کرکٹرز نے سر شرم سے جھکا دیے

بھارت میں اسکواڈ کو حقیقی سیکیورٹی خدشات لاحق ہیں انھیں جواز بناکر ایونٹ سے دستبردار ہو جائیں


Saleem Khaliq March 04, 2016
کاش میاں صاحب اب ایکشن میں آئیں اور بورڈ حکام کو گھر بھیج کر اچھے لوگوں کو سامنے لائیں. فوٹو : اے ایف پی

'' یہ ۔۔۔۔۔ پیسے کھا کر ہار جاتے ہیں، ان کو ملک کا کوئی خیال نہیں، ان کی ساری جائیدادیں ضبط کر لینی چاہئیں، بتائیں اب یہ وقت آ گیا کہ وہ بنگلہ دیشی بچے جن کو ہم نے ٹیسٹ اسٹیٹس دلایا ان سے بھی ہار جاتے ہیں، کم از کم میں تو اب کرکٹ نہیں دیکھوں گا''

قارئین ایشیا کپ کے فائنل کی دوڑ سے باہر ہونے پر مجھے دفتر میں دل جلے شائقین کی جو فون کالز موصول ہوئیں یہ ان میں ایک کی تفصیل ہے، میں تصور کر سکتا تھا کہ اس وقت وہ بیچارہ شائق غصے کی آگ میں جل رہا ہو گا، میں نے اسے سمجھایا کہ دل چھوٹا نہ کرو اچھے دن بھی آئیں گے مگر وہ کچھ سننے کو تیار نہ تھا، اس جیسے ہزاروں لوگ ہوں گے جن کے دل خون کے آنسو رو رہے ہیں، مگر افسوس اختیارات کے حامل لوگ چین کی بانسری بجا رہے ہیں،ٹیم کی حالیہ کارکردگی کا ہر محب وطن پاکستانی کی طرح مجھے بھی بہت دکھ ہے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا تھا کہ بنگلہ دیش سے ایشیا کپ کا میچ ہار کر فائنل کی دوڑ سے باہرہو جائینگے؟ سب کو یہ لگتا تھا کہ بھارت سے شکست ہو گئی مگر میزبان کو آسانی سے زیر کرلیں گے، میں ٹی وی پر میچ دیکھ کر خود کو بیحد بے بس محسوس کر رہا تھا، تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرے اسٹیڈیم میں ایسی رسوائی پر میں شرمسار ہو گیا، مجھے ایسا لگا جیسے یہ سب میرا مذاق اڑا رہے ہیں، مجھے یقین ہے یہی کیفیت ملک سے محبت کرنیوالے تمام شائقین کی ہو گی، مگر افسوس پلیئرز اور مینجمنٹ ایسے جذبات سے محروم تھی، انھیں کوئی اندازہ نہ تھا کہ ملک میں لاکھوں مداحوں کے دل پر کیا بیتی ہے۔

کیا کوئی پاگل ہے جو ٹیم کی شکست پر اپنی محنت سے کمائی ہوئی رقم سے خریدا ہوا ٹی وی سیٹ توڑ دیتا ہے، یقیناً اس کے دل پر جو بیتی ہو گی اس کا غصہ نکالا مگر حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، جو لوگ حالیہ ہار پر ماتم کر رہے ہیں انھیں یاد دلاتا چلوں کہ اسی بنگلہ دیش نے پاکستان کو گذشتہ برس کلین سوئپ شکست بھی دی تھی اس وقت بھی کسی پر کوئی اثر نہیںہوا تھا، اب بھی کوئی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں،کپتان شاہد آفریدی کی کارکردگی مایوس کن ہے، وہ ورلڈ ٹوئنٹی 20 کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے مگر اتنے بڑے کھلاڑی کو اتنا بے بس دیکھ کر بیحد افسوس ہوتا ہے، قیادت کے بوجھ کی وجہ سے وہ اپنے انفرادی کھیل پر توجہ نہیں دے پا رہے۔

