کالی بھیڑیں
1947ء میں تقسیم کے دوران برصغیر میں تاریخ کا جو بدترین قتل عام ہوا وہ برصغیر کے روشن چہرے کا کوڑھ بن گیا۔
1947ء میں تقسیم کے دوران برصغیر میں تاریخ کا جو بدترین قتل عام ہوا وہ برصغیر کے روشن چہرے کا کوڑھ بن گیا۔ تقسیم ہند کے بعد دونوں ملکوں میں مذہبی سیاست فروغ پاتی رہی اور آہستہ آہستہ یہ سیاست پھلتی پھولتی گئی، اس سیاست نے بتدریج انتہا پسندی کی طرف جو سفر شروع کیا وہ اب نفرتوں کے اس اندھے مقام پر پہنچ گیا ہے، جہاں دوست دشمن اپنے پرائے کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔ یہ وبا پاکستان اور افغانستان سے نکل کر ساری دنیا میں پھیل رہی ہے۔
ممبئی حملوں کے بعد پٹھان کوٹ حملہ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ہو سکتا ہے پٹھان کوٹ حملے کے کرداروں کا تعلق پاکستان کے کسی علاقے سے ہو لیکن جب یہ بات تسلیم شدہ ہو کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا نہ کوئی دین دھرم ہوتا ہے نہ ملک و ملت تو پھر اس حوالے سے ملک دشمنیوں کو ہوا دینا اور اس قسم کی دہشت گردانہ کارروائیوں کو امن مذاکرات کی راہ کا پتھر بنانا نہ ملک دوستی ہے نہ عوام دوستی۔
قیام پاکستان کے بعد ہی سے کشمیر کے ''ولایت اسپانسر'' مسئلے پر دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی نفرتوں اور جنگوں کا سلسلہ جاری ہے، اس کی وجہ دونوں ملک اپنے وسائل کا ایک بہت بڑا حصہ جسے عوام کی بہتری کے لیے استعمال ہونا چاہیے تھا، وہ دفاع کے نام پر ضایع کیا جا رہا ہے، اس نفسیات نے دونوں ملکوں کی مذہبی قوتوں کو مستحکم اور طاقتور بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان میں مذہبی انتہا پسند طاقتیں مضبوط ہو رہی ہیں تو جواباً ہندوستان میں بھی مذہبی انتہا پسندی مضبوط ہو رہی ہے اور ان طاقتوں کی کوشش یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان نفرتوں کی خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی جائے۔
ان منفی کوششوں میں میڈیا اور فلم انڈسٹری بھی ملوث ہے۔ الیکٹرانک میڈیا اور فلمی صنعت عوام میں منفی اور مثبت فکر پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں ماضی میں فلم انڈسٹری نے دونوں ملکوں کے عوام میں محبت اور بھائی چارہ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور عوام کے ذہنوں سے نفرتوں کو دھونے کی بھرپور کوششیں کیں لیکن اس میڈیا میں موجود کالی بھیڑوں کی یہ کوشش رہی کہ مذہبی تفاوت کو مذہبی نفرتوں میں بدلا جائے۔پچھلے دنوں ایل سی ڈی پر بھارت میں بنی ایک ڈاکومنٹری ٹائپ کی فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا جس کا موضوع ''ممبئی حملے'' تھا ، اس فلم میں اجمل قصاب اور اس کے ساتھیوں کو ایک بوٹ میں ممبئی جاتے دکھایا گیا ہے۔
ممبئی کے ساحل کے قریب دہشت گردوں کا یہ گروہ ایک بھارتی چھوٹے جہاز پر قبضہ کر لیتا ہے اور اس کے کارکنوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان دہشت گردوں کو ممبئی پہنچا دیں۔ اس بھارتی جہاز کے کارکنوں کو قتل کر دیا جاتا ہے اس کے بعد یہ دہشت گرد گروہ ممبئی پہنچنے کے بعد ممبئی کی مختلف عمارتوں میں جن میں مشہور ہوٹل، دفاتر وغیرہ شامل ہوتے ہیں پہنچ کر وہاں موجود مردوں، عورتوں، بچوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کر دیتا ہے، اس فلم کے تمام کردار جن میں اجمل قصاب بھی شامل ہوتا ہے بھارتی ہوتے ہیں، یہ بھارتی اداکار دہشت گردوں کا کردار اس خوبی سے ادا کرتے ہیں کہ پوری فلم حقیقت پر مبنی دکھائی دیتی ہے۔
