شمالی کوریا اور ایٹمی جنگ کا خطرہ

شمالی کوریا نے امریکی و جنوبی کوریا سمیت اپنے دشمنوں پر ایٹمی جنگ مسلط کرنے کی دھمکیاں کئی بار دی ہیں۔


Editorial March 06, 2016
عالمی امن کے ٹھیکیداروں کو شمالی کورین قیادت سے مکالمہ کی نئی بنیاد تلاش کرنی چاہیے، یہی سلامتی کا راستہ ہے۔ فوٹو: فائل

ایک اطلاع کے مطابق اقوام متحدہ کی نئی پابندیوں کے بعد شمالی کوریا نے ایٹمی حملے کے لیے فوج کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیدیا جس کے بعد شمالی کوریا کی طرف سے ایٹمی حملے کی تیاری کی خبر پر عالمی امن کے قیام کی کوششوں کے خواہاں ترقی یافتہ ممالک اسے ایشیا میں جنگ چھڑنے کا خطرہ قرار دے رہے ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ شمالی کوریا نے امریکی و جنوبی کوریا سمیت اپنے دشمنوں پر ایٹمی جنگ مسلط کرنے کی دھمکیاں کئی بار دی ہیں۔

اس جارحانہ عسکری و جوہری حکمت عملی کا سبب عدم تحفظ اور ایٹمی ملکوں کے کلب کی اجارہ داری اور اسلحہ سازی کی صنعتوں کی سامراجی و استعماری ظالمانہ ترجیحات ہیں، یہ ان ہی کا شاخسانہ ہے کہ جنوبی و شمالی کوریا کی کشیدگی دونوں ملکوں کے عوام کو خوشحالی، امن و آسودگی اور پر امن بقائے باہمی کے عالمی آدرش سے کوسوں دور لے گئی ہے جب کہ امریکا کی چھتر چھایا تلے جنوبی کوریا کو شمالی کوریا اپنا بدترین دشمن گردانتا ہے۔

حالانکہ اصل گھناؤنا کردار سرد جنگ کے مضمرات اور امریکی جنگی پالیسیوں کا ہے، اگرچہ امریکا نے شمالی کوریا کی جانب سے اس دھمکی کو زیادہ اہمیت نہیں دی تاہم یہ یاد رکھنا چاہیے کہ امریکا اور شمالی کوریا کی مخاصمت خاصی پرانی ہے اور سرد جنگ کے زمانے سے امریکا اور شمالی کوریا کے تعلقات سخت کشیدہ چلے آ رہے ہیں، شمالی کوریا کو خطرہ ہے کہ امریکا اسے جنوبی کوریا کے ہاتھوں فتح کرا کے ویت نام بنانا چاہتا ہے، دوسرا تضاد سپر پاورز کی تخفیف اسلحہ کا ہے، وہ خود جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنے پر رضامند نہیں مگر پاکستان سمیت تیسری دنیا کے ہر ملک کو جوہری توانائی اور صلاحیت سے محرومی پر مصر ہیں تا کہ ان کے ایٹمی گلشن کا کاروبار چلتا رہے۔

سوال یہ ہے کہ ایٹمی قوت بننے والے ملکوں یا اقوام متحدہ کو اپنا انداز فکر بدل کر پسماندہ ملکوں کے عوام کو غربت اور بھوک و بیماریوں سے نجات دلانے کے لیے اقتصادی و سماجی ترغیبات اور پرکشش بیل آؤٹ کا کوئی آپشن ہے؟ وہاں تو صرف بالادستوں کی پابندیاں ہیں جب کہ محدود وسائل یا چھوٹے غریب، پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں کے ایٹمی قوت بننے کے جنون کی ایک وجہ آئیسولیشن کی ہے، یوں ان کے دستیاب وسائل تک جنگی تیاریوں میں خرچ ہو رہے ہیں۔

ان میں شمالی کوریا سرفہرست ہے جہاں تیل کے ذخائر یا معدنی وسائل نہیں، مگر اس کی فوج دنیا کی اب بھی بڑی طاقتور فوجوں میں شمار ہوتی ہے، عوام بدحال ہیں، بلاشبہ شمالی کوریا کی ایٹمی ہتھیاروں، دور مار میزائلوں اور دیگر عسکری تیاریوں کے باعث عالمی امن کو سنگین خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، شمالی کوریا کو غیر ایٹمی معاشی پیکیج پیش کیجیے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق شمالی کوریا صدر کم جونگ ال نے اقوام متحدہ کی طرف سے نئی پابندیوں پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

اس موقع پر انھوں نے کہا کہ شمالی کوریا کو دشمن سے شدید خطرات کا سامنا ہے جس کے لیے ملکی افواج کسی بھی وقت ایٹمی حملے کے لیے تیار رہیں۔ ضرورت شمالی کوریا کو جنگی راستہ ترک کرنے پر آمادہ کرنے کی ہے۔

امریکی امن انسٹیٹیوٹ کی ایک رپورٹ میں سلیگ ہیریسن، مائیکل ہینلن اور مائیک میچیزوکی نے شمالی کوریا کے ایٹمی ایشو کو دیرینہ کورین تنازع کی بنیاد سے جڑا ہوا قرار دیا ہے، اس لیے جب تک شمالی و جنوبی کوریا کے مابین صلح، امن و مفاہمت میں پیش رفت نہیں ہو گی ایٹمی دھمکیوں کا سلسلہ کوئی نہیں روک سکتا، عالمی امن کے ٹھیکیداروں کو شمالی کورین قیادت سے مکالمہ کی نئی بنیاد تلاش کرنی چاہیے، یہی سلامتی کا راستہ ہے۔