جس سے مسائل بڑھ رہے ہیں، انھیں تبدیل کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں مگر اس مرحلے پر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا،اس وقت آپ دنیا کے بہترین کپتان کو پاکستان ٹیم کی باگ ڈور سونپ دیں وہ بھی کچھ نہیں کرسکتا، اب تبدیلی کا وقت نکل چکا میگا ایونٹ چند دنوں بعد ہی شروع ہونیوالا ہے، مختصرطرز کے ساتھ ون ڈے میں بھی ٹیم کی کارکردگی روبہ زوال ہے، ٹیسٹ ٹیم یو اے ای میں جیت کر خوش ہوجاتی ہے، ان سب میں ایک مشترک شخص کوچ وقار یونس ہیں جنھوں نے پاکستانی کرکٹ کا بیڑا غرق کر دیا اور اسے کئی برس پیچھے لے گئے، سابق عظیم پیسر نے اپنی انا کو تسکین پہنچانے کیلیے کئی کھلاڑیوں کا اعتماد خراب کیا، وہ کوئی فاسٹ بولر تیار نہ کر سکے، اب کروڑوں روپے بٹورکر اپنے دوسرے ملک آسٹریلیا واپس جانے کیلیے تیار بیٹھے ہیں۔

سیاستدان بدنام ہیں کہ لوٹ کھسوٹ کر ملک سے باہر چلے جاتے ہیں ہمارے بعض سابق کرکٹرز کیاکر رہے ہیں؟ جب انھیں بیرون ملک کوئی گھانس نہیں ڈالتا تو وطن کی یاد آ جاتی ہے پھر پیسے جمع کر کے باہر جاکر اسے برا بھلا کہتے ہیں، برطانیہ میں طویل عرصے رہنے والے مشتاق احمد بھی برسوں ٹیم کیساتھ رہے مگر کوئی اسپنر تیار نہیں کیا،ایک اور برطانیہ پلٹ سابق کرکٹر محمد اکرم بھی کافی عرصے پاکستان کرکٹ سے منسلک رہے۔

کوئی کامیابی نہ پائی اور پھر کمنٹری کی جانب واپس چلے گئے، گرانٹ فلاور نے بھی اپنا بینک بیلنس خوب بڑھایا مگر بیٹسمینوں کی کارکردگی میں نکھار نہ لا سکے،ان سب کو لانے والے پی سی بی حکام اب بغلیں جھانک رہے ہیں، ایسے میں سابق کرکٹرز کے رویے پر بھی سوالات اٹھتے ہیں، ماضی میں بڑی بڑی باتیں کرنیوالے اب ٹی وی انٹرویوز اور اخباری بیانات کے عوض باقاعدہ بورڈ سے معاوضہ وصول کرتے ہیں، کھانے کی رسیدوں کی طرح سی ڈی اور اخباری تراشے ارسال کیے جاتے ہیں، انھیں ماہانہ لاکھوں روپے تنخواہ ، کار و دیگر مراعات الگ ملتی ہیں، شعیب اختر کیلیے سب کچھ برا تھا مگر جیسے ہی بورڈ نے جرمانے کی رقم واپس کی تمام معاملات مثالی ہو گئے، جسے جاب ملے بورڈ کے گن گاتا ہے نہ ملے تو مخالفانہ بیانات دے کر نوکری کی آس لگا لیتا ہے۔

میرا سپر لیگ کی رنگینیوں میں کھونے والوں سے بھی ایک سوال ہے کہ اس کا کیا فائدہ ہوا؟ ٹی ٹوئنٹی طرز کے ہی ایشیا کپ میں کس پی ایس ایل اسٹار نے اچھا پرفارم کیا؟ یواے ای میں کھیل کر ٹیم بنگلہ دیش آئی اب بھارت چلی جائے گی، مسلسل کرکٹ کھیلنے کا فائدہ ہو گا یا نقصان؟ دراصل بورڈ حکام سے کوئی پوچھنے والا نہیں اسی لیے انھوں نے من مانیاں کیں،اب بھی پتا ہے کہ کچھ نہیں ہوگا اس لیے عوامی جذبات ٹھنڈے ہونے کا انتظار کرتے ہوئے خاموش بیٹھے ہیں،کم از کم چیف سلیکٹر ہارون رشید سے تو باز پرس کئی جائے کہ بھائی تم خرم منظور اور شرجیل خان کو کس بنیاد پر ٹیم میںلائے؟ سمیع میں کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں کہ 6،7کم بیک کر چکا۔

اگر وہ اتنے عظیم بولر ہوتے تو کیوں بار بار ٹیم سے باہر ہوتے، اب زیادہ کیا کہوں مگر 19ویں اوور میں 2 نو بالز، فری ہٹس اور اس سے قبل ایک چوکا چھوڑنا،اگر یہ غلطیاں عامر سے ہوتیں تو اب تک لوگ کیا کچھ کہہ چکے ہوتے، سمیع اتنے سینئر کھلاڑی ہیں افسوس ایسی غلطیاںکر بیٹھے، ہارون صاحب سے پوچھنا چاہیے کہ جناب یہ انور علی کون سا آل رائونڈ ر ہے، جو بیٹنگ نہ ہی بولنگ میں کچھ کرتا ہے،اسی طرح حفیظ اب بولنگ تو کر نہیں رہے بیٹنگ میں بھی ناکام ہیں، انھیں کیوں الوداع نہیں کہا جا رہا، چیف سلیکٹر نے حال ہی میں کہا تھا کہ نان پرفارمر جو بھی ہوا اسکواڈ سے باہر کردیا جائے گا، اب انتظار ہے کہ کب اپنے دعوے کو عملی جامہ پہناتے ہیں۔

ویسے اس صورت میں وہ 8،10 کھلاڑیوں کا متبادل کیسے لائیں گے، یہ بھی ایک اہم سوال ہے،ہارون رشید اب کچھ عرصے بعد شاید دوبارہ گیم ڈیولپمنٹ کا شعبہ سنبھال لیں ورنہ کمنٹری کا کام تو ہے ہی، مگر ٹیم کی اس کارکردگی کا حساب کون دے گا؟ شہریار خان 80 سال سے زائد العمرہو چکے کیا سنچری مکمل کر کے بورڈ سے رخصت ہوںگے؟ نجم سیٹھی پی ایس ایل کا کریڈٹ خود لے رہے ہیں ٹیم کی ناکامیوں کی ان کو بھی ذمہ داری قبول کرنا چاہیے، بورڈ حکام اور ٹیم مینجمنٹ میں اگر تھوڑی سی بھی شرم باقی ہے تو اب تو عہدے چھوڑ دیں کچھ تو شائقین کا دکھ کم ہو گا، شائقین کو تو اب ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی فکر کھائے جا رہی ہے وہاں مزید رسوائیاں ٹیم کی منتظر ہیں۔

ایسے میں ایک سنہری موقع ملا ہے، بھارت میں اسکواڈ کو حقیقی سیکیورٹی خدشات لاحق ہیں انھیں جواز بناکر ایونٹ سے دستبردار ہو جائیں،اس سے کچھ تو عزت رہ جائے گی، شہریارخان پہلے بھارت سے سیریز کیلیے منت سماجت کر کے ملک کا مذاق اڑاتے رہے، اب دھمکیاں ملنے کے باوجود اسکواڈ کو بھیجنے کیلیے بے چین ہیں، وہ یہ کیوں نہیں سوچ رہے کہ اگر کسی کھلاڑی کو بھارت میں کچھ ہو گیا تو ایٹمی صلاحیت کے حامل دونوں ملک کیاکر سکتے ہیں؟

وزیر اعظم کرکٹ کے سرپرست اعلیٰ ہیں مگر نجانے کیوں معاملات اس نہج پر پہنچنے کے باوجود وہ کوئی نوٹس نہیں لے رہے، کاش میاں صاحب اب ایکشن میں آئیں اور بورڈ حکام کو گھر بھیج کر اچھے لوگوں کو سامنے لائیں، اسی صورت مستقبل میں خوشگواردنوں کی توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں۔