اس فلم میں دہشت گردوں کی سفاکیت کو اس قدر حقیقی رنگ میں بھارتی اداکار پیش کرتے ہیں کہ ان پر بھی حقیقت کا گمان ہوتا ہے۔ دہشت گردوں کا کردار اس قدر سفاکانہ دکھایا جاتا ہے کہ دیکھنے والوں کو ان کرداروں کی سفاکی سے نفرت ہونے لگتی ہے، ہوٹل وغیرہ کے مقامات پر مردوں، عورتوں اور بچوں کو اس سفاکی سے قتل کرتے دکھایا جاتا ہے کہ دیکھنے والے ان دہشت گردوں سے اپنی نفرت چھپا نہیں سکتے۔ یہ حال ہم جیسے ناظرین کا ہوتا ہے جو ممبئی سے ہزاروں میل دور کراچی میں بیٹھ کر یہ فلم دیکھ رہے ہوتے ہیں تو پھر ممبئی میں اس دہشت گردی کو بہ چشم خود دیکھنے والوں کا کیا ردعمل ہوتا ہو گا ۔
اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، یہ فلم بھارت کے شہروں میں بھی دکھائی جا رہی ہو گی اور وہاں یہ فلم ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے عوام بھی دیکھ رہے ہوں گے۔ یہ سفاکانہ قتل و غارت کی فلم دیکھ کر ہندو برادری کے جذبات کس قدر مشتعل ہوئے ہوں گے اس کا اندازہ بھی مشکل نہیں۔ ہو سکتا ہے اس فلم میں ممبئی قتل و غارت کی درست عکاسی کی گئی ہو لیکن اس قسم کی فلم دیکھنے والوں میں مذہبی منافرت کا گراف کس قدر اونچا جا سکتا ہے اس کا اندازہ مشکل نہیں۔
ممبئی حملوں میں جو دہشت گرد ملوث تھے، ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے لیکن ان کے مظالم دیکھ کر ہندو برادری کے ذہنوں میں پاکستانیوں اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کے جو جذبات پیدا ہو سکتے ہیں کیا وہ دونوں ملکوں کے عوام کے مفاد میں ہوں گے۔ یہی وہ سوال ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
1947ء میں تقسیم ہند کے دوران جو سفاکانہ قتل عام ہوا جس میں ایک اندازے کے مطابق 22 لاکھ انسان بے دردی سے قتل کر دیے گئے جن میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی سب شامل تھے، اس تاریخی قتل عام کا دکھ اعتدال پسند ہندوؤں اور مسلمانوں کو یکساں تھا۔ تقسیم سے پیدا ہونے والی منافرت کی آگ کو مذہبی انتہا پسندوں نے بھڑکانے کی پوری کوشش کی لیکن دونوں ملکوں کے عوام کی اکثریت اعتدال پسند تھی اور تقسیم کے زخموں کو بھرنے کی قائل تھی۔ برصغیر کے ادیب شاعر اور دانشوروں نے بھی تقسیم سے پیدا ہونے والے مذہبی تضادات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ممبئی حملے بلاشبہ ایک سفاکانہ کارروائی تھے، لیکن بھارتی حکمران اس سانحے کو لے کر دونوں ملکوں میں تعلقات کی بحالی کی کوششوں کو جس طرح سبوتاژ کر رہے ہیں۔ اس کا نقصان دونوں ملکوں کے عوام ہی کو ہو گا۔ بدقسمتی سے بی جے پی کے برسر اقتدار آنے سے بھارت میں مذہبی انتہا پسند جماعتوں کو جو شہ مل رہی ہے اور وہ مذہبی منافرت میں اضافے کی جو شیطانی کوششیں کر رہے ہیں، انھیں ممبئی حملے کے حوالے سے بنائی جانے والی اس قسم کی فلموں سے اور شہ ملے گی۔
حیرت ہے کہ بھارت کی اعتدال پسند فلمی صنعت اس قسم کی نفرتیں پھیلانے والی فلموں کی حوصلہ افزائی کیسے کر رہی ہے؟ بھارت میں ہندو مسلمانوں اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان محبت اور مذہبی یکجہتی پیدا کرنے والی طاقتیں موثر طور پر اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ میں ذاتی طور پر ایسے بہت سارے لوگوں کو جانتا ہوں جو دونوں ملکوں کے عوام میں بھائی چارہ پیدا کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے ہوئے ہیں۔