔ مسلم لیگ کے ایک کنونشن میں مولانا حسرت موہانی نے جناح پر تنقید کے لیے بات کرنے کی کوشش کی تو منتظمین نے انھیں بولنے نہیں دیا، مگر اس اجلاس کے صدر اور مسلم لیگ کے سربراہ محمد علی جناح نے مولانا حسرت موہانی کو اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت دی، اور رضاکاروں کو خاموش رہنے کی ہدایت کی گئی۔
پاکستان کے قیام کے بعد فوجی حکومتوں کے مسلسل اقتدار کی بنا پر سیاسی جماعتوں میں جمہوری کلچر کے ارتقا کو نقصان پہنچا، مگر ایوب خان کے دور میں عوامی لیگ، نیشنل عوامی پارٹی، مسلم لیگ کونسل، جماعت اسلامی وغیرہ نے تاریخی جدوجہد کی۔ جنرل یحییٰ خان کے دور میں عوامی لیگ، نیشنل عوامی پارٹی، کمیونسٹ پارٹی، جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف کمیونسٹ پارٹیوں، نیشنل پارٹی، پاکستان ڈیمو کریٹک پارٹی، مزدور کسان پارٹی، محاذ آزادی وغیرہ کے کارکنوں نے عظیم قربانیاں دیں۔
مختلف سیاسی جماعتوں کے اتحاد ایم آر ڈی کی تاریخی جدوجہد کی بنا پر جنرل ضیاء الحق غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرانے پر مجبور ہوئے اور منتخب اسمبلی نے مارشل لاء ختم کرکے 1973 کا آئین بحال کیا۔ غیر جماعتی بنیاد پر ہونے والے انتخابات کی بنا پر قومی اسمبلی وجود میں آئی۔ قومی اسمبلی نے محمد خاں جونیجو کو قائد ایوان منتخب کیا، جونیجو نے سب سے پہلے سیاسی جماعتوں کو بحال کیا اور پھر مارشل لاء ختم کرنے کا اعلان کیا۔
جنرل پرویز مشرف کے خلاف پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ ن، نیشنل پارٹی، پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی وغیرہ نے جدوجہد کی۔ اس جدوجہد کے دوران محترمہ بینظیر بھٹو شہید ہوئیں، مگر سیاسی جماعتیں اپنی جدوجہد کے باوجود اپنے اندر جمہوری کلچر کو پروان نہیں چڑھا پائیں۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، ایم کیو ایم وغیرہ شخصیت پرستی کا محور بن گئیں۔ ان جماعتوں میں اندرونی جمہوریت نہ ہونے کی بنا پر کرپشن نے ادارے کی شکل اختیار کرلی۔
گزشتہ 15 سال کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو جماعت اسلامی، نیشنل پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، تحریک انصاف وغیرہ میں پارٹی کے اندر باقاعدہ انتخابات کرانے کی روایت ہے۔ جماعت اسلامی ایک بند ڈھانچے والی جماعت ہے، گزشتہ صدی کے اخبارات میں جماعت اسلامی کے ہونے والے انتخابات کا ذکر نہیں ملتا، گزشتہ چند سال میں جماعت کے امیر کے عہدے کے امیدواروں کے ناموں کو عام کردیا جاتا ہے، جماعت اسلامی کے گزشتہ انتخابات میں امیر منور حسن کی شکست اور سراج الحق کی کامیابی سے جماعت کے جمہوری نظام کی مضبوطی کا اظہار ہوتا ہے۔
نیشنل پارٹی بنیادی طور پر نیشنل عوامی پارٹی کا حصہ ہے، نیپ میں جمہوری روایت بہت مستحکم تھی، نیشنل پارٹی میں جمہوری روایت مستحکم ہے، اس روایت کو مستحکم کرنے میں پارٹی کے پنجاب کے صدر ایوب ملک اور دوسرے کارکنوں کا بنیادی حصہ ہے، جنھوں نے سب سے پہلے اپنی وحدت کے انتخابات شفاف طریقے سے کرائے۔ تحریک انصاف کے پارٹی انتخابات میں عوام کی اکثریت نے حصہ لیا تھا، مگر جسٹس وجیہہ الدین پر مشتمل انتخابی ٹریبونل سے ان انتخابات کو مسترد کردیا، عمران خان نے اس فیصلے کو مان کر جمہوری روایات کی پاسداری کی تھی۔
یہ امید کی جاتی ہے تحریک انصاف مستقبل میں اپنے اندرونی انتخابات کراکر ایک جدید پارٹی بن جائے گی۔ سب سے مایوس کن صورتحال مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی ہے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت نے پارٹی کو جمہوری بنانے پر توجہ نہیں دی، مسلم لیگ ن اپنے ڈھانچے کی بنیاد پر جدید جماعت میں تبدیل نہیں ہوسکی ہے، ایسی صورتحال پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی ہے، جہاں زرداری خاندان کی آمریت اور سیاسی کلچر ختم ہونے کی بنا پر پیپلز پارٹی سکڑ رہی ہے، جمہوری نظام کے استحکام کے لیے سیاسی جماعتوں کا وجود لازمی ہے۔
سیاسی جماعتیں جمہوری ڈھانچہ قائم کرکے جدید جماعتوں میں تبدیل ہوسکتی ہے، اسی طرح سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کو آئین کی بالادستی پر مجبور کرسکتی ہیں۔ دوسری صورت میں شخصیت پرستی، اندرونی جمہوریت کا کلچر پروان نہ چڑھانے والی اور ریاست کے معاملات کو غیر شفاف طریقے سے حل کرنے والی سیاسی جماعتیں ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی آمریت کو قبول کرنے پر مجبور ہوں گی